قرآنِ کریم کی تلاوت کے آداب:
Question
بہت سارے لوگ جن کو کچھ درد کی شکایت ہے وہ اپنے گھروں میں صوفہ، کرسی پر اور مسجد میں کرسیوں پر بیٹھ کر پیر لٹکا کر تلاوت کرتے ہیں جیسے کوئی اخبار پڑھ رہا ہو، اور یہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی گناہ نہیں؟ قرآن کریم کی تلاوت کے لیے کیسے بیٹھنا چاہیے؟ اور ایسے لوگوں کو کیا نصیحت کرنی چاہیے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ بوقتِ تلاوت ایسی ہیئت اختیار کرنی چاہیے جو قرآن شریف کے ادب و احترام کے خلاف نہ ہو، اگر چہ جواز کے اعتبار سے قاعداً، قائماً، ماشیاً اور مضطجعاً ہر طرح تلاوت و ذکر و اذکار جائز اور درست ہے، کما قال اللہ تعالی:
﴿الذين يذكرون الله قياماً وقعوداً وعلي جنوبهم﴾ [آل عمران: ۱۹۱].
لہذا کوئی گناہ نہیں ہے البتہ خشوع و خضوع اور سکون و وقار اور ادب و احترام کے ساتھ بیٹھ کر تلاوت کرنا اولی اور بہتر ہے ۔
ادب سے مراد تکریم ہے یعنی قرآنِ مجید کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے جس سے اس کی بزرگی اور عظمت ظاہر ہو اور ایسی کاروائی سے احتراز کیا جائے جس سے اس کی نا قدری یا اہانت ہوتی ہو ۔ (کفایت المفتی:
۲
/
٤۹۲
، جامعہ فاروقیہ) ۔
حضرت تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں:
ادب کا مدار عرف پر ہے، اس لیے اختلافِ ازمنہ سے وہ مختلف ہو سکتا ہے، حضراتِ صحابہ کرام رضی الله عنه کا حضور ﷺ کے ساتھ مزاح کرنا ثابت ہے اور اب بزرگوں کے ساتھ مزاح کرنا خلاف ادب سمجھا جاتا ہے ۔ (تحفۃ العلماء:
۲
/
۱٦۷
، ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ) ۔
قرآنِ مجید کے بعض آداب اور مستحبات درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) تلاوت سے پہلے مسواک استعمال کرنا ۔
(۲) با وضو تلاوت کرنا ۔
(۳) حسبِ حیثیت عمدہ لباس پہن کر تلاوت کرنا ۔
(٤) تلاوت سے پہلے خوشبو استعمال کرنا ۔
(۵) سکون و وقار اور خشوع و خضوع کے ساتھ با ادب بیٹھنا، متکبرانہ ہیئت اختیار نہ کرے ۔
(٦) صاف ستھری جگہ بیٹھنا، سب سے افضل مسجد ہے ۔
(۷) قبلہ رو ہو کر بیٹھنا ۔
(۸) شروع کرنے سے پہلے تعوذ و تسمیہ پڑھنا ۔
(۹) تدبر کے ساتھ پڑھنا ۔
(۱۰) ترتیل سے پڑھنا یعنی حروف کی صحیح ادائیگی اور وقف کا لحاظ رکھتے ہوے صاف صاف پڑھنا ۔
وفي الفتاوى الهندية: رجل أراد أن يقرأ القرآن فينبغي أن يكون على أحسن أحواله يلبس صالح ثيابه ويتعمم ويستقبل القبلة لان تعظيم القرآن والفقه واجب كذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۱٦). وكذا في المحيط البرهاني: ۵/۱٤۵).
قال الإمام النووي رحمه الله في التبيان: الباب السادس في آداب القرآن
فأول ذلك يجب على القارئ الإخلاص، كما قدمناه ومراعاة الأدب مع القرآن
استعمال السواك وينبغي إذا أراد القراءة أن ينظف فاه بالسواك وغيره
محافظة على الطهارة، يستحب أن يقرأ وهو على طهارة فإن قرأ محدثاً جاز بإجماع المسلمين والأحاديث فيه كثيرة معروفة
نظافة المكان، ويستحب أن تكون القراءة في مكان نظيف مختار ولهذا استحب جماعة من العلماء القراءة في المسجد لكونه جامعاً للنظافة وشرف البقعة ومحصلاً لفضيلة أخري وهي الاعتكاف
يستحب للقارئ في غير الصلاة أن يستقبل القبلة فقد جاء في الحديث خير المجالس ما استقبل به القبلة ويجلس متخشعاً بسكينة ووقار مطرقاً رأسه ويكون جلوسه وحده في تحسين أدبه وخضوعه كجلوسه بين يدي معلمه فهذا هو الأكمل ولو قرأ قائماً أو مضطجعاً أو في فراشه أو على غير ذلك من الأحوال جاز وله أجر ولكن دون الأول
فإن أراد الشروع في القراءة استعاذ فقال: أعوذ بالله من الشيطان الرجيم هكذا قال الجمهور من العلماء
ثم إن التعوذ مستحب[ سنة] وليس بواجب
وينبغي أن يحافظ على قراءة بسم الله الرحمن الرحيم في أول كل سورة سوى براءة
فإذا شرع في القراءة فليكن شأنه الخشوع والتدبر عند القراءة
وقال السيد الجليل: دواء القلب خمسة أشياء:
۱
ـ قراءة القرآن بالتدبر
۲
ــ وخلاء البطن.
۳
ــ وقيام الليل.
۳
ــ والتضرع عند السحر.
۵
ــ ومجالسة الصالحين.
وينبغي أن يرتل قراء ته وقد اتفق العلماء رحمه الله على استحباب الترتيل
الخ. (التبيان في آداب حملة القرآن، ص ۷۰. ۸۹، ط: دار ابن حزم).
وفيه أيضاً: ومما يعتني به ويتأكد الأمر به احترام القرآن من أمور قد يتساهل فيها بعض الغافلين القارئين مجتمعين فمن ذلك اجتناب الضحك واللغط والحديث في خلال القراءة إلا كلاماً يضطر إليه
(التبيان، ص ۹۲).
وأيضاً قال: الباب السابع في آداب الناس كلهم مع القرآن، ثبت في صحيح مسلم عن تميم الداري رضي الله عنه قال: إن النبي ﷺ قال: الدين النصيحة قلنا لمن قال: لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم، قال العلماء رحمه الله: النصيحة لكتاب الله تعالى هي الإيمان بأنه كلام الله تعالى وتنزيله لا يشبهه شيء من كلام الخلق ولا يقدر على مثله الخلق بأسرهم ثم تعظيمه وتلاوته حق تلاوته وتحسينها والخشوع عندها
أجمع المسلمون على وجوب تعظيم القرآن العزيز على الإطلاق وتنزيهه وصيانته. (التبيان، ص: ۱٦۳). وللمزيد راجع: (إحياء علوم الدين: ۱/۳۲۵، دار الفكر، والإتقان في علوم القرآن: ۱/۲۹۱. ۲۹۸، ط: بيروت).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.