پیشگی اجرت وصول کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #330Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

ایک شخص کسی کے مکان کے ایک حصہ میں رہتا ہے، مالکِ مکان کرایہ کے علاوہ ماہانہ آٹھ سو رینڈ بجلی پانی وغیرہ کے لیے لیتا ہے، جب کہ یہ معلوم نہیں کہ کرایہ دار کتنا خرچ کرے گا، نیز مالکِ مکان نے پیشگی چھ ماہ کی رقم وصول کی، اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بجلی پانی وغیرہ کا خرچہ مجہول ہے، اسی طرح جس وقت کرایہ وصول کیا اس وقت منفعت بھی معدوم تھی، شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

قانونِ شریعت کے اعتبار سے عقدِ اجارہ میں حصولِ منفعت کے بعد یعنی مہینہ ختم ہونے کے بعد کرایہ دار پر مکان کا کرایہ ادا کرنا لازم ادا کرنا لازم ہو جاتا ہے، لیکن اگر مالکِ مکان یا دکان پیشگی کرایہ کا مطالبہ کرے اور کرایہ دار برضا و رغبت قبول کر لے تو یہ جائز اور درست ہے ۔ اسی طرح روزِ اول سے پیشگی کرایہ کی شرط لگائی ہو تب بھی پیشگی کرایہ وصول کرنا جائز اور درست ہے ۔
نیز بجلی پانی کے بارے میں بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ مالکِ مکان نے بجلی پانی کی ذمہ داری اپنے سر لے لی اور اس کے عوض میں کرایہ وصول کیا تو یہ عقدِ ضمان والی صورت بھی درست ہے ۔ بہرحال ان چیزوں میں عرف کا بڑا دخل ہے، عرف میں جس طرح عمل درآمد ہو اس طرح معاملہ کرنا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

الأجرة لا تجب بالعقد وتستحق بأحدي معاني ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل من غير شرط أو باستيفاء المعقود عليه

وكذا إذا شرط التعجيل أو عجل من شرط لأن المساواة يثبت حقاً له وقد أبطله. (الهداية: ۳/۲۹٤).

شرح مجلہ میں ہے:

لا تلزم الأجرة بالعقد المطلق يعني لا يلزم تسليم بدل الإجارة بمجرد انعقادها حالاً. والمراد بالعقد المطلق الذي لم يذكر فيه اشتراط تعجيل الأجرة، وإنما لا يلزم تسليم الأجرة حينئذٍ لأن العقد وقع على المنفعة، وهي تحدث شيئاً فشيئاً، وشأن البدل أن يكون مقابلاً للمبدل، وحيث لا يمكن استيفاؤها حالاً لا يلزم بدلها حالاً، إلا إذا شرطه ولو حكماً بأن عجله، لأنه صار ملتزماً له بنفسه حينئذٍ وأبطل المساواة التي اقتضاها العقد، فصح، كذا في رد المحتار. (شرح المجلة: ۲/۵٤۹، تحت المادة: ٤٦٦).
وقال في الهداية: ويجوز أخذ أجرة الحمام والحجام فأما الحمام فلتعارف الناس ولم يعتبر الجهالة لا جماع المسلمين وقال عليه السلام: ما رآه المسلمون حسناً فهو عند الله حسن، وأما الحجام فلما روي أنه عليه السلام احتجم وأعطي الحجام الأجرة ولأنه استيجار على عمل معلوم بأجر معلوم فيبقع جائز اً. (الهداية: ۳/۳۰۳).
وقال في الهداية: ومن وكل رجلاً بالصلح عنه فصالح لم يلزم الوكيل ما صالح عنه إلا أن يضمنه

لأنه حينئذٍ هو مؤاخذ بعد الضمان لا بعقد الصلح. (الهداية: ۳/۲۵۰).

جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
اجارہ میں اصل قاعدہ تو یہی ہے کہ جب کام پورا ہو جائے یا ڈیوٹی پوری کر دے اس وقت اجرت کا مستحق قرار پاتا ہے اور موجر کے ذمہ اجرت کی ادائیگی لازم ہو جاتی ہے تاہم اگر کوئی ملازم پیشگی اجرت کی شرط رکھے یا مالکِ مکان و دکان پیشگی کرایہ کا مطالبہ کرے اور کرایہ دار اس شرط کو تسلیم کرے یا ادارہ یا کمپنی خود ملازمین کو مہینہ کے شروع میں پیشگی تنخواہ ادا کر دے تو یہ سب صورتیں آپس کی رضامندی سے شرعاً جائز ہیں ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۲۵۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.