جزوِ عمل کو اجرت بنانے کا حکم: (کمیشن ایجنٹ کا حکم)

15 min readFatwa Vol 5 #325Urdu
Vol. 5كتاب الإجارةکرایہ داری کے مسائل کا بیان

Question

لوگوں میں بعض معاملات پر عمل درآمد ہے ان کا حکم معلوم کرنا چاہتا ہوں:۔
(۱) بعض حضرات کسی کو مرغیاں دیتے ہیں کہ تم پالو اور انڈے آدھے آدھے ہوں گے۔
(۲) چوزے دیتے ہیں کہ پالنے کے بعد آدھے آدھے ہوں گے۔
(۳) کسی کو چندہ کے لیے بھیجتے ہیں کہ ایک ربع آپ کا ہوگا۔
(٤) کوئی چیز فروخت کے لیے دیتے ہیں کہ جتنے میں فروخت ہو تو دس فیصد آپ کا ہوگا۔
(۵) فصل کاٹنے کے لیے کسی کو لگایا جاتا ہے کہ دس گٹھڑیوں میں ایک آپ کی ہو گی۔
بعض علماء ان معاملات کو ناجائز کہتے ہیں کہ یہ قفیز الطحان کے حکم میں ہے یعنی آٹے پیسنے والے کو پیسے ہوئے آٹے کا ایک حصہ دینا جو ناجائز ہے؟
بينوا بالتفصيل توجروا بأجر جزيل
۔

Answer

شریعتِ مطہرہ میں "عرف و عادت اور تعامل ناس" قاعدۂ کلیہ اور اصل عظیم کی حیثیت رکھتے ہیں، کثیر تعداد میں مسائل فقہیہ کا مدار اسی قاعدہ پر رکھا گیا ہے، لہذا مذکورہ بالا مسائل اور معاملات بھی اسی قبیل سے ہیں آج کل کمیشن ایجنٹ اور دوسرے بعض مسائل میں حصہ لینا عام عادت بن گئی ہے اس لیے یہ تمام معاملات جائز اور درست ہونا چاہیے ہونا چاہیے۔
کتبِ فقہیہ میں مرقوم ہے کہ قفیز الطحان میں یعنی پیسے ہوئے آٹے میں سے اجرت دینا یہ مسئلہ حدیث شریف سے ثابت ہے اور کمیشن پر چندہ یا مرغیوں کے پالنے پر پالنے والے کو آدھا حصہ دینا وغیرہ یہ مسائل قیاس سے ثابت ہیں اور یہ قاعدہ بھی مسلّم ہے کہ قیاس اور عرف میں تعارض ہو تو عرف پر عمل ہوگا قیاس کو چھوڑا جائے گا، کیوں کہ تعامل ملحق بالاجماع ہے۔
ملاحظہ ہو حکیم الامت حضرت تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:

"قال في نور الأنوار: وتعامل الناس ملحق بالإجماع وفيه ثم إجماع من بعدهم أي بعد الصحابة ث من أهل كل عصر".
اس سے معلوم ہوا کہ تعامل بھی مثل اجماع کے کسی عصر کے ساتھ خاص نہیں، البتہ جو اجماع کا رکن ہے وہی اس میں بھی ہونا ضروری ہے، یعنی اس وقت کے علماء اس پر نکیر نہ کرتے ہوں، اسی طرح فقہاء نے بہت سے نئے جزئیات کے جواز پر تعامل سے احتجاج کیا ہے۔

كما في الهداية: في البيع الفاسد: ومن اشتري نعلاً على أن يحذوه البائع قوله يجوز للتعامل فيه فصار كصبغ الثوب للتعامل جوزنا الاستصناع وفيها في السلم أن استصنع إلى قوله للإجماع الثابت بالتعامل. (
فقہ حنفی کے اصول و ضوابط، ص ۱٦۱، بحوالہ امداد الفتاوی: ٤/۲٦۵)۔

قال في الكفاية: وجه الاستحسان أن فيه عرفاً ظاهراً وفي النزوع عن العادة حرج بين فصار كصبغ الثوب لأن القياس أن لا يجوز لأن الإجارة بيع المنافع والصبغ عين وجوزناها للتعامل وكالاستصناع فإن بيع المعدوم لا يجوز وإنما جوزناه للتعامل. (الكفاية شرح الهداية على هامش فتح القدير: ٦/۸۵، رشيدية).
وقال في العناية: ووجهه ما بيناه أنه شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين وفي الاستحسان يجوز للتعامل والتعامل قاضٍ على القياس لكونه إجماعاً فعلياً كصبغ الثوب. (العناية في شرح الهداية على هامش فتح القدير: ٦/۸۵، رشيدية).
قال العلامة الزيلعي رحمه الله في تبيين الحقائق: وكان مشايخ بلخ رحمه الله والنسفي رحمه الله يجيزون حمل الطعام ببعض المحمول ونسج الثوب ببعض المنسوج لتعامل أهل بلادهم بذلك وقالوا من لم يجوزه إنما لم يجوزه بالقياس على قفيز الطحان والقياس يترك بالتعارف، ولئن قلنا إن النص يتناوله دلالة فالنص يختص بالتعامل ألا تري أن الاستصناع ترك القياس فيه وخص عن القواعد الشرعية بالتعامل.
وبهامشه قال الشيخ شهاب الدين الشلبي رحمه الله: وأما مشايخ بلخ رحمه الله فإنما جوزوا ذلك لأن الناس تعاملوا بذلك حيث احتاجوا إليه ووجدوا له نظيراً وهو المزارعة والمعاملة، اتقاني. (تبيين الحقائق مع الحاشية: ۵/۱۳۰، باب الإجارة الفاسدة، ملتان).
وهكذا في البحر الرائق وزاد بقوله: وفي الظهيرية: وبه أخذ الفقيه أبو الليث وشمس الأئمة الحلواني رحمه الله والقاضي أبو على النسفي رحمه الله. (البحر الرائق: ۸/۲٤، باب الإجارة الفاسدة، كوئته).

محیط برہانی میں ہے:

وإذا دفع الرجل إلى حائك غزلاً لينسجه بالنصف أو ما أشبه ذلك فالإجارة فاسدة وأما لأنه في معني قفيز الطحان لأنه جعل الأجر بعض ما يحدث من عمله

ومشايخ بلخ رحمه الله كنصير بن يحيى ومحمد بن سلمة وغيرهما كانوا يفتون بجواز هذه الإجارة في الثياب لتعامل أهل بلدهم في الثياب والتعامل حجة يترك به القياس ويخص به الأثر وتجويز هذه الإجارة في الثياب للتعامل بمعني تخصيص النص الذي ورد في قفيز الطحان، لأن النص ورد في قفيز الطحان؛ لا في الحائك إلا أن الحائك نظيره فيكون وارداً فيه دلالة، فمتى تركنا العمل بدلالة هذا النص في الحائك وعملنا بالنص في قفيز الطحان كان تخصيصاً، لا تركاً أصلاً وتخصيص النص بالتعامل جائز. (المحيط البرهاني: ۹/۱۷۹، نوع آخر في قفيز الطحان، مكتبة رشيدية).
(وهكذا في الشامي: ٤/۵۱۹، مطلب في الاعتياض عن الوظائف، سعيد. والفتاوى الهندية: ٤/٤٤۵، الفصل الثالث في قفيز الطحان وما هو معناه. وكذا في تكملة فتح القدير: ۹/۱۰۹، باب الإجارة الفاسدة، دار الفكر).

فتاوی شامی میں ہے:

تتمة: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذلك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام. (فتاوى الشامي: ٦/٦۳، مطلب في أجرة الدلال، سعيد).

فتاوی غیاثیہ میں ہے:

قال الفقيه أبو الليث: النسج بالثلث والربع لا يجوز عند علمائنا رحمه الله لكن مشايخ بلخ استحسنوا وأجازوا لتعامل الناس، قال: وبه نأخذ. (الفتاوى الغياثية، كتاب الإجارات، نوع في النساج، ص ۱٦۰).
وفي "الفقه الحنفي في ثوبه الجديد": قال: ولرأي مشايخ بلخ رحمه الله والنسفي رحمه الله وجاهة في عصرنا الحاضر، لأن التعامل به شاع وانتشر في كل البلاد. (الفقه الحنفي في ثوبه الجديد: ٤/٤۰۳، الاستئجار ببعض ما يخرج من عمل الأجير).

امداد الفتاوی میں ہے:
سوال: (۳۳۳) (٤) کپڑے کی آڑھت (دلالی) والے کے پاس خریدار فرمائش لکھ کر بھیج دیتے ہیں، آڑھت والا فرمائش کے مطابق کپڑا خرید کر بھیج دیتا ہے اور حق آڑھت کا فیصدی جو مقرر ہے لے لیتا ہے،
آیا یہ درست ہے؟ (۵) بعض جگہ دلالوں کی دلالی فی روپیہ ایک پیسہ مقرر ہے یعنی جتنے روپے کا کپڑا فروخت کر دیں فی روپیہ ایک پیسہ دلالی لے لیتے ہیں ایسی دلالی جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
في شرح طريقة المحمدية للخادمي الجزء الرابع منه عن لب الأحياء وأما إعانته على عمل معين إلى قوله أو مباحاً فيه تعب بحيث يجوز الاستئجار عليه حل أخذه وهو جعل. وفي جامع الفصولين: للقاضي أن يأخذ

اس روایت سے معلوم ہوا کہ چونکہ آڑھت میں عمل اور مشقت موجود ہے اس لیے اجرت درست ہے، (۵) جب اجرت کا جواز ثابت ہو گیا، اس کے شرائط میں سے تعیین اجر ہے، اور تعیین کی یہ بھی ایک صورت ہے اس لیے جائز معلوم ہوتا ہے۔ (امداد الفتاوی: ۳/۳٦۳، تحقیق بعض احکامِ دلال)۔
امداد الاحکام میں ہے:
سوال: ایک شخص زید ہے، دوسرا بکر ہے، تو زید نے بکر سے کہا کہ ہمارے پاس سودا ہے، اور اگر سودا کو تم اپنی معرفت کسی کے ہاتھ فروخت کروا دو گے تو تم کو اتنا روپیہ کمیشن دیں گے، تو اس طرح کمیشن لینا درست ہے یا نہیں؟
جواب: اس صورت کو عالمگیریہ نے ذخیرہ سے حرام لکھا ہے، اور شامی نے بھی تاتارخانیہ سے حرمت نقل کی ہے، و لیکن محمد بن سلمہ سے اس میں گنجائش نقل کی ہے، اور حضرت مولانا تھانوی رحمه الله اس صورت میں جواز ہی کو اختیار کرتے ہیں،
والجواب عن الفساد للجهالة، أن هذه الجهالة لا يفضي إلى النزاع، فكانت يسيرة، وهي لا يفسد الإجارة والبيع،
اور اس زمانہ میں اس کی ضرورت بھی بہت زیادہ ہے، پس اس کو جائز کہنا ہی بہتر ہے، واللہ اعلم۔ (امداد الاحکام: ۳/۵۸۹، حکمِ اجرتِ دلال)۔
اعلاء السنن میں ہے:

قلت: والحاصل أن الجهالة اليسيرة عفو في ما جرى به التعامل، لكونها لا تفضي إلى النزاع عادة. (إعلاء السنن: ۱٦/۲۰۹، باب أجرة السمسرة، إدارة القرآن).

قاموس الفقہ میں ہے:
آج کل مختلف تجارتوں میں کمیشن کا طریقہ مروج ہو گیا ہے، یعنی کمپنی اپنا مال فروخت کرنے والوں کو بجائے تنخواہ متعین کرنے کے فیصد متعین کر دیتی ہے، کہ مثلاً جتنی فروخت ہو گی، اس کا دس فیصد اسے بطورِ اجرت دیا جائے گا بہت سے دینی اور عصری اداروں میں جو لوگوں کے تعاون پر چلاتے ہیں، انھیں متعینہ تنخواہ دینے کے بجائے کچھ فیصد اجرت دے دی جائے اس میں مدرسہ والے اپنے لیے یہ عافیت سمجھتے ہیں کہ اگر تنخواہ مقرر کی جائے تو ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ محنت میں کمی کرے اس لیے یہ مسائل موجودہ دور میں علماء کے لیے گہرے فکر اور توجہ کے طالب ہیں احناف میں مشائخ بلخ نے عرف کی رعایت کرتے ہوئے اس کی اجازت دی ہے۔ (قاموس الفقہ: ۱/٤۹۹)۔
حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمه الله نے خرید و فروخت کے ایسے معاملات کو "دیانۃً" درست قرار دیا ہے جس میں گو کہ قیمت یا سودا پوری طرح متعین نہ ہو مگر آئندہ نزاع اور اختلاف پیدا ہونے کا امکان نہ ہو۔

إن من البيوع الفاسدة ما لو أتي بها أحد جازت ديانة وإن كانت فاسدة قضاء ً أو ذلك لأن الفساد قد تكون لحق الشرع بأن اشتمل العقد على مأثم فلا يجوز بحال وقد تكون الفساد مخالفة التنازع ولا يكون فيه شيء آخر يوجب الإثم فذلك إن لم يقع فيه التنازع جاز عندي ديانة وإن بقي فاسداً قضاءً لارتفاع علة الفساد وهي المنازعة. (فيض الباري: ۳/۲۵۸، كتاب البيوع). (مأ خوذ از جديد فقهي مسائل: ٤/۳۲۳).

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مسائل: ٤/۳۲۹۔ ۳۳٤۔ و بحوث فی قضایا فقہیہ معاصرہ: ۱/۲۰٦۔ ۲۰۸۔ و قاموس الفقہ: ۱/٤۹۸۔ و مالی معاملات پر غرر کے اثرات، ص ۸۹۔ ۹۰)۔
حدیث شریف "قفیز الطحان" کا جواب:
(۱) یہ حدیث ضعیف اور معلول ہے۔

قال المناوي رحمه الله في فيض القدير: قال في الميزان: هذا حديث منكر وهشام أبو كليب أحد رواته لا يعرف، وأورده عبد الحق في الأحكام

وفيه هشام أبو كليب قال ابن القطان: لا يعرف، والذهبي: حديثه منكر ومغلطائي: هو ثقة وجزم ابن حجر بضعف سنده. (فيض القدير: ٦/۳۳۵/۹٤۹۳. وكذا في التلخيص الحبير: ۳/۱٤٦/۱۲۸۷. وميزان الاعتدال: ۵/٤۳۱).
وقال الحافظ ابن حجر رحمه الله في الدراية: حديث نهي النبي ﷺ عن قفيز الطحان، الدارقطني وأبو يعلي والبيهقي وفي إسناده ضعف. (الدراية في تخريج أحاديث الهداية: ۳/۳۰۵، باب الإجارة الفاسدة).
وفي خلاصة البدر المنير: حديث النهي عن قفيز الطحان رواه الدارقطني من رواية أبي سعيد رضي الله عنه بإسناد فيه مجهول. (خلاصة البدر المنير: ۲/۱۰۷/۱٦۵۵).
قال البوصيري في إتحاف الخيرة المهرة: مدار هذه الطرق على عبد الرحمن الأفريقي وهو ضعيف. (إتحاف الخيرة المهرة: ٤/۲٦۲/۳۸۲۰، باب النهي عن عسب الفحل وقفيز الطحان).

(۲) نص عام مخصوص البعض ہے یعنی عرف و تعامل کی وجہ سے نص کی تخصیص کی گئی ہے، جیسا کہ علامہ ابو البرکات نسفی رحمه الله اور علامہ شامی رحمه الله نے تحریر فرمایا ہے۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

ثم اعلم أن العرف قسمان عام وخاص فالعام يثبت به الحكم العام ويصلح مخصصاً للقياس والأثر بخلاف الخاص

قال في الذخيرة في الفصل الثامن من الإجارات في مسألة ما لو دفع إلى حائك غزلاً لينسجه بالثلث ومشايخ بلخ كنصير بن يحيي ومحمد بن سلمة وغيرهما كانوا يجيزون هذه الإجارة في الثياب لتعامل أهل بلدهم في الثياب والتعامل حجة يترك به القياس ويخص به الأثر وتجويز هذه الإجارة في الثياب للتعامل بمعني تخصيص النص الذي ورد في قفيز الطحان لأن النص ورد في قفيز الطحان لا في الحائك إلا أن الحائك نظيره فيكون وارداً فيه دلالة فمتى تركنا العمل بدلالة هذا النص في الحائك وعملنا بالنص في قفيز الطحان كان تخصيصاً لا تركاً أصلاً وتخصيص النص بالتعامل جائز ألا تري أنا جوزنا الاستصناع للتعامل والاستصناع بيع ما ليس عنده وإنه منهي عنه وتجويز الاستصناع بالتعامل تخصيص منا للنص الذي ورد في النهي عن بيع ما ليس عند الإنسان لا ترك للنص أصلاً لا نا عملنا بالنص في غير الاستصناع قالوا: بخلاف ما لو تعامل أهل بلدة قفيز الطحان فإنه لا يجوز ولا تكون معاملتهم معتبرة لا نا لو اعتبارنا معاملتهم كان تركاً للنص أصلاً وبالتعامل لا يجوز ترك النص أصلاً وإنما يجوز تخصيصه ولكن مشايخنا لم يجوزوا هذا التخصيص لأن ذلك تعامل أهل بلدة واحدة

بخلاف التعامل في الاستصناع فإنه وجد في البلاد كلها، انتهى كلام الذخيرة. (شرح عقود رسم المفتي، ص ٤۱. وكذا في رسالة "نشر العرف في بناء بعض الأحكام على العرف" المندرجة في رسائل ابن عابدين رحمه الله، ۲/۱۱٤، سهيل).

علامہ نسفی رحمه الله فرماتے ہیں:

والاستحسان أنواع يكون بالأثر والإجماع والضرورة والقياس الخفي كالسلم فإن القياس يأبى جوازه لعدم المعقود عليه عند العقد إلا أنا تركناه بالنص وهو قوله عليه السلام "من أسلم منكم فليسلم في كيل معلوم" الحديث، والاستصناع فيما فيه تعامل الناس مثل أن يأمر إنساناً بأن يخرز له خفاً بكذا ويبين صفته ومقداره ولم يذكر له أجلاً والقياس يقتضي أن لا يجوز لأنه بيع معدوم لكنهم استحسنوا تركه بالإجماع لتعامل الناس فيه فإن قلت: الإجماع وقع معارضاً بالنص وهو قوله عليه السلام "لا تبع ما ليس عندك". وأجيب بأن النص صار مخصوصاً في حق هذا الحكم بالإجماع، وفيه نظر لأن القران شرط الخصوص عندنا والإجماع ليس بمقارن ويمكن أن يجاب عنه بأن القران شرط التخصيص الأول والنص مخصوص قبل الإجماع بالسلم فيجوز بعده بالإجماع. (منار مع شرحه لعبد اللطيف ابن الملك، ۲/۸۱۲).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.