اجیر خاص کی تعدی پر تاوان کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #318Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

ایک شخص نے اپنے ایک ملازم کو امانت دی کہ فلاں جگہ پہنچا دو، مثلاً روشنی سے جوہانسبرگ پہنچا دو، وہ ملازم اپنے کسی کام کی وجہ سے لینس گیا اور جیسے ہی گاڑی کھڑی کی چوروں نے دروازہ توڑا اور امانت چوری کر لی امانت محفوظ جگہ میں رکھی تھی، اب بعض مفتی حضرات فرماتے ہیں کہ اس پر تاوان نہیں، کیوں کہ جگہ محفوظ تھی اور بعض کہتے ہیں کہ یہ ملازم اپنے کام کی وجہ سے لینس کیوں گیا، لہذا تاوان آئے گا ۔ اب اس مسئلہ میں آپ کے دار الافتاء کی رائے کیا ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ ملازم پر لازم تھا کہ وہ (R 82) سیدھا جوہانسبرگ کا راستہ اختیار کرتا لیکن لینس کا راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے تعدی کرنے والا کہلائے گا لہذا تاوان آئے گا، کیوں کہ روشنی سے جوہانسبرگ جانے والے کے لیے لینس کے راستے سے کوئی تعلق نہیں رہتا، ملازم نے خود اپنی مرضی سے اپنے کام کے لیے لینس کا راستہ اختیار کیا اور اپنے مالک کی مخالفت کی اس وجہ سے تاوان کا آنا عین انصاف ہے ۔
ملاحظہ ہو محیط برہانی میں ہے:

وسئل أبو بكر رحمه الله عمن أمر رجلاً أن يستكري له حماراً ويذهب إلى مكان كذا على أن يوفيه الآمر من الأجرة ففعل المأمور ذلك وأدخله رباطاً فهجم عليه اللصوص في ذلك الرباط واستولوا على الحمار، قال: فإن كان الرباط على الطريق الذي كان ممر المستأجر عليه فلا ضمان

لأنه لم يخالف. (فعلم من هذا ان لم يكن على الممر فيضمن). (المحيط البرهاني: ۱۲/۳۱).

شرح مجلہ میں ہے:

وكذا لا يضمن المال الذي تلف بعمله بلا تعد أيضاً

وفي رد المحتار: وقوله بعمله أي المأذون فيه، فإن أمره بعمل فيعمل غيره، ضمن ما تولد منه، (تاتارخانية). (شرح المجلة: ۲/۷۱۸، المادة: ٦۱۰).

عالمگیری میں ہے:

وحكم أجير الوحد أنه أمين في قولهم جميعاً حتى أن ما هلك من عمله لا ضمان عليه فيه إلا إذا خالف فيه والخلاف أن يأمره بعمل فيعمل غيره فيضمن ما تولد منه حينئذٍ هكذا في شرح الطحاوي. (الفتاوى الهندية: ٤/۵۰۰، الباب الثامن والعشرون في بيان حكم الأجير الخاص والمشترك).

اشکال: لیکن ہدایہ کی درج ذیل عبارت سے اشکال واقع ہوتا ہے ۔

قال في الهداية: وإن استأجر حمالاً ليحمل له طعاماً في طريق كذا فأخذ في طريق غيره يسلكه الناس فهلك المتاع فلا ضمان عليه وإن بلغ فله الأجر وهذا إذا لم يكن بين الطريقين تفاوت

أما إذا كان تفاوت يضمن، وإن كان طريقاً لا يسلكه الناس فهلك ضمن. (الهداية: ۳/۳۰۰).

الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عبارت اس صورت پر محمول ہے جب کہ ایک منزل کے دو راستے ہوں اور دونوں پر سے لوگ برابر گزرتے ہوں، اور دونوں مامون ہوں تو تاوان نہیں آئے گا، لیکن صورتِ مسئولہ میں تو راستہ ہی غلط اختیار کیا، پھر یہ کہ راستہ پر چلنا الگ بات ہے اور راستہ چھوڑ کر کسی اور جگہ جانا الگ بات ہے، اول الذکر موجب ضمان نہیں و ثانی الذکر موجبِ ضمان ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.