A.T.Mنصب کرنے کی مشروط اجازت دینا:

5 min readFatwa Vol 5 #261Urdu
Vol. 5كتاب الهبةعاریت اور امانت کے احکام

Question

ایک مسلمان پٹرول پمپ چلا رہا ہے، زمین اصل پٹرول کمپنی کی ہے، اس شخص نے کرایہ پر لیا ہے، ایک بینک اس پٹرول پمپ میں ایک (A.T.M) مشین ڈالنا چاہتی ہے اس مشین میں لوگ پیسے ڈالتے ہیں اور اس سے پیسے نکالتے ہیں، بینک والوں نے یہ شرط لگائی کہ ہر مہینہ پہلے تین ہزار لوگ اس کو استعمال کریں گے تو اس مسلمان کو کچھ نہیں ملے گا، لیکن تین ہزار کے بعد ہر استعمال میں (چاہے پیسے ڈالے یا نکالے) اس مسلمان شخص کو ۷۵ سینٹ ملیں گے، کیا ایسا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

اس قسم کا عقد دو وجوہات کی بنا پر صحیح اور درست معلوم ہوتا ہے: ۔
(۱) یہ تبرع مشروط ہے یعنی احسان میں کوئی شرط لگانا مثلاً تین ہزار تک مفت کی اجازت دینا تبرع ہے اور اس کو اجارہ کے ساتھ مشروط کرنا کہ زائد کا کرایہ بینک ادا کرے گا یہ تبرع مشروط بن گیا اس لیے یہ عقد جائز اور درست ہے ۔
(۲) یہ عقدِ اجارہ ہے اس میں شرط لگائی ہے لیکن عرف کی وجہ سے اور مفضی الی النزاع نہ ہونے کی وجہ سے یہ شرط مفسدِ عقد نہیں ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

إلا أن يكون متعارفاً لأن العرف قاضٍ على القياس. (الهداية: ۳/۵۹، باب البيع الفاسد).

مزید تفصیل کتاب الاجارہ میں گزر چکی ہے ۔
تبرع مشروط کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
مسلم شریف میں ہے:

عن أنس رضي الله عنه أن جاراً لرسول الله ﷺ فارسياً كان طيب المرق فصنع لرسول الله ﷺ ثم جاء يدعوه، فقال: وهذه لعائشة رضي الله تعالى عنها فقال: لا، فقال رسول الله ﷺ: لا، فعاد يدعوه، فقال رسول الله ﷺ: وهذه، قال: لا، قال رسول الله ﷺ: لا، ثم عاد يدعوه، فقال رسول الله ﷺ: وهذه، قال: نعم في الثالثة، فقاما يتدافعان حتى أتيا منزله. (رواه مسلم: ۲/۱۷٦).

حدیثِ بالا کا خلاصہ یہ ہے کہ: ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کو دعوتِ طعام پیش کی آپ ﷺ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی بھی شرط لگائی اس نے انکار کر دیا پھر تیسری مرتبہ میں اجازت دے دی تو آپ ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہمراہ تشریف لے گئے ۔
اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے اونٹ کا پالان خریدا اور عازب رضي الله عنه سے درخواست کی کہ اپنے بیٹے براء رضي الله عنه سے کہ دے کہ یہ پالان میرے ساتھ لے چلے، عازب رضي الله عنه نے کہا نہیں مگر اس شرط پر کہ آپ ہجرت کا واقعہ سنا دیں، حضرت ابو بکر صدیق
رضي الله عنه
نے ہجرت کا واقعہ سنایا اور حضرت براء
رضي الله عنه
پالان لے گئے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن البراء رضي الله عنه قال: اشتري أبو بكر رضي الله عنه من عازب رضي الله عنه رحلاً بثلاثة عشر درهماً، فقال أبو بكر رضي الله عنه: لعازب رضي الله عنه مر البراء فليحمل إلى رحلي، فقال عازب: لا، حتى تحدثنا كيف صنعت أنت ورسول الله ﷺ حين خرجتما من مكة والمشركون يطلبونكم، قال: ارتحلنا

الخ. (رواه البخاري ۱/۵۱۵، في مناقب المهاجرين).

ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تبرعِ مشروط جائز ہے اور تبرعِ مشروط یہ ہے کہ احسان میں کوئی شرط لگانا یا کسی معاملہ میں اپنے فائدہ کی شرط لگانا، صورتِ مسئولہ میں بھی یہی شکل ہے، کہ بینک والوں نے (
A.T.M
) مشین لگانے کی درخواست کی تو اس پمپ والے نے کہا ٹھیک ہے میں مفت میں اجازت دیتا ہوں، لیکن پہلے تین ہزار کے بعد ہر استعمال میں ۷۵ سینٹ آپ مجھے دیں گے، بینک والوں نے منظور کر لیا، لہذا یہ معاملہ درست ہے ۔
مزید ملاحظہ ہو ملاحظہ ہو: (امداد الاحکام:
۳
/
۳۸٦
، و
٦۰٦
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.