گڈ وِل اور ٹریڈ مارک فروخت کرنے کا حکم:

11 min readFatwa Vol 5 #129Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۷): بیع الحقوق کا بیان

Question

کیا شریعت میں تجارتی نام (Goodwill) اور تجارتی علامت (Trade mark) کو فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

عصر حاضر میں تجارتی ترقی کے ساتھ تجارتی نام اور تجارتی علامت کا مسئلہ پیدا ہوا، ایک تاجر یا ایک کمپنی مال تیار کرتی ہے اور تیار کردہ مال پر اپنا نام اور علامت لگاتی ہے، جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بازار میں پہچانا جائے کہ یہ فلاں کمپنی کا مال ہے اور اس کی وجہ سے رغبت و شہرت پیدا ہوتی ہے، اور عمدہ مال تیار کرنے کی وجہ سے رفتہ رفتہ وہ کمپنی ایک مقام حاصل کر لیتی ہے، پھر جب سے عام لوگوں کے دھوکہ کھانے کا مسئلہ پیدا ہوا تو حکومت کی جانب سے ٹریڈ مارک اور گوڈ ول کا رجسٹریشن ہونے لگا اور تاجروں کو دوسروں کے رجسٹرڈ کرائے ہوے ناموں اور علامتوں کو استعمال کرنے سے منع کر دیا گیا، اگر دوسرے لوگ اس نام کو استعمال کریں تو کاروباری اعتبار سے یہ بہت بڑا غرر اور خدع ہے اور خریداروں کے ساتھ دھوکہ ہے، شریعتِ مطہرہ کے قانونی معاملات میں ایک اہم قانون یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی کام نہ کیا جائے جو دوسروں کے لیے دھوکہ دہی کا باعث ہو، اس لیے رجسٹریشن کرانا عین مطابق شرع ہے، پھر چونکہ یہ ایک حق محفوظ ہے اور اس کی شہرت کی وجہ سے اس سے معاشی مفاد بھی وابستہ ہو گیا ہے، اس لیے اس کو مال کے حکم میں قرار دیتے ہوے اس کی خرید و فروخت کی اجازت دی جائے گی ۔
فقہاء نے مال کی مختلف تعریفات بیان فرمائی ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعاً

وفي البحر عن الحاوي القدسي: المال اسم لغير الآدمي خلق لمصالح الآدمي، وأمكن إحرازه والتصرف فيه على وجه الاختيار. (فتاوى الشامي: ٤/۵۰۱، مطلب في تعريف المال، سعيد).

مجمع الانہر کے حاشیہ میں ہے:

والمراد بالمال عين يجري فيه التنافس والابتذال. (الدرر المنتقي بهامش مجمع الأنهر: ۲/۳).

علامہ ابو بکر کاسانی رحمه الله فرماتے ہیں:

منها أن يكون مالاً

وسواء كان المال عيناً أو منفعة عند عامة العلماء. (بدائع الصنائع: ۷/۳۵۲، كتاب الوصايا، سعيد. وكذا في كتاب الصلح، ٦/٤۲، سعيد).

مذکورہ بالا عبارت میں ملک العلماء علامہ ابو بکر کاسانی رحمه الله نے منفعت کو بھی مال تسلیم کیا ہے ۔
شیخ مصطفی زرقا نے مال کی تعریف میں بہت زیادہ تعمیم سے کام لیا ہے ۔ ملاحظہ ہو:

والتعريف الصحيح يمكن أن يستنبط من مجموع ما ذكره الفقهاء عن المال وخصائصه في مختلف المناسبات، فقد قالوا: إن المال اسم لغير الآدمي

الخ. (المدخل الفقهي العام: ۳/۱۱۵).

شیخ مصطفی زرقا نے فرمایا: فقہاء کے تمام اقوال کو پیش نظر رکھ کر، نیز مختلف مواقع پر ذکر کردہ اس کی خصوصیات کو مدِ نظر رکھ کر مال کی صحیح تعریف کی جائے تو یہ کہا جائے گا کہ: مال نام ہے انسان کے ما سوا تمام چیزوں کا ۔
مولانا خالد سیف اللہ فرماتے ہیں کہ مال ہونے کے لیے تین بنیادی عناصر ہیں: (۱) اول یہ ہے وہ شرعاً مباح ہو ۔ (۲) دوسرا یہ ہے کہ وہ شے قابل انتفاع ہو ۔ (۳) تیسرا عنصر یہ ہے کہ عرف میں جس شے کی خرید و فروخت مروج ہو جائے وہ مال ہے ۔ اور یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ فقہ کے چاروں دبستان اس پر متفق ہیں ۔ (جدید فقہی مسائل:
٤
/
۱۷۱
) ۔
حقوق اور ان کی خرید و فروخت میں مولانا عمر عابدین قاسمی لکھتے ہیں:
پس اس پوری بحث کا حاصل یہ ہے کہ: (۱) جمہور کے نزدیک مال کے علاوہ منافع اور حقوق کی بھی خرید و فروخت ہو سکتی ہے ۔
(۲) اگر بیع کے لیے مال ہونا ہی ضروری ہو تو فقہاء کی عبارتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خود مال میں حقوق و منافع بھی شامل ہیں، یہ نہ صرف ائمہ ثلاثہ کا مسلک ہے، بلکہ حنفیہ کے یہاں بھی اس کی نظیریں موجود ہیں ۔
ملاحظہ ہو: (
فتح القدير: ٦/٤۲۹، بيع الطريق وهبته

، دار الفكر. والدر المختار: ٤/۱۳۲، سعيد. وفتاوى الشامي: ۵/۸۰، وصح بيع حق المرور

الخ، سعيد. والعناية بهامش فتح القدير: ٦/٤۲۹، دار الفكر. والفتاوى الهندية: ۳/۱۳۱، ٦/۲۹٤. وتبيين الحقائق: ٤/۵۲، ملتان. ومنحة الخالق: ۵/۲۳٤. ۲۳۵، كوئته).

(۳) کسی شے کے مال ہونے میں عرف و رواج کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔
(٤) قابل ادخار ہونے کی کوئی ایک ہی صورت متعین نہیں، کسی چیز کا قانونی طور پر محفوظ ہو جانا بھی قابل ادخار ہونے کے لیے کافی ہے ۔ (حقوق اور ان کی خرید و فروخت، از مولانا عمر عابدین قاسمی، ص
۱٤۱
) ۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
اپنے کاروبار کا کوئی نام رکھنے کا ہر شخص کو حق حاصل ہے، لیکن اگر ایک شخص نے اپنے کاروبار کا نام "عطرستان" یا ــ "گلشن ادب" رکھ لیا اور اس سے اس کا تجارتی مفاد وابستہ ہو گیا تو دوسرے شخص کو وہ نام رکھنے کا حق نہیں رہا اور جب کہ ایک خاص نام کے ساتھ مستقبل میں تحصیل مال اور تجارت مقصود ہے تو گڈول کا معاوضہ جائز ہے ۔ (امداد الفتاوی:
۳
/
۱۲۰
) ۔
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں:
حقوق کی بیع درج ذیل شرطوں کے ساتھ جائز ہونی چاہیے: ۔
(۱) وہ حق فی الحال ثابت ہو مستقبل میں متوقع نہ ہو ۔
(۲) وہ حق صاحب حق کے لیے اصالۃً ثابت ہو، جیسے قصاص اور میراث، وغیرہ، محض دفع ضرر کے لیے ثابت نہ ہو جیسے حق شفعہ، خیارِ مخیرہ وغیرہ ۔
(۳) وہ حق دوسرے کی طرف منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔
(٤) قابل تحدے د یعنی غرر یا جہالت کو مستلزم نہ ہو ۔
(۵) تاجروں کے عرف میں لین دین کے سلسلہ میں اس حق کو اموال و اعیان کی حیثیت حاصل ہو ۔ (فقہی مقالات:
۱
/
۱۹۲
) ۔
بعض متاخرین علماء فرماتے ہیں کہ مناسب یہ ہے کہ خرید و فروخت کی بجائے دستبرداری پر عوض لے لیا جائے ۔ اور انہوں نے اس مسئلہ کو نزول عن الوظائف والے مسئلہ پر قیاس فرمایا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:

وفي الأشباه: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة، وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف، وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة: المذهب عدم اعتبار العرف الخاص، لكن أفتى كثير باعتباره، وعليه فيفتي بجواز النزول عن الوظائف بمال. (الدر المختار: ٤/۵۱۸، ۵۱۹، سعيد. وكذا في الأشباه: ۱/۲۸٦).
وفي "الفقه الحنفي في ثوبه الجديد": فالسؤال الآن: هل يجوز بيع الاسم التجاري أو العلامة التجارية؟
وظاهر أن الاسم والعلامة ليس عيناً مادياً، وإنما هو عبارة عن حق استعمال هذا الاسم أو العلامة، وهذا الحق ثبت لصاحبه إصالة بحكم الأسبقية والتسجيل الحكومي، وهو حق ثابت في الحال، وليس متوقعاً في المستقبل، وهو حق يقبل الانتقال إلى آخر، ولكنه ليس حقاً ثابتاً في عين قائمة، فعلي ضوء القواعد التي استخلصناها من كلام الفقهاء ينبغي أن يجوز الاعتياض عنه عن طريق التنازل دون البيع. وبهذا أفتي شيخ مشايخنا العلامة أشرف على التهانوى رحمه الله وقاسه على مسألة النزول عن الوظائف بمال، وحكي فيه عبارة ابن عابدين رحمه الله التي نقلها في مسألة النزول عن الوظائف. (الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/۳۷، بيع الاسم التجاري والعلامة التجارية، دمشق).

امداد الفتاوی میں ہے:
اور کار خانے کا نام بھی مشابہ حق وظائف کے ہے کہ ثابت علی الاصالۃ ہے نہ کہ دفع ضرر کے لیے، اور دونوں بالفعل امور اضافیہ سے ہیں، اور مستقبل میں دونوں ذریعہ ہیں تحصیل مال کے، پس اس بنا پر اس عوض کے دینے میں گنجائش معلوم ہوتی ہے، گو لینے والے کے لیے خلافِ تقوی ہے، مگر ضرورت میں اس کی بھی اجازت ہو جائے گی ۔ (امداد الفتاوی:
۳
/
۱۱۹
) ۔
صاحب ہدایہ کی ایک عبارت سے بھی اس کی طرف اشارہ ملتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں:

وإذا أقعد الخياط أو الصباغ في حانوته من يطرح عليه العمل بالنصف فهو جائز لأن هذه شركة الوجوه في الحقيقة فهذا (الخياط أو الصباغ) بوجاهته يقبل (أي العمل من الناس) وهذا (أي من يطرح عليه العمل) بحذاقته يعمل فينتظم بذلك المصلحة فلا تضره الجهالة فيما يحصل. (الهداية: ۳/۳۱۷، كتاب الإجارة).

یعنی جس طرح وجاہت شہرت اور رغبت کا ذریعہ ہے جس کے عوض میں اجرت یعنی مال لینا جائز ہے، اسی طرح تجارتی علامت و تجارتی نام بھی ایک شہرت اور رغبت کا ذریعہ ہے، لہذا اس کے عوض بھی مال لینا جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ تجارتی علامت (ٹریڈ مارک) اور تجارتی نام (گوڈ ول) جب کہ حکومت کی طرف سے باقاعدہ رجسٹرڈ ہو تو اس کی خرید و فروخت یا اس کا عوض لینا دونوں طرح جائز اور درست ہے ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (جدید فقہی مسائل:
٤
/مال کی حقیقت اور حقوق کی خرید و فروخت، از
۱۵۷
تا
۱۹۰
۔ و جدید فقہی مباحث: ج
۳
۔ و فقہی مقالات، حقوق مجردہ کی خرید و فروخت،
۱
/
۱۵۹
تا
۲۲۸
۔ و رسالہ، حقوق اور ان کی خریدو فروخت، از مولانا عمر عابدین قاسمی ۔ و نظام الفتاوی:
۲
/
۳۱٤
۔ و فتاوی حقانیہ:
٦
/
٦۷
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.