تجارتی لائسنس اور پنشن کو فروخت کرنے کا حکم:
Question
تجارتی لائسنس اور پنشن وغیرہ کو فروخت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
Answer
(۱) کاروباری سہولت اور آسانی کے لیے تاجر یا کمپنی حکومت سے لائسنس منظور کرا لیتی ہے، اور اس لائسنس کی وجہ سے مال درآمد (امپورٹ) اور برآمد (ایکسپورٹ) کرنے میں سرکاری رکاوٹ سے حفاظت ہوتی ہے، لیکن لائسنس کوئی مادی چیز نہیں، بلکہ دوسرے شہر یا مارکیٹ میں سامان بیچنے اور منتقل کرنے یا دوسرے ملک یا شہر سے مال خرید کر لانے کے حق کا نام ہے، اور یہ ایک ایسا حق ہے جس کے حاصل کرنے میں کافی کوشش اور رقم بھی خرچ کرنی پڑتی ہے، اس لیے درج ذیل وجوہات کی بنا پر لائسنس کی خرید و فروخت جائز ہے۔
(۱) از روئے قانون اس کی فروخت درست ہو، اگر قانوناً اس کی خرید و فروخت کی اجازت نہ ہو تو پھر جائز نہیں ہے۔ مثلاً کسی مخصوص فرد یا مخصوص کمپنی کے نام ہو اور قانون دوسری کمپنی کی طرف اس کی منتقلی کی اجازت نہ دیتا ہو تو اس لائسنس کی بیع جائز نہ ہو گی۔
(۲) مارکیٹ میں اس کی فروخت کا رواج پایا جاتا ہے، اور تاجروں کے عرف میں "تجارتی لائسنس" کے ساتھ مال جیسا معاملہ کیا جاتا ہے، لہذا یہ مال کے حکم میں ہے۔
(۳) یہ قابل انتفاع ہے از روئے شرع اس سے فائدہ اٹھانا ممنوع نہیں ہے۔
(٤) یہ حق اصحابِ حق کو اصالۃً حاصل ہے، دفع ضرر کے لیے نہیں ہے، اور فی الحال موجود بھی ہے۔
(۵) قابل ادخار "جمع کرنے کے لائق ہے، کیوں کہ تجارتی لائسنس تحریری سرٹیفکٹ یا رجسٹری کے ذریعہ قانونی طور پر محفوظ کیا جاتا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فقہی مقالات:
۱
/
۲۲۲
۔ و جدید فقہی مسائل:
٤
/
۱۸۸
۔ و حقوق اور ان کی خرید و فروخت، ص
۱۹۳
۔ و ایضاح النوادر
۱
/
٤۳
۔ و نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے، ص
۱۰۵
)۔
پنشن فروخت کرنے کا حکم:
(۲) پنشن کی بیع کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: (۱) حکومت کے ہاتھ فروخت کرتا ہے تو یہ در حقیقت بیع نہیں ہے بلکہ تبرع مؤجل کو معجل بنانا ہے، شرعی طور پر حکومت کی رضامندی سے جائز اور درست ہے۔ (۲) حکومت کے علاوہ کسی اور کو فروخت کرنا جائز نہیں ہے، اولاً تو حکومت خود راضی نہیں ہوتی ہے، اور ثانیاً اس میں چند خرابیاں ہیں، مثلاً ایک ملک کی کرنسی کی بیع اس ملک کی کرنسی کے ساتھ نسیئۃً جائز نہیں ہے۔ وغیرہ۔
ملاحظہ ہو احسن الفتاوی میں ہے:
پنشن ایک قسم کا انعام ہے، جب تک ملازم کا اس پر قبضہ نہ ہو وہ اس کا مالک نہیں بنتا، اس لیے اس کی بیع جائز نہیں ہے، البتہ خود حکومت سے اس کی بیع کرنا حقیقت میں بیع نہیں، صرف نام اور صورت بیع کی ہے، اس کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے جو بڑا انعام قسط وار دینے کا وعدہ کیا تھا اب اس کو کم مقدار میں یک مشت نقد دے رہی ہے، اس لیے حکومت سے یہ معاملہ جائز ہے۔ (احسن الفتاوی:
٦
/
۵۲۱
)۔
امداد الفتاوی میں ہے:
حکومت واپس خرید لیتی ہے اس کے بارے میں فرمایا: یہ صورۃً بیع ہے، ورنہ حقیقت میں گورنمنٹ کی طرف سے تبرع مستقل ہے اس لیے گورنمنٹ کی رضامندی سے جائز ہے۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
۵۸۰
، مسائل شتی)۔
مزید ملاحظہ ہو: (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
٦
/
۵۳
، ملازم کا اپنی پنشن حکومت کو بیچنا جائز ہے، و اسلام اور جدید معاشی مسائل:
٤
/
۱٦۸
۔ و فتاوی حقانیہ:
٦
/
۳۹
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.