دعوت و تبلیغ نہ کرنے پر جرمِ عظیم کا مرتکب قرار دینا:

7 min readFatwa Vol 1 #211Urdu
Vol. 1كتاب السلوك والطريقةباب ٣: دعوت و تبلیغ کا بیان

Question

تبلیغی حضرات فرماتے ہیں کہ امت نے دعوت کا کام چھوڑ کر جرمِ عظیم کیا اگر یہ فرضِ کفایہ ہو اور بعض کر رہے ہیں تو جرمِ عظیم کی تلافی ہوئی یا نہیں؟ اور یہ کام مستحب، فرض کفایہ، فرض عین یا واجب ہے؟

Answer

تبلیغ والوں کا مطلب یہ ہے کہ بعض جگہوں پر دعوت کا کام گھر گھر جا کر نہیں ہوا حالانکہ وہاں دعوت کی اہلیت رکھنے والے لوگ موجود تھے اس لیے اپنی جگہوں پر جہاں ضرورت تھی اور کسی نے کام نہیں کیا جرمِ عظیم تھا، اور یہ کام فرضِ کفایہ ہے ۔

قال الله تعالى: ﴿ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة﴾ (النحل: ۱۲۵).
﴿قل هذه سبيلي ادعوا لي الله على بصيرة انا ومن اتبعني﴾ (يوسف: ۱۰۸).
﴿ىبُني اقم الصلاة وأمر بالمعروف وانه عن المنكر واصبر على ما اصابك﴾ (لقمان: ۱۷).

بخاری شریف میں ہے:

وقال عليه الصلاة والسلام: ألا هل بلّغت؟ قلنا: نعم! اللهم اشهد فليبلّغ الشاهد الغائب، فإنه ربّ مبلّغ يبلّغه من هو أوعى منه. (بخاري رقم ۷۰۷۸).

ترمذی شریف میں ہے:

عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال: يا أيها الناس إنكم تقرؤون هذه الآية ﴿يا أيها الذين امنوا عليكم انفسكم لا يضرّكم من ضلّ إذا اهتديتم﴾ وإني سمعت رسول الله ﷺ يقول: إن الناس إذا رأوا الظالم فلم يأخذوا على يديه أوشك أن يعمهم الله بعقاب منه. (رواه الترمذي باب في نزول العذاب رقم: ۲۱٦۸).
التفسير المنير
میں ہے:

إن الدعوة إلى الإسلام ونشرها في آفاق العالم والأمر بالمعروف والنّهي عن المنكر من فروض الإسلام الكفائية. (التفسير المنير: ٤/۳۵، آل عمران، دار الفكر).

بیان القرآن میں مذکور ہے:
تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ جو شخص امر بالمعروف نہی عن المنکر پر قادر ہو یعنی قرائن سے غالب گمان رکھتا ہے کہ اگر میں امر و نہی کروں گا تو مجھ کو کوئی ضرر معتد بہ لا حق نہ ہوگا اس کے لیے امور واجبہ میں امر و نہی کرنا واجب ہے (۲) اور جو شخص بالمعنی المذکور قادر نہ ہو اس پر امر و نہی کرنا امور واجبہ میں بھی واجب نہیں البتہ اگر ہمت کرے گا تو ثواب ملے گا پھر قادر کے ذمہ اس کا وجوب علی الکفایۃ ہے، اگر اتنے آدمی اس کام کو کرتے ہو ں کہ بقدرِ حاجت کام چل رہا ہو تو دوسرے اہلِ قدرت کے ذمہ سے ساقط ہو جائے گا ۔ (
بيان القرآن: ۱/۱۰٤).

نیز امام ابوبکر جصّاص رحمہ اللہ نے احکام القرآن میں ذکر فرمایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:

قال الله تعالى: ﴿ولتكن منكم أمة يدعون إلى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر﴾ قد حوت هذه الآية معنيين أحدهما: وجوب الأمر بالمعروف والنّهي عن المنكر، والآخر: أنه فرض على الكفاية ليس بفرض على كل أحد في نفسه إذا قام به غيره لقوله تعالى: ﴿ولتكن منكم أمة﴾ وحقيقته تقتضي البعض دون البعض فدلّ على أنه فرض على الكفاية إذا قام به بعضهم سقط عن الباقين، ومن الناس من يقول هو فرض على كلّ أحد في نفسه والذي يدلّ على صحة هذا القول أنه إذا قام به بعضهم سقط عن الباقين كالجهاد وغسل الموتى وتكفينهم والصلاة عليهم ودفنهم، ولو لا أنه فرض على الكفاية لما سقط عن الآخرين بقيام بعضهم به (أحكام القرآن: ۲/۲۹).

شرح ریاض الصالحین میں ہے:

والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، فرض كفاية، إذا قام به من يكفي حصل المقصود، وإذا لم يقم به من يكفي وجب على جميع المسلمين، كما قال الله تعالى: ﴿ولتكن منكم أمة يدعون إلى الخير الخ﴾. (شرح رياض الصالحين للشيخ محمد بن صالح العثيمين: ۱/٤۸۳).

فتاوی محمودیہ میں مذکور ہے:
سوال: کیا تبلیغ فرض ہے؟
جواب: تبلیغِ دین ہر زمانہ میں فرض ہے، اس زمانہ میں بھی فرض ہے لیکن فرض علی الکفایۃ ہے، جہاں جتنی ضرورت ہو اسی قدر اس کی اہمیت ہوگی، اور جس جس میں جیسی اہلیت ہو اس کے حق میں اسی قدر ذمہ داری ہوگی، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی صراحت قرآن پاک میں ہے سب سے بڑا معروف ایمان ہے اور سب سے بڑا منکر کفر ہے، ہر مؤمن اپنی اپنی حیثیت کے موافق مکلف ہے کہ خدائے پاک کے نازل فرمائے ہوے دین کو حضرت رسولِ مقبول کی ہدایت کے موافق پہنچاتا ر ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۷/۲٤٦) ۔
فتاوی حقانیہ میں مذکور ہے:
تبلیغِ دین فرض کفایہ ہے ۔ خلقِ خدا کو اوامر کی دعوت دینا اور نواہی سے منع کرنا شرعاً فرض کفایہ ہے جو کہ بعض کے انجام دینے سے کل کا انجام فارغ ہو جاتا ہے، فرض عین کی رائے رکھنا خطا پر محمول ہے تاہم اپنے آپ کو رذائل سے پاک کرنا فرض عین ہے ۔ (
فتاوى حقانية ۲/٤۳۸).

کفایت المفتی میں مذکور ہے:
تبلیغ فرض کفایہ ہے، فرض عین تو نہیں ہے مگر فرضِ کفایہ میں شبہ نہیں ۔ (کفایت المفتی: ۲/۳٤) ۔
مذکورہ بالا عبارات و نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغِ دین فرض کفایہ ہے، اور فرض کفایہ کا حکم یہ ہے کہ اگر بعض لوگ کر لیں تو باقی سے ساقط ہو جائے گا، اور اگر کوئی نہ کرے تو سب گناہ گار ہوں گے ۔
تو اس دعوت و تبلیغ کے مبارک کام کو چھوڑ نا جرمِ عظیم ہے اگر سب چھوڑ دے تو سب قابلِ عقاب ہیں جیسا کہ حدیث شریف کے مفہوم سے اس کی تائید ہوتی ہے کہ اگر کسی جگہ معاصی اور اللہ کی نا فرمانی ہو رہی ہے اور وہاں کے لوگ (باوجود قدرت کے) اسے بند نہ کریں تو اللہ تعالیٰ کا عذاب سب پر آئے گا ۔
ہاں بعض لوگوں کے اس کام کے کرنے سے جرمِ عظیم کی تلافی ہو جاتی ہے ۔
جو حضرات اس بابرکت کام میں لگے ہوے ہیں ما شاء اللہ بہت اچھے کام میں لگے ہیں ۔
اور جو دیگر دین کے شعبوں سے منسلک ہیں انہیں بھی اپنے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ فارغ اوقات میں اس کام میں لگنا چاہیے، اللہ تعالی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے ۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.