مدرس کے دس منٹ دیر سے آنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #320Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

ایک مدرس دس منٹ دیر سے آتا ہے تو اس کی کیا تلافی کرنا چاہیے یا تنخواہ کاٹ لے یا اور کوئی تدبیر ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں اگر مدرس نے دیر سے آنے کی عادت بنا لی ہے اور بار بار متنبہ کرنے سے بھی باز نہیں آتا تو اس کی تنخواہ کاٹنا درست ہے اور اگر گاہے گاہے دیر سے آتا ہے اور مدرسہ ان کے اخلاص کی وجہ سے تسامح کرتا ہو یا وہ مدرس دوسرے اوقات میں اپنا کام پورا کرتا ہو تو پھر نہ کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل. وفي الشامية: قوله وليس للخاص أن يعمل لغيره، بل ولا يصلي النافلة، قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي: وإذا استأجر رجلاً يوماً يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا له أن يؤدي السنة أيضاً، واتفقوا أنه لا يؤدي نفلاً، وعليه الفتوى، وفي غريب الرواية قال أبو على الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجر بقدر اشتغاله إن كان بعيداً، وإن قريباً لم يحط شيء فإن كان بعيداً واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة. قوله ولو عمل نقص من أجرته، قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لا خر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ٦/۷۰، مطلب ليس للأجير الخاص ان يصلي النافلة، سعيد. وكذا في الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/٤۱۵).

فتاوی ولوالجیہ میں ہے:

إذا استأجر يوماً للحصاد أو للخدمة فحصد في بعض اليوم أو خدم لغيره لا يستحق الأجر كاملاً، ويأثم. (الفتاوى الولوالجية: ۳/۳۳۱، الفصل الاول فيما تجوز الإجارة، دار الكتب العلمية، بيروت).

النتف فی الفتاوی میں ہے:

فإن وقعت على عمل معلوم فلا تجب الأجرة إلا بإتمام العمل إذا كان العمل مما لا يصلح أوله إلا بآخره، وإن كان يصلح أوله دون آخره فتجب الأجرة بمقدار ما عمل. (النتف في الفتاوى، ص ۳۳۸، كتاب الإجارة، دار الكتب العلمية).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
جب مدرس کے اوقات متعین کر دیے گئے تو ان اوقات میں وہ اجیر خاص ہے، ان اوقات میں اس کو دوسرا کام اجارہ پر کرنا جائز نہیں، بغیر اجارہ کے معمولی مختصر سا کام جس پر عرفاً چشم پوشی کی جا سکتی ہے کہ اس سے مدرسہ کے کام میں کوئی معتدبہ حرج نہ ہو، یا وہ ضروریات میں سے ہو، اس کی اجازت ہے، جیسے مثلاً کوئی معمولی خط لکھ دیا یا پیشاب پا خانہ کی ضرورت پیش آ گئی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۵۷۳، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.