جانبین سے دلالی کی اجرت کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #328Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

اگر کوئی ایجنٹ بائع اور مشتری دونوں سے کمیشن لے تو جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ ایجنٹ کا بائع اور مشتری دونوں سے کمیشن لینا جائز اور درست ہے۔
ملاحظہ ہو علامہ حصکفی رحمه الله فرماتے ہیں:

وأما الدلالة فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعي بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف. وفي الشامية: قوله يعتبر العرف، فتيجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف، جامع الفصولين. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۵٦۰، فصل فيما يدخل في البيع تبعاً، سعيد).

شرح منظومۃ ابن وہبان میں ہے:

فائدة: نقل في العمادية عن فوائد صاحب المحيط لو سعي الدلال بينهما وباع المالك بنفسه ينظر إلى العرف إن كانت الدلالة على البائع فعليه، وإن كانت على المشتري فعليه، وإن كانت عليهما فعليهما. (شرح منظومة ابن وهبان: ۲/۷۸، فصل من كتاب الإجارة، الوقف المدني).
مجمع الضمانات
میں ہے:

ولو سعي الدلال بينهما، وباع المالك بنفسه، يعتبر العرف، فتجب الدلالة على البائع، أو على المشتري أو عليهما، بحسب العرف. (مجمع الضمانات: ۱/۱۵۹، النوع السابع عشر: الدلال ومن بمعناه).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
دونوں طرف سے دلالی جائز ہے جب کہ عرف ہو اصالۃً دلالی کا معاملہ ناجائز ہے، مگر حاجت اور عرف کی بناء پر فقہاء نے اجازت دی ہے، اور یہ اجازت اپنے عموم کی حیثیت سے یک طرفہ دو طرفہ سب کو شامل ہے۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/٦۱۷، باب اجرۃ الدلال و السمسار، جامعہ فاروقیہ)۔
نظام الفتاوی میں ہے:
اگر کوئی شخص دونوں کا کام کرتا ہے تو الگ الگ کام ہونے کی بنا پر دونوں سے اس کے ممیز عمل کی اجرتِ متعارفہ لے سکتا ہے۔ (نظام الفتاوی: ۱/۲۹۷)۔
تالیفاتِ رشیدیہ میں ہے:
سوال: کسی سے کہا کہ اگر تیرا معاملہ کر دوں تو اتنی دلالی لوں گا یہ درست ہے یا نہیں؟ اور بائع مشتری کو اس کی اطلاع دینی ضروری ہے یا ایک سے ٹھہر الینا کافی ہے، پھر اگر دونوں سے خفیۃً یا صراحۃً ٹھہرا کر لے لیوے تو کیسا ہے؟
الجواب: اجرت دلالی کی درست ہے مگر فریب و دھوکہ نہ ہو، فقط۔ (تالیفاتِ رشیدیہ، ص ٤۱۸)۔
محمود الفتاوی میں ہے:
اگر دونوں طرف سے دلالی لینے کا عرف و رواج ہو تو درست ہے ورنہ نہیں۔ (محمود الفتاوی: ۳/۸۵)۔
احسن الفتاوی میں ہے:
سوال: دلالی کی اجرت جانبین سے جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جائز ہے۔ (احسن الفتاوی: ۷/۲۷۲)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.