امامت تراویح پر اجرت لینے کا حکم:
Question
امامتِ تراویح پر اجرت یا ہدیہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
تراویح پر اجرت یا ہدیہ لینا درست نہیں، اگر پہلے لینے کی نیت نہیں کی اور اتفاقاً لوگوں نے کچھ دے دیا تو اس کا لینا جائز ہے، علمائے دیوبند کا یہی فتوی ہے ۔ فتاوی شامی میں ہے:
وأن القراءة لشيء من الدنيا لا تجوز وأن الآخذ والمعطي آثمان لأن ذلك يشبه الاستئجار على القراءة ونفس الاستئجار عليها لا يجوز فكذا ما أشبهه كما صرح بذلك في عدة كتب من مشاهير كتب المذهب وإنما أفتي المتأخرون بجواز الاستئجار على تعليم القرآن لا على التلاوة وعلّلوه بالضرورة وهي خوف ضياع القرآن ولا ضرورة في جواز الاستئجار على التلاوة كما أوضحت ذلك في شفاء العلى ل وسيأتي بعض ذلك في باب الإجارة الفاسدة إن شاء الله تعالى. (شامي: ۲/۷۳، سعيد)
بعض مفتی حضرات فرماتے ہیں کہ یہ امامت پر اجرت ہے کیوں کہ صرف قرآن کریم سنانا مقصود نہیں بلکہ امامت کے ضمن میں قرآن سنانا مقصود ہے تو یہ امامت مسنونہ پر اجرت ہے جیسے کوئی کسی کو جمعہ کے دن فجر کی نماز پڑھانے اور اس میں سورۂ الٓم ٓ سجدہ اور سورۂ دہر پڑھنے کے لیے کہہ دے تو یہ امامت اور اجرت جائز ہے اسی طرح یہ بھی جائز ہے، نیز تراویح کے امام کی شکل و صورت کا لحاظ رکھنا کہ داڑھی پوری ہو، شلوار و پاجامہ ٹخنوں سے نیچے نہ ہو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ امامت مقصود ہے صرف قرآن سنانے کے لیے ہوتا تو یہ شرائط نہ ہوتے ۔ نیز بظاہر اجرت بھی نہیں کیوں کہ کوئی کچھ دیتے ہیں اور کوئی کچھ، کوئی کم ہدیہ پیش کرتے ہیں اور کوئی زیادہ، اجرت تو وہ ہے جو معروف یا مشروط ہو یہاں دینے کا عرف تو ہے لیکن مقدار میں بہت تفاوت ہوتا ہے ۔
اس کی نظیر حدیث شریف میں ملاحظہ ہو :
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رجلاً من كلاب سأل رسول الله ﷺ عن عسب الفحل فنهاه فقال: يا رسول الله إنا نطرق الفحل فنكرم فرخص له في الكرامة. وقال الترمذي رحمه الله: وقد رخص قوم في قبول الكرامة على ذلك. (رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن: ۱/۲٤۰، باب ما جاء في كراهية عسب الفحل)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ اجرت ممنوع ہے لیکن آ کراماً جو ہدیہ دیا جائے اس کی گنجائش ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی فریدیہ میں ہے:
حافظ کا ختمِ تراویح میں رقم اور اجرت لینا اجرت علی الامامت ہے علی التلاوۃ نہیں ۔
سوال: حفاظ تراویح میں ختم کرنے کے بعد جو رقم وغیرہ لیتے ہیں وہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟
الجواب: فقہائے کرام نے تلاوت پر اجرت لینے کو ناجائز کہا ہے، لیکن ہمارے بلاد میں حفاظ تلاوت بھی کرتے ہیں اور امامت بھی کرتے ہیں، تو ان کی رقو م کو صرف تلاوت کا معاوضہ ٹھہرانا اور امامت سے خاموش رہنا بلا وجہ ہے اور اگر صرف تلاوت کو ملحوظ کیا جائے تو تلاوت سے کوئی تراویح خالی نہیں تو مطلق تراویح پر اجرت لینا ناجائز ہوگا ۔ بہر حال حافظ کی اس رقم پر ان کار کرنا ہندی مسئلہ ہے حنفی نہیں ہے، یہ اجرت علی الامامت ہے نہ علی محض التلاوۃ ۔ (فتاوی فریدیہ:
۱/٦۰۷
، مسائل شتی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.