کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ سونا خریدنے کا حکم:
Question
اگر کوئی شخص کریڈٹ کارڈ کے ذریعہ سونا خرید لے تو یہ عقد جائز ہوگا یا نہیں؟ یعنی کیا اس پر بیع صرف کے احکام جاری ہوں گے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
ڈیبٹ کارڈ جب بائع نے مشتری سے وصول کرکیا اور اس کا نمبر بینک کو بتلا دیا اور بینک نے مشتری کی رقم جو بینک میں پڑی ہے بائع کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی تو بائع قبضہ ہو گیا، لہذا یہ جائز اور درست ہے ۔ البتہ کریڈٹ کارڈ میں رقم دوسرے دن بائع کے اکاؤنٹ میں آئے گی، ہاں رسید پر قبضہ ہو جاتا ہے جو قبضہ حکمی کے مترادف ہے نیز در حقیقت یہ بیع صرف بھی نہیں ہے کیوں کہ عقد صرف میں دونوں جانب ثمن حقیقی یعنی ذہب و فضہ میں سے ایک ہو اور یہاں ایک طرف سونا اور دوسری طرف ثمن عرفی ہے ثمن عرفی ثمن حقیقی کے حکم میں نہیں، اس پر مجلس میں قبضہ ضروری نہیں ۔ ہاں عوضین میں سے کسی ایک پر مجلس عقد میں قبضہ کرنا ضروری ہے تاکہ بیع الدین بالدین لازم نہ آئے ۔ ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:
عقد الصرف بيع الثمن بالثمن أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ جنساً بجنس أو بغير جنس كذهب بفضة. (الدر المختار: ۵/۲۵۷، سعيد).
بدائع الصنائع میں ہے:
فالصرف في متعارف الشرع اسم لبيع الأثمان المطلقة بعضها ببعض وهو بيع الذهب بالذهب والفضة بالفضة. (بدائع الصنائع: ۵/۲۱۵، سعيد).
وفي رد المحتار: سئل الحانوتي عن بيع الذهب بالفلوس نسيئة فأجاب بأنه يجوز إذا قبض أحد البدلين. (فتاوى الشامي: ۵/۱۸۰، باب الربا، سعيد).
وفي المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: إذا اشتري الرجل فلوساً بدراهم ونقد الثمن ولم تكن الفلوس عند البائع فالبيع جائز لأن الفلوس الرائجة ثمن كالنقود
وبيع الفلوس بالدراهم ليس بصرف. (المبسوط: ۱٤/۲٤).
وللاستزادة انظر: (المحيط البرهاني: ۷/۲٦۸. والفتاوى الهندية: ۳/۲۲٤، وفتاوى عثماني و
جدید معاملات کے شرعی احکام
، كما مر).
کریڈٹ کارڈ کے تفصیلی احکام ابو اب الربا کے تحت ملاحظہ فرمائیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
أبواب الربا
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.