اسٹیٹ ایجنٹ کے لیے سروس فیس وصول کرنے کا حکم:
Question
کیا اسٹیٹ ایجنٹ (estate agent) کے لیے فیصد کے اعتبار سے سروس فیس وصول کرنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
اسٹیٹ ایجنٹ کی سروس فیس دلالی کے حکم میں ہے اور دلالی کی اجرت فیصد کے اعتبار سے بھی جائز ہے۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
تتمة: قال في التاتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذلك حرام عليهم، وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثره التعامل، وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام. (فتاوى الشامي: ٦/٦۳، سعيد).
مالی معاملات پر غرر کے اثرات میں ہے:
اسٹیٹ ایجنسی کے معاملے میں فریقین کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ فلاں مکان کی فروختگی کے لیے ایجنٹ کو کتنی بھاگ دوڑ کرنا پڑے گی اور اجرت بھی مجہول ہوتی ہے لیکن چونکہ ان صورتوں میں پائی جانے والی جہالت نزاع کا باعث نہیں بنتی، نیز عصر حاضر میں ایسے معاملات بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں اور لوگوں کو آئے روز اس کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے اس لیے فقہائے کرام نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ (مالی معاملات پر غرر کے اثرات، ص ۹۰)
تفصیل مسئلہ مذکورہ بالا میں گزر چکی ہے، تکرار موجبِ طوالت ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.