تلاوتِ قرآنِ کریم پر اجرت لینے کا حکم:
Question
مصر سے جو قراء آتے ہیں وہ تلاوت کا عوض لیتے ہیں، تو انھیں عوض دے کر تلاوت سننا جائز ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ تلاوتِ قرآنِ پاک پر اجرت لینا جائز نہیں، ہاں اگر شرط کے بغیر لوگوں نے اتفاقاً کچھ دے دیا تو اس کا لینا جائز ہے، ہمارے اکابر رحمۃ اللہ نے یہی تحریر فرمایا ہے ۔ علامہ شامی رحمۃ اللہ نے عدمِ جواز میں ایک مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے جو رسائل ابن عابدین میں شامل ہے ۔ چند دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
(
۱
) عن عبد الرحمن بن شبل أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: اقرؤوا القرآن فإذا قرأتموه فلا تستكثروا به ولا تغلوا فيه ولا تجفوا عنه ولا تأكلوا به.. الخ. (أخرجه الطبراني في الأوسط، رقم: ۲۵۷٤).
وأيضاً أخرجه البيهقي في الكبري، (رقم: ۲۳٦۲)، وأبو يعلي في مسنده، (رقم: ۱۵۱۸)، وقال محشيه حسين سليم أسد: إسناده صحيح. وأحمد في مسنده (۱۵۵۲۹)، قال الشيخ شعيب: حديث صحيح وهذا إسناده قوي
الخ.
(
۲
) وعن بريدة قال: قال رسول الله ﷺ: من قرأ القرآن يتأكل به الناس جاء يوم القيامة ووجهه عظم ليس عليه لحم. (أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، رقم: ۲۳۸٤). وإسناده ضعيف.
فقہاء نے استیجار علی تعلیم القرآن و الفقہ کو ضرورت کے پیش نظر جائز فرمایا ہے لیکن استیجار علی التلاوۃ المجردۃ میں کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ چنانچہ علامہ شامی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
لأن ما أجازوه، إنما أجازوه للضرورة كالاستئجار لتعليم الفقه أو الفقه أو الأذان أو الإمامة خشية التعطيل لقلة رغبة الناس في الخير، ولا ضرورة في استئجار شخص يقرأ على القبر وغيره. (فتاوى الشامي: ٦/٦۹۱، سعيد).
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ سے بھی عدمِ جواز مروی ہے ۔ ملاحظہ ہو : المحیط البرہانی میں ہے:
وقيل: لا يجوز الوصية باستئجار القاري ليقرأ القرآن وإن كان القاري معيناً وهو قول أبي حنيفة رحمه الله. (المحيط البرهاني: ۲۳/۳۹، ط: الرياض).
وقال في الشامية: وإن القراءة لشيء من الدنيا لا تجوز وإن الآخذ والمعطي آثمان لان ذلك يشبه الاستئجار على القراءة ونفس الاستئجارة عليها لا يجوز فكذا ما أشبهه كما صرح بذلك في عدة كتب من مشاهير كتب المذهب وإنما أفتي المتأخرون بجواز الاستئجار على تعليم القرآن لا على التلاوة وعللوه بالضرورة وهي خوف ضياع القرآن ولا ضرورة في جواز الاستئجار على التلاوة لما أوضحت ذلك في شفاء العليل. (فتاوى الشامي: ۲ /۷۳، مطلب في بطلان الوصية، سعيد).
البتہ بلا شرط اکراماً بطورِ ہدیہ کچھ دے دیا جائے تو اس کی اجازت ہو گی ۔
ترمذی شریف میں روایت ہے:
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رجلاً من كلاب سأل رسول الله ﷺ عن عسب الفحل فنهاه، فقال يا رسول الله! إنا نطرق الفحل فنكرم فرخص لهم في الكرامة. قال الإمام الترمذي: هذا حديث حسن. (رواه الترمذي: ۱/۲٤۰).
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
وعظ کی اجرت پہلے سے مقرر نہ کی جائے اور واعظ کی نیت میں بھی یہ بات نہ ہو کہ مجھے کچھ ضرور ملے گا، وہ محض حسبۃ ً للہ وعظ کہہ دے اور کوئی شخص اس کو تبرعاً کوئی رقم دے دے تو یہ رقم دینا بھی جائز، اور واعظ کو لینا بھی جائز ہے ۔ (کفایت المفتی: ۷/۳۱۹، ط: دار الاشاعت) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
مسئلہ: بعد نکاح بقاضی ووکیل وشاہدان کہ از طرفِ عروس فی آیند بخوشی خود بدونِ مطالبہ شاں چیزے دادن جائز است یا نہ؟
جواب: دادنِ ایں مرداں بدونِ مطالبہ وجبراز طرفِ ایشاں مباح است ۔
جو چیز کسی کو دی جاتی ہے اس کی چار صورتیں ہیں:
(۱) بعوض دی جائے ایسی چیز کا عوض جو شرعاً متقوم و قابل عوض ہے ۔
(۲) بعوض دی جائے ایسی چیز کا عوض جو شرعاً متقوم و قابل عوض نہیں ۔
(۳) بلا عوض بہ طیبِ خاطر دی جائے ۔
(٤) بلا عوض کراہتِ قلب سے دی جائے ۔
قسمِ سوم بوجہ ہدیہ و عطیہ ہونے کے حلال ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۳/۳۷۰) ۔
مذکورہ بالا نقولِ فقہاء و اکابر کی روشنی میں قاری صاحب کو بطورِ ہدیہ و عطیہ بلا شرط بہ طیبِ خاطر کچھ دے دیا جائے تو درست ہے اس کے لینے اور دینے میں کوئی کراہت نہیں ہے ۔
تنبیہ: یہ بات یاد رکھیں کہ جو قراء حضرات مصر سے یا کہیں اور سے سفر کر کے آتے ہیں ان کی آمد و رفت اور قیام و طعام کے انتظام کے اخراجات دینا درست ہے بلکہ دینے چاہیے، وہ اجرت علی التلاوۃ میں داخل نہیں ہے ۔ محض مجلس تلاوت میں تلاوت پر کچھ دینا درست نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.