قرض وصول کر کے ادا کرنے کی ذمہ داری پر اجرت لینے کا حکم:
Question
بینک اور زید کے درمیان عقد ہوا اس میں ربا اور بغیر ربا دونوں کا امکان ہے پھر ایک کمپنی (servicing company) نے ذمہ داری لی کہ وہ زید سے رقم وصول کر کے بینک کو دے گی اور اس کے عوض بینک اس کمپنی کو کچھ متعین رقم یا فیصد دیگا، کیا ایسا معاملہ جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ ہر قسم کے سودی لین دین سے بچنا ضروری ہے چاہے سودی یقینی ہو یا امکان کے درجہ میں ہو، ہاں کمپنی کا بینک سے اپنے عمل کی اجرت حاصل کرنا جائز اور درست ہے، کیوں کہ زید سے رقم وصول کر کے بینک کو دینے کی ذمہ داری لی ہے جو کہ ایک جائز اور درست عمل ہے اس کی اجرت بھی جائز ہے ۔ پھر اجرت میں متعین رقم بھی لی جا سکتی ہے اور فیصد کے اعتبار سے بھی دونوں طرح جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله لأن المستحق عمل في ذمته ويمكن إيفاؤه بنفسه أو بالاستعانة بغيره بمنزلة إيفاء الدين. (الهداية: ٣/٢٩٧).
وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله لأن المستحق عمل في ذمته ويمكن إيفاؤه بنفسه أو بالاستعانة بغيره بمنزلة إيفاء الدين. (الهداية: ٣/٢٩٧).
وفي اللباب: وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله لأن المستحق عمل في ذمته، ويمكن إيفاؤه بنفسه وبالاستعانة بغيره، بمنزلة إيفاء الدين، والعادة جارية أن الصناع يعملون بأنفسهم وبأجرائهم. (اللباب في شرح الكتاب: ١/١٨٤).
وفي رد المحتار: أن المشترك له أن يتقبل العمل من أشخاص، لأن المعقود عليه، في حقه هو العمل أو أثره. وفي التحرير المختار للرافعي: قوله هو العمل أو أثره، أي العمل إذا شرط عليه أن يعمل بنفسه وأثره إذا لم يشترط أن يعمل بنفسه. (رد المحتار: ٦/٦٤، سعيد، والتحرير المختار: ٦/٢٦۸، سعيد). وكذا في تبيين الحقائق: ٥/١٣٤).
وفي فتاوى الشامي: تتمة: قال في التاتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذلك حرام عليهم، وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام. (فتاوى الشامي: ٦/٦٣، سعيد).
جدید معاملات کے شرعی احکام میں مرقوم ہے:
ایک شخص کا دوسرے پر قرض ہے اور قرض کی دستاویز بھی موجود ہے اور گواہ بھی موجود ہیں لیکن وہ مقروض قرض ادا نہیں کرتا، اب یہ شخص کسی با اعتماد شخص سے کہتا ہے کہ میرا قرض فلان سے وصول کر کے دو میں اس قرض کا تہائی تمہیں دوں گا تو شرعاً یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟
حضرت تھانوی رحمه الله ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: یہ شخص اجیر خاص ہے لہٰذا تنخواہ معین ہونی چاہیے خواہ ماہانہ خواہ یک مشت کہ کامیابی حاصل ہونے کے بعد تم کو اتنا فیصد دیں گے. (جلد اول، ص ٢٥٢) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.