شراب اور سنیما کے لیے مکان کرایہ پر دینے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 5 #310Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

کیا مسلمان کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنا مکان، زمین وغیرہ ایسے آدمی کو کرایہ پر دے جو شراب بیچتا ہے؟ اور اس کرایہ کو کہاں استعمال کیا جائے؟ ماضی میں وصول کردہ کرائے کا اب کیا حکم ہے؟

Answer

یہ مسئلہ فقہائے احناف کے درمیان مختلف فیہ ہے، حضرت الامام ابو حنیفہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ جہاں کفار کی اکثریت ہوں وہاں شراب وغیرہ کی فروخت کے لیے مکان یا زمین کرایہ پر دینا جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اور اجرت کا لینا بھی درست ہے ۔ لیکن صاحبین رحمه الله فرماتے کہ یہ مکروہ ہے ۔
چنانچہ فتاوی قاضيخان میں ہے:

ولو استأجر الذمي من مسلم بيتاً يبيع فيه الخمر جاز عند أبي حنيفة رحمه الله ولا بأس لمسلم أن يؤاجر داره من ذمي ليسكنها وإن شرب فيه الخمر. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۲/۳۲٤).

اسی طرح البحر الرائق میں ہے:

وإجارة بيت ليتخذ بيت نار أو بيعة أو كنيسة أو يباع فيه خمر بالسواد وهذا قول الإمام رحمه الله، وقالا: يكره كل ذلك لقوله تعالى: ﴿وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان﴾. (البحر الرائق: ۸/۲۰۲، كوئته).

فتاوی بزازیہ میں ہے:

ولو آجر نفسه لحمل الخمر قال الإمام: لا يكره وعلى قولهما يكره، لأن التصرف في الخمر حرام، وكذا كل موضع تعلقت المعصية بفعل فاعل مختار، كما إذا آجر منزله ليتخذ بيعة أو كنيسة أو بيت نار يطيب له. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ۵/۱۲۵، العاشر في الحظر والإباحة).

صاحبین رحمه الله اسے گناہ کی چیز پر تعاون کے سبب مکروہ فرماتے ہیں، پھر اگر ایسی چیز فروخت کرے جو خود تو کارِ معصیت نہ ہو لیکن معصیت کا سبب قریب ہو تو کراہت تنزیہی ہو گی، جیسے معلوم ہو کہ انگور کے شیرہ سے شراب بنائے گا،
بأنه لا تقوم المعصية بعينه بل بعد تغيره. (فتاوى الشامي: ٦/۱۹۲، سعيد).

اور اگر ایسی چیز ہو جس کے ساتھ معصیت قائم بعینہٖ ہو مثلاً شراب تو کراہتِ تحریمی ہو گی، جب کہ پہلے سے معلوم ہو ۔
امام صاحب رحمه الله فرماتے ہیں کہ اجارہ گھر کی منفعت پر ہوتا ہے اسی لیے جب گھر سپرد کر دیا تو محض سپرد کرنے سے اجرت لازم ہو گی اور نفس اجارہ میں کوئی معصیت کا مفہوم نہیں ہے، معصیت مستاجر کا اپنا فعل ہے اور وہ فاعل مختار ہے لہذا اس معصیت کی نسبت موجر کی طرف کرنا درست نہ ہوگا ۔
چنانچہ البحر الرائق میں ہے:

وله أن الإجارة على منفعة البيت ولهذا تجب الأجرة بمجرد التسليم ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فيه فقطع نسبة ذلك إلى المؤجر. (البحر الرائق: ۸/۲۰۲، كتاب الكراهية، كوئته).

تالیفاتِ رشیدیہ میں ہے:
سوال: مکان وغیرہ ایسے لوگوں کو کرایہ پر دینا کہ جو شراب و دیگر محرمات اس میں فروخت کرتے ہوں یا خود افعال خلافِ شرع ممنوعات اس میں کریں یا کفار کہ وہ اس میں بُت پرستی کریں، منع اور داخل اعانت علی المعصیت ہوگا یا نہیں؟
جواب: ایسے کو کرایہ پر دینا مکان کا درست نہیں حسبِ قولِ صاحبین رحمه الله کے اور امام صاحب رحمه الله کے قول سے جواز معلوم ہوتا ہے کہ مکان کرایہ پر دینا گناہ نہیں گناہ بفعل اختیاری مستاجر کے ہے مگر فتوی اسی پر ہے کہ نہ دیوے کہ یہ اعانت گناہ کی ہے ۔
لا تعاونوا على الإثم والعدوان
۔ (تالیفاتِ رشیدیہ، ص ٤۲۱، اجرت کے مسائل) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
اگر شراب بیچنے والا مسلمان نہ ہو اور مسلمانوں کی آبادی بھی اس بستی میں زیادہ نہ ہو بلکہ زیادہ تر کفار آباد ہوں تو شراب بیچنے والے کافر کو دوکان کرائے پر دینا جائز ہے ۔ (کفایت المفتی: ۷/۳٤۰) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
بندہ کے خیال میں اجارہ من الکافر اور اجارہ من المسلم میں فرق ہے عباراتِ فقہاء رحمہم اللہ تعالی کافر سے متعلق ہیں، اور اس میں درایۃً و روایۃً کراہتِ تنزیہیہ کو ترجیح معلوم ہوتی ہے اور اجارہ من المسلم میں کراہتِ تحریمہ راجح معلوم ہوتی ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/۵٤٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.