تمر کو رطب کے عوض فروخت کرنے کا حکم:

7 min readFatwa Vol 5 #167Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب: سود کے احکام کا بیان

Question

اگر کوئی آدمی ایک صاع تمر "سوکھی کھجور" کو رطب "تازہ کھجور" کے عوض فروخت کرے تو امام ابو حنیفہ رحمه الله اس کو جائز کہتے ہیں، دوسرے ائمہ اور صاحبین رحمه الله ناجائز کہتے ہیں، صاحبین رحمه الله کا مسلک اس حدیث پر مبنی جس کو اکثر محدثین اور فقہاء نے نقل فرمایا ہے، حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

"عن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه أنه قال: سمعت رسول الله ﷺ يسأل عن شري التمر بالرطب، فقال: أينقص الرطب إذا يبس، قالوا: نعم، فنهاه عن ذلك رواه أصحاب السنن الأربعة، وقال الترمذي حسن صحيح. (شرح النقاية للملا علي القاري رحمه الله: ۳/ ۲٦٤، أبواب الربا).
امام صاحب اس حدیث کا کیا جواب دیتے ہیں؟ تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں؟

Answer

(۱) امام ابو حنیفہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ چونکہ عرف میں رطب تمر ہے اس لیے دونوں کو برابر فروخت کر سکتے ہیں، جب امام ابو حنیفہ رحمه الله بغداد گئے اور لوگوں نے یہ مسئلہ پوچھا تو مذکورہ بالا حدیث کی سند میں ابو عیاش کو ضعیف بتلایا مزید یہ بتلایا کہ اگر رطب تمر ہو تو دونوں کے تمر ہونے کی وجہ سے برابر فروخت کر سکتے ہیں، اور اگر تمر نہ ہو تو جنس مختلف ہونے کی وجہ سے جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔
لیکن ملا علی رحمه الله نے اس پر اشکال کیا کہ کبھی جنس ایک ہو اور پھر بھی بیع متساویاً جائز نہ ہو کیونکہ کیل مسوی نہیں جیسے بھنے ہوئے حنطہ کو بغیر بھنے ہوئے حنطہ کے عوض نہیں بیچ سکتے کیوں کہ ایک نیچے دبتی ہے اور دوسری نہیں، یعنی اگر حدیث نہ ہو تب بھی رطب بالتمر کیلاً ناجائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے جیسے حنطہ مقلیہ کو غیر مقلیہ کے عوض برابر بھی کیلا بیچ نہیں سکتے ۔
(۲) امام ابو حنیفہ رحمه الله نے مذکورہ بالا حدیث پر تنقید فرمائی کہ اس میں زید بن عیاش جس کو ابو عیاش بھی کہتے ہیں، مجہول ہیں، زرقی ہے یا مولی بنی زہرہ یا مولی بنی مخزوم ہیں، اس لیے ابن حزم نے فرمایا
"رجل مجهول"
اور حاکم نے کہا "
إن الشيخين لم يخرجا هذا الحديث لما خشيا من جهالة زيد بن عياش"
اس وجہ سے ابن حزم، طحاوی، طبری، عبد الحق اشبیلی نے روایت کو معلول قرار دیا ہے ۔
ابن عیاش کے دو تلمیذ ہیں، (۱) عمران بن انس اور (۲) عبد اللہ بن یزید، لیکن دو تلمیذ کی وجہ سے جہالتِ ذات ختم ہوئی جہالتِ صفت پھر بھی باقی ہے، نیز عمران بن انس نے عبد اللہ بن یزید سے دو باتوں میں اختلاف کیا:
پہلی بات یہ ہے کہ وہ مولی بنی مخزوم کہتے ہیں نہ کہ مولی بنی زہرہ ۔
دوسری بات یہ ہے کہ عمران بن انس نے نسیئۃ کا اضافہ کیا، لہذا یہ روایت قابلِ اعتماد نہیں، لیکن اس پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ امام مالک رحمه الله نے زید بن عیاش سے روایت لی ہے، جب کہ وہ اکثر ضعفاء سے روایت نہیں لیتے اور امام ترمذی رحمه الله نے حدیث کی تصحیح کی اور ابن جوزی کہتے ہیں:

روي عنه عبد الله بن يزيد وعمران بن أبي أنس فكيف يكون مجهولاً مع تصحيح الترمذي لحديثه قال: فقد عرفه أئمة النقل، قلت: وقد صححه ابن حبان أيضاً وابن خزيمة والدارقطني وذلك يقتضي أنهم عرفوا حاله. (الدراية على الهداية: ۳/ ۸۳، باب الربا).

اشکال کا حاصل یہ ہے کہ جب بہت سارے حضرات نے زید بن عیاش کو قابل قبول کہا ہے تو حدیث کا ضعف شدید نہیں، نیز احناف تو ضعیف روایات سے بھی احکام میں استدلال کرتے ہیں، جیسے حدیث قہقہہ اور مسح علی الرقبہ، نیز یہاں تو باعتبار کیل دونوں میں برابری مشکل ہے کیوں کہ رطب متخلل ہے تمر دنبے والی ہے، تو احناف کے اصول کے موافق یہ ناجائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔
(۳) احناف کی طرف سے یہ جواب بھی دیا گیا ہے کہ چونکہ عمران بن انس کی روایت میں نسیۂ کا لفظ آیا ہے اس لیے نسیئۃً زیادت راوی ہے تو اس کو نسیئۃً ناجائز کہنا چاہیے، اور نقداً جائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔
اس پر یہ اشکال ہو سکتا ہے کہ دونوں روایتوں کو مان لیں جب ایک جنس ہو تو نسیئۃً ناجائز ہے اور جب مساوات نہیں ہو سکتی تو نقداً بھی ناجائز ہونا چاہیے ہونا چاہیے ۔
امام ابو حنیفہ رحمه الله کے مذہب کا تسلی بخش جواب بندہ کو علامہ عینی رحمه الله کے کلام میں ملا جو حسبِ ذیل ہے ۔
(٤) علامہ عینی رحمه الله نے کنز کی شرح میں تحریر فرمایا ہے:

وصح أيضاً بيع الرطب بالرطب متساوياً أو بيع الرطب بالتمر حال كونه متماثلاً في الوزن عند أبي حنيفة رحمه الله وقالا: لا يجوز لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع الرطب بالتمر وبه قالت الثلاثة. (رمز الحقائق في شرح كنز الدقائق: ۲/ ۶۰، باب الربا، إدارة القرآن).

یعنی اگر رطب کو تمر کے عوض وزن کے حساب سے برابر فروخت کریں تو یہ جائز ہے، کیوں کہ وزن میں برابری بالکل ہو سکتی ہے، تو اگر صاحبین رحمه الله کا قول کہ ناجائز ہے کیل پر محمول ہو اور امام ابو حنیفہ رحمه الله کا قول وزن پر تو اشکال ختم ہو جائے گا ۔
علامہ عینی رحمه الله سے دوسرے فقہاء نے بھی نقل کیا ہے:

قال ابن نجيم رحمه الله: وصح أيضاً بيع الرطب بالتمر حال كونه متماثلاً كيلاً كذا في غير كتاب، وقال العيني رحمه الله: وزناً. (النهر الفائق: ۳/ ٤۷٦).
وقال الفقيه أبو السعود المصري: قوله كيلاً، كذا في غير كتاب خلافاً للعيني رحمه الله حيث اعتبر بالوزن. (فتح المعين شرح ملا مسكين: ۲/ ٦۰۳).

ہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ احادیث میں رطب کے موزون ہونے کی طرف اشارہ ملتا ہے ۔
صحیح بخاری شریف میں ہے:

عن أبي البختري سألت ابن عباس رضي الله عنه فقال: نهي النبي ﷺ عن بيع النخل حتى يوكل منه أو يأكل منه وحتى يوزن. (رواه البخاري: ۱/ ۲۹۹، كتاب السلم).

اس سے پہلے یہ عبارت ہے:
عن أبي البختري الطائي قال: سألت ابن عباس عن السلم في النخل فقال: نهي النبي ﷺ عن بيع النخل حتى يوكل منه وحتى يوزن فقال الرجل: وأي شيء يوزن فقال رجل إلى جانبه: حتى يحرز. (رواه البخاري: ۱/ ۲۹۹، كتاب السلم).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.