وکیل بالبیع کا کمیشن پر فروخت کرنے کا حکم:
Question
زید نے عمر کو کسی بلڈنگ کا وکیل بالبیع بنایا اور یہ بتایا کہ کم سے کم ایک سکویر میٹر ۱۲ ہزار میں ٤ فیصد کمیشن کے ساتھ فروخت کریں لیکن اگر زائد میں فروخت کیا مثلاً ۱۸ ہزار میں فروخت کیا تو مزید ٦ ہزار میں نصف آپ کا اور نصف میرا ہوگا، یہ معاملہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
Answer
فیصد کے اعتبار سے کمیشن ایجنٹ کا معاملہ تعامل ناس اور عرف کی وجہ سے جائز اور درست ہے۔
ملاحظہ ہو امداد الفتاوی میں ہے:
چونکہ آڑھت میں عمل اور مشقت موجود ہے اس لیے اجرت درست ہے، جب اجرت کا جواز ثابت ہو گیا، اس کے شرائط میں تعیین اجر ہے، اور تعیین کی یہ بھی ایک صورت ہے اس لیے جائز معلوم ہوتا ہے۔ (امداد الفتاوی: ۳/۳٦۳، تحقیق بعض احکامِ دلال)۔
امداد الاحکام میں ہے:
سوال: ایک شخص زید ہے، دوسرا بکر ہے، تو زید نے بکر سے کہا کہ ہمارے پاس سودا ہے، اور اگر سودا کو تم اپنی معرفت کسی کے ہاتھ فروخت کروا دو گے تو تم کو اتنا روپیہ کمیشن دیں گے، تو اس طرح کمیشن لینا درست ہے یا نہیں؟
جواب: اس صورت کو عالمگیریہ نے ذخیرہ سے حرام لکھا ہے، اور شامی نے بھی تاتارخانیہ سے حرمت نقل کی ہے، لیکن محمد بن سلمہ سے اس میں گنجائش نقل کی ہے، اور حضرت مولانا تھانوی رحمه الله اس صورت میں جواز ہی کو اختیار کرتے ہیں،
والجواب عن الفساد للجهالة، أن هذه الجهالة لا يفضي إلى النزاع، فكانت يسيرة، وهي لا يفسد الإجارة والبيع،
اور اس زمانہ میں اس کی ضرورت بھی بہت زیادہ ہے، پس اس کو جائز کہنا ہی بہتر ہے، واللہ اعلم۔ (امداد الاحکام: ۳/۵۸۹، حکمِ اجرتِ دلال)۔
دلائل کی تفصیل ما قبل میں گزر چکی ہے، وہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.