مول میں شراب اور سنیما کے کرایہ کا حکم:

5 min readFatwa Vol 5 #311Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

اگر کسی مول میں شراب کی ایک دوکان ہے باقی دوکانیں دوسری چیزوں کی ہیں، تو مسلمان اس کا کرایہ حاصل کر سکتا ہے یا نہیں؟ یہ بھی یاد رہے کہ مول کی اکثر آمدنی مثلاً ۸۰ یا ۹۰ فیصد حلال ہے، صرف ۱۰ فیصد شراب اور سنیما وغیرہ کا کرایہ ہے تو یہ ۱۰ فیصد کرایہ حلال ہے یا حرام؟ مسلمان مالک اس کو وصول کر سکتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ شراب اور سنیما وغیرہ کارِ معصیت کے لیے دکان یا مکان کرایہ پر دینے اور کرایہ کی آمدنی حاصل کرنے کے بارے میں ہمارے ائمہ کے مابین اختلاف ہے، حضراتِ صاحبین رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ تعاون علی المعصیت ہونے کی وجہ سے صحیح نہیں ہے، جب کہ امام صاحب رحمه الله فرماتے ہیں کہ ایسا عقدِ اجارہ ٹھیک ہے اور اس کی اجرت لینا بھی جائز ہے اس لیے کہ عقدِ اجارہ دکان یا مکان کی منفعت پر وارد ہوا ہے اور اس میں کوئی معصیت نہیں، شراب کی فروخت فاعل مختار کا اپنا فعل ہے مالکِ مکان نے کرایہ دار سے یہ نہیں کہا کہ تم اس میں شراب بیچو، لہذا اگر پہلے سے معلوم تھا کہ کرایہ دار شراب بیچے گا تو اس مقصد کے لیے دینا مکروہِ تحریمی ہے، اور گناہ کے کام پر تعاون ہے، لیکن اگر دکان کسی اور مقصد کے لیے دی تھی پھر کرایہ دار اس میں شراب فروخت کرتا ہے تو مکروہِ تنزیہی ہے ۔
ملاحظہ ہو مبسوط میں ہے:

ولا بأس بأن يؤاجر المسلم داراً من الذمي ليسكنها، فإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو دخل فيها الخنازير لم يلحق المسلم فيه إثم في شيء من ذلك لأنه لم يؤاجرها لذلك والمعصية في فعل المستأجر دون قصد رب الدار فلا إثم على رب الدار في ذلك. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱٦/۳۰۹، بيروت).

فتاوی بزازیہ میں ہے:

ولو آجر نفسه لحمل الخمر قال الإمام: لا يكره وعلى قولهما يكره، لأن التصرف في الخمر حرام، وكذا كل موضع تعلقت المعصية بفعل فاعل مختار، كما إذا آجر منزله ليتخذ بيعة أو كنيسة أو بيت نار يطيب له. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ۵/۱۲۵، العاشر في الحظر والإباحة).

خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

رجل آجر بيتاً ليتخذ فيه نار أو بيعة أو كنيسة أو يباع فيه الخمر فلا باس به، وكذا كل موضع تعلقت المعصية بفعل فاعل مختار. (خلاصة الفتاوى: ٤/٤۷٦، كتاب الكراهية).
(كذا في الهداية: ۳/٤۷۲، كتاب الكراهية، والكفاية: ۸/۳

وفي العيني شرح الكنز: ۲/۳۸٤، وكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۹۲، سعيد، وعزيز الفتاوى: ۱/٦۳۸).

اس سلسلہ میں اکابر رحمه الله کے فتاوی میں بظاہر اختلاف ہے ۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں:
ایسے کو مکان دینا درست نہیں بقول صاحبین رحمه الله کے امام صاحب کے قول سے جواز معلوم ہوتا ہے کہ مکان کرایہ پر دینا گناہ نہیں مگر فتوی اس پر ہے کہ نہ دیوے کہ اعانت گناہ کی ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص ۵۰۲) ۔
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله فرماتے ہیں کہ اگر شراب بیچنے والا مسلمان نہ ہو اور مسلمانوں کی آبادی بھی اس بستی میں زیادہ نہ ہو بلکہ زیادہ تر کفار آباد ہوں تو شراب بیچنے والے کافر کو دوکان کرایہ پر دینا جائز ہے ۔ (کفایت المفتی: ۷/۳٤۰) ۔
حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمه الله فرماتے ہیں کہ کافر کو دوکان دینا مکروہِ تنزیہی ہے اور مسلمان کو دینا مکروہِ تحریمی ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/۵٤٦) ۔
حضرت مولانا رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمه الله کی عبارت سے اکابر رحمه الله کے فتاوی میں تطبیق کی صورت سامنے آتی ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر شراب کی دکان مسلمان چلاتا ہے تو اس دکان کے کرایہ کو صدقہ کر دینا چاہیے، لیکن اگر غیر مسلم شراب کی دکان چلاتا ہے تو امام صاحب رحمه الله کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.