شادی کا ہال غیر مسلم کو کرایہ پر دینے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 5 #313Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

کیا مسلمان اپنا شادی کا ہال کسی غیر مسلم کو کرایہ پر دے سکتا ہے یا نہیں؟ جب کہ یہ یقینی بات ہے کہ غیر مسلم اس ہال میں ناچ گانا بجنا وغیرہ محرمات کا ارتکاب کریں گے ۔

Answer

امام صاحب رحمه الله کے نزدیک غیر مسلم کو ہال کرایہ پر دینا جائز ہے، اور صاحبین رحمه الله کے نزدیک مکروہ ہے، نیز ہمارے اکابر رحمه الله کے فتاوی میں اختلاف ہے، حضرت مفتی رشید احمد صاحب نے اختلاف کو دفع کرتے ہوے فرمایا غیر مسلم کو دینے میں کراہتِ تنزیہیہ ہے، اور صورتِ مسئولہ میں چونکہ کرایہ دار غیر مسلم ہے لہذا یہ معاملہ خلافِ اولی ہوگا حرام یا مکروہِ تحریمی نہیں ہوگا ۔
دلائل کی تفصیل گزر چکی ہے، تکرار موجبِ طوالت ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.