ضرر کی وجہ سے کرایہ دار کو فارغ کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص کے گھر میں ایڈز کی متعدی بیماری ہے، پڑوسی کے بچوں کو لگنے کا خطرہ ہے کیا مالکِ مکان ایسے کرایہ دار کو گھر سے فارغ کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ بہتر یہ ہے کہ اس کو نہ نکالا جائے، ہاں لوگوں کو مطلع کر دینا چاہیے تاکہ مرض متعدی نہ ہو جائے، لیکن اگر مدت ختم ہونے پر یا ضرر کے ظن غالب ہونے پر اس سے معذرت کر لیں تو اس کی بھی گنجائش ہے، ہاں اگر ایسے مریضوں کے لیے کوئی علیحدہ جگہ نہ ہو تو پھر ان کو نہیں نکالنا چاہیے کیوں کہ ہر جگہ رہائش ان کے لیے باعث مصیبت اور سببِ اخراج ہو گی ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
وفي حاشيتها لا بي السعود عن البيري: والحاصل أن كل عذر لا يمكن معه استيفاء المعقود عليه إلا بضرر يلحقه في نفسه أو ماله يثبت له حق الفسخ، قال البيري: يؤخذ منه الرجم الذي يقع كثيراً في البيوت ويقال إنه من الجان عذر في فسخ الإجارة لما يحصل من الضرر الخ ما ذكره، أقول: يظهر هذا لو كان الرجم لذات الدار أما لو كان لشخص مخصوص فلا
(فرع كثير الوقوع) قال في لسان الحكام: لو أظهر المستأجر في الدار الشر كشرب الخمر وأكل الربا والزنا واللواطة يؤمر بالمعروف وليس للمؤجر ولا لجيرانه أن يخرجوه فذلك لا يصير عذراً في الفسخ ولا خلاف فيه للائمة الأربعة، وفي الجواهر: إن رأي السلطان أن يخرجه فعل
أقول: وفي جامع الفصولين كل فعل هو سبب نقص المال أو تلفه فهو عذر لفسخه. (فتاوى الشامي: ٦/۸۱، باب فسخ الإجارة، سعيد).
(وكذا في لسان الحكام، ص ۳٦۸، الفصل الثامن عشر في الإجارة).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.