حرام گوشت فروخت کرنے والے کو دکان کرایہ پر دینے کا حکم:
Question
ایک شخص نے ایک پراپرٹی خریدی، اس میں ایک دکان بھی شامل ہے اور کرایہ دار ایک حرام گوشت فروخت کرنے والا قصائی ہے، کرایہ کا معاہدہ تھوڑی مدت میں ختم ہونے والا ہے، کیا ایسے قصائی کو دکان کرایہ پر دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز پہلے سے کرایہ کا معاہدہ چلا آ رہا تھا تو اب اس سے کرایہ وصول کر کے استعمال کرنا جائز ہو گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر کرایہ دار مسلمان ہے تو مسلمان کو حرام گوشت بیچنے کے لیے دکان کرایہ پر دینا مکروہِ تحریمی ہے اور کرایہ کی رقم واجب التصدق ہے، اور اگر کرایہ دار غیر مسلم ہے تو مکروہِ تنزیہی ہے، بچنا اولی ہے، اور امام صاحب رحمه الله کے قول کے مطابق آمدنی حرام نہیں ہو گی۔ ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
وإجارة بيت ليتخذ بيت نار أو بيعة أو كنيسة أو يباع فيه خمر بالسواد، يعني جاز إجارة البيت لكافر ليتخذ معبداً أو بيت نار للمجوس أو يباع فيه خمر في السواد وهذا قول الإمام وقالا: يكره كل ذلك لقوله تعالى: ﴿وتعاونوا علي البر والتقوي ولا تعاونوا على الإثم والعدوان﴾. (البحر الرائق: ۸/۲۳۰). (وكذا في تبيين الحقائق: ٦/۲۹، إمداديه، ملتان).
جواہر الفقہ میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
ثم السبب إن لم يكن محركاً وداعياً، بل موصولاً محضاً، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل كبيع السلاح من أهل الفتنة
وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريماً بشرط أن يعلم به البائع والآجر من دون تصريح به باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذوراً وإن علم وصرح كان داخلاً في الإعانة المحرمة.
(جواہر الفقہ: ۲/٤۵۳، طبع قدیم) ۔
احسن الفتاوی میں مذکور ہے:
بندہ کے خیال میں اجارہ من الکافر اور اجارہ من المسلم میں فرق ہے، عباراتِ فقہاء رحمہم اللہ تعالی کافر سے متعلق ہیں اور اس میں درایۃً و روایۃً کراہت تنزیہیہ کو ترجیح معلوم ہوتی ہے اور اجارہ من المسلم میں کراہتِ تحریمیہ راجح معلوم ہوتی ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/٤۵٦) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/٦۲٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.