اجارہ میں عمل کی ذمہ داری پر اجرت کا حکم:

1 min readFatwa Vol 5 #316Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

اگر اجارہ میں اجیر کے ذمہ عمل نہ ہو بلکہ صرف عمل کی ذمہ داری اور انتظام ہو تو اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ عمل کی ذمہ داری کی تنخواہ و اجرت لینا جائز اور درست ہے، جیسے آج کل کونٹرکٹر وغیرہ کام نہیں کرتے صرف انتظام اور ذمہ داری کی تنخواہ لیتے ہیں اور یہ جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله لأن المستحق عمل في ذمته ويمكن ايفاؤه بنفسه أو بالاستعانة بغيره بمنزلة إيفاء الدين. (الهداية: ۳/۲۹۷).
(وكذا في البحر الرائق: ۷/۳۰۳، كوئته).
وفي رد المحتار: لأن المعقود عليه في حقه هو العمل أو أثره. (رد المحتار: ٦/٦٤، سعيد).

تقریرات الرافعی میں ہے:

قوله أو أثره أي وأثره إذا لم يشترط أن يعمل بنفسه. (التحرير المختار: ٦/۲٦۸، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.