تقریر اور وعظ کہنے پر اجرت لینے کا حکم:
Question
کیا تقریر اور وعظ کہنے پر اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
تقریر اور وعظ پر اجرت لینا فقہاء کے کلام سے جائز معلوم ہوتا ہے، لیکن ہمارے اکابر رحمه الله نے پسند نہیں فرمایا ۔ لہذا نفسِ جواز میں تو کوئی کلام نہیں ہے البتہ پسندیدہ نہیں ہے ۔ ہاں جس مقرر نے وعظ ہی کے لیے اپنے آپ کو فارغ کر رکھا ہے تو اس کے لیے اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ويفتي اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان. وفي الشامية: وزاد بعضهم الأذان والإقامة والوعظ. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۵۵، مطلب تحرير مهم في عدم جواز الاستئجار على التلاوة
، سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وفي الأصل لا يجوز الاستئجار على الطاعات كتعليم القرآن والفقه والأذان والتذكير والتدريس والحج والعمرة ولا يجب الأجر، كذا في الخلاصة ومشايخ بلخ رحمه الله جوزوا
والمختار للفتوى في زماننا قول هؤلاء كذا في الفتاوى العتابية. (الفتاوى الهندية: ٤/٤٤۸).
وفي البزازية: الاستئجار على الطاعات كتعليم القرآن والفقه والتدريس والوعظ لا يجوز أي لا يجب الأجر وأهل المدينة طيب الله ساكنها جوزه قال في المحيط وفتوى مشايخ بلخ رحمه الله على الجواز قال الإمام الفضلي والمتأخرون على جوازه. (الفتاوى البزازية: ۲/۳۷).
مجمع الانہر میں ہے:
ولا يجوز أخذ الأجرة عند المتقدمين على الطاعات وفي شرح الوافي والمذهب عندنا أن كل طاعة يختص بها المسلم فالاستيجار عليها باطل كالأذان والحج والإمامة والتذكير والتدليس
ويفتي اليوم بالجواز
كما في عامة المعتبرات وهذا على مذهب المتأخرين من مشايخ بلخ رحمه الله استحسنوا ذلك وقالوا: الأحكام قد تختلف باختلاف الزمان ألا يري أن النساء كن يخرجن إلى الجماعات في زمانه عليه الصلاة والسلام وفي زمان أبي بكر الصديق رضي الله عنه حتى منعهن عمر رضي الله عنه واستقر الأمر عليه وكان ذلك هو الصواب. (مجمع الأنهر شرح ملتقي الأبحر: ۲/۳۸۲).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جس طرح تعلیم و تدریس کی ملازمت درست ہے اسی طرح تذکیر و تقریر کی ملازمت بھی درست ہے، کام متعین کر لیا جائے، مثلاً ہر روز ایک گھنٹہ، یا ہر جمعہ کو دو گھنٹے تقریر لازم ہو گی اور اتنا معاوضہ دیا جائے گا، یا مقرر کو مستقل ملازم تقریر کے لیے رکھ لیا جائے کہ جلسوں میں بلانے پر یا بغیر بلائے دیگر مقامات پر جا جا کر تقریر کرے ۔
یہ طریقہ پسندیدہ نہیں ہے کہ کسی جگہ وعظ فرمایا اور روپیئے لے لیے، پھر اگر اپنے انداز سے کچھ کم ہو جائے تو ناک بھوں چڑھانے لگے، اس طرح وعظ کا اثر بھی ختم ہو جاتا ہے اور بلانے والے رسمی طور پر بلاتے ہیں اور بلانے سے پہلے سے ہی فقرے کسنے شروع کر دیتے ہیں کہ ان کو اتنا دیا گیا تھا اس سے نا خوش ہوے تھے، لہذا جب تک اس سے زیادہ کا انتظام نہ ہو جائے ان کو نہیں بلانا چاہیے، وغیرہ وغیرہ ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۷/۸۵، جامعہ فاروقیہ) ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
وعظ کہنے پر اجرت وصول کرنا جائز ہے یا نہیں اس بارے میں بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ اجرت علی الطاعات میں داخل ہے اس لیے جائز نہیں لیکن بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ جائز ہے چنانچہ دونوں اقوال میں تطبیق دیتے ہوے حضرت تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
اگر وعظ کہنے کی نوکری اختیار کر لی جائے امامت کی طرح تو اجرت لینا جائز ہے اور اگر (مستقل) نوکری نہیں کی، بلکہ عین وقت پر اجرت لینے کی شرط طے کرے، (یعنی کسی کو وقتی طور پر وعظ کے لیے بلایا جائے اور وہ اجرت دینے کی شرط رکھے) تو یہ صورت جائز نہیں جیسے کوئی مستقل امام نہ ہو بلکہ نماز کا وقت ہو گیا اور وہ مسجد میں موجود ہے اس کو نماز کے لیے کہا گیا تو عین وقت پر امامت پر اجرت مانگنے لگے، یہ بھی جائز نہیں ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۲۱۳) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
اگر کسی کو وعظ کہنے کے لیے ملازم رکھا گیا ہے یا کسی نے اپنے کو اسی کام کے لیے فارغ کر رکھا ہے تو اس صورت میں وعظ پر اجرت لینا جائز ہے اور اگر کسی خاص موقع پر کسی عالم سے وعظ کہنے کی درخواست کی جائے تو وعظ پر اجرت لینا جائز نہیں ۔ (احسن الفتاوی: ۷/۳۰۰) ۔
ہاں اس وقت تحفہ ہدیہ وغیرہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
وعظ کی اجرت کو بھی بسبب ضرورت کے متاخرین نے جائز لکھا ہے ۔ (تالیفاتِ رشیدیہ، ٤۱۸، ادارہ اسلامیات لاہور) ۔
قاموس الفقہ میں ہے:
اتفاقی وعظ اور تقریر وغیرہ پر اجرت لینا جائز نہیں، اس لیے کہ اس کی وجہ سے کوئی شعار دینی متاثر نہیں ہوتا، نہ دین کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، ہاں اگر کسی کو خاص اسی کام کے لیے رکھ لیا جائے اور وعظ و نصیحت تبلیغ و دعوت ہی اس کی مستقل ذمہ داری اور ڈیوٹی قرار پائے تو اب اس پر اجرت لینی جائز ہو گی ۔ (قاموس الفقہ: ۱/٤۹۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.