کرایہ دار کا دوسرے کو کرایہ پر دینے کا حکم:
Question
ایک شخص نے دو ہزار رینڈ پر ایک مکان کرایہ پر لیا اب وہی مکان دوسرے شخص کو دو ہزار پانچ سو میں کرایہ پر دینا چاہتا ہے تو یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
Answer
کرایہ پر لی ہوئی چیز کا دوسرے کو کرایہ پر دینا جائز اور درست ہے لیکن جو کرایہ وہ خود ادا کرتا ہے اس سے زائد طلب کرنا درست نہیں ہے، اگر زائد حاصل کیا تو صدقہ کرنا واجب ہے ۔
البتہ دو صورتوں میں زائد کرایہ لینے کو فقہاء نے جائز قرار دیا ہے: ۔
(۱) کرایہ دار وہی مکان دوسرے کو پہلے کرایہ کی غیر جنس پر دے دے تو اب زیادہ لینا خلافِ جنس سے جائز ہے ۔
(۲) کرایہ دار اس مکان میں کچھ اصلاح و مرمت کر کے اس کی حیثیت بڑھا دے یا اس کے ساتھ اپنی کوئی چیز ملا کر مجموعہ کا کرایہ زیادہ لے تو یہ بھی جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
(وله السكني بنفسه إسكان غيره بإجارة وغيرها) وكذا كل مالا يختلف بالمستعمل يبطل التقييد لأنه غير مفيد، بخلاف ما يختلف، ولو آجر بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئاً. وفي الشامية: قوله بخلاف الجنس، أي جنس ما استأجر به وكذا إذا آجر مع ما استأجر شيئاً من ماله يجوز أن تعقد عليه الإجارة فإنه تطيب له الزيادة كما في الخلاصة، قوله أو أصلح فيها شيئاً، بأن جصصها أو فعل فيها مسناة وكذا كل عمل قائم لأن الزيادة بمقابلة ما زاد من عنده حملاً لا مره على الصلاح كما في المبسوط. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۲۹، باب ما يجوز من الإجارة، سعيد).
فتاوی عالمگیری میں ہے:
وإذا استأجر داراً وقبضها ثم آجرها فإنه يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضاً إلا أنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها وإن كانت من خلاف جنسها طابت له الزيادة ولو زاد في الدار زيادة كما لو وتد فيها وتداً أو حفر فيها بئراً أو طيناً أو أصلح أبوابها أو شيئاً من حوائطها طابت له الزيادة. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۲۵، الباب السابع في إجارة المستأجر).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جتنی رقم کسی جگہ بھی کرایہ مکان کی آپ ادا کریں اتنی رقم پر دوسرے کو دے سکتے ہیں، اگر اس سے زیادہ رقم لیں گے تو اس کا صدقہ کر دینا ہوگا ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
اگر اس شخص نے اس جائیداد میں کوئی تصرف نہیں کیا تب تو یہ منافع ناجائز ہے اس کا تصدق واجب ہے اگر اس جائیداد کی کوئی اصلاح کی یا مرمت کی ہے اور پھر دوسرے شخص کو دی ہے تو یہ منافع جائز ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/٦۰٤، ٦۰۵ جامعہ فاروقیہ) ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
شرعاً اس کا حکم یہ ہے کہ یہ معاملہ جائز ہے، بشرطیکہ اپنے موجر کے ساتھ نہ ہو اور اجرتِ اولی سے کم پر ہو اور اگر اجرتِ اولی سے زیادہ کے ساتھ ہو تو زائد رقم حلال نہ ہو گی اس کا تصدق واجب ہوگا ۔
الا یہ کہ دوسرا عقد پہلے عقد کے خلافِ جنس سے ہو، یا یہ کہ کرایہ دار اس میں کوئی مرمت و اصلاح کرے، مثلاً اگر مکان ہو تو اس کی مرمت، رنگ روغن وغیرہ کرے، اگر زمین ہو تو اس کی نالی وغیرہ درست کرے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۲۱٦) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (کفایت المفتی: ۷/۳۳۱، کتاب المعاش، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.