شرکت سے متعلق چند مسائل:

18 min readFatwa Vol 5 #419Urdu
Vol. 5كتاب المضاربةشرکت سے متعلق احکام کا بیان

Question

(۱): ملفوف کردہ دستاویز (معاہدہ نامہ) شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟
سوال (۲): اگر کوئی معاہد اس معاہدہ کے خلاف عمل کرے تو ایسی مخالفت از روئے شریعت مخالفت کہلائے گی یا نہیں؟
سوال (۳): اگر معاہدہ نامہ میں شرکتِ تجارت کا سرمایہ یعنی اس کی مقدار متعین طور پر مذکور نہ ہو مگر کسی خاص وجہ سے اس کی متعین مقدار سالانہ گوشوارے میں مذکور ہو تو شرکت معتبر ہوگی یا نہیں؟
سوال (٤): اگر کوئی شریک معاہدہ کے مطابق عمل کرنا چھوڑ دے جب کہ معاہدۂ شرکت میں بذاتِ خود عمل کرنا مشروط ہو، اور چلا جائے اور ۱۵ سال تک اسی طرح غائب رہے تو شرعاً ایسا غائب شریک تجارت میں شریک سمجھا جائے گا یا نہیں؟ اور اس کی وجہ سے اس کی شرکت ختم ہو جاتی ہے یا نہیں؟
سوال (۵): اگر کسی شریک کے مستعفی ہونے کے بعد باقی شرکاء ان کے استعفاء کا جواب نہ دیں، تو ایسا استعفاء شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟
سوال (٦): معاہدۂ شرکت میں یہ بھی مرقوم ہے کہ اگر کسی شریک نے تحریراً شرکت سے الگ ہونے کا استعفاء دیا تو استعفاء کی تاریخ کے چھ ماہ بعد اس کی شرکت از خود ختم ہو جائے گی، آیا اس کے مطابق شرکت ختم ہو گی یا نہیں؟
سوال (۷): اگر کسی شریک کے اس طور پر مستعفی ہونے کے باوجود بھی شرکاء نفع میں سے تقسیم کے وقت اس کا حصہ دیتے رہیں، تو اس کی شرکت باقی رہتی ہے یا ختم سمجھی جائے گی؟
سوال (۸): اگر کسی شریک نے استعفاء تحریر کیا اور کسی دوسرے کو معلوم نہیں ہوا بعد میں اتفاقاً کہیں سے یہ تحریر دستیاب ہو گئی جب کسی نے پیش نہیں کی تو اس کا اعتبار ہو گا یا نہیں؟
سوال (۹): اگر کوئی شریک معاہدہ نامہ کے مخصوص دفعہ کے خلاف اپنا استعفاء باقی شرکاء کو پیش کرے تو یہ معتبر ہے یا نہیں؟
سوال (۱۰): ایک شریک کے انتقال پر مرحوم کی اولاد کو شریکِ تجارت کرنے کی مجلس منعقد کرنا جس میں اور بعض ورثاء کی رضامندی ہو اور بعض ورثاء کا سکوت ہو، اس کی وجہ سے تمام ورثاء شریکِ تجارت سمجھیں جائیں گے یا نہیں؟ (اس کے علاوہ معاہدہ نامہ اور دفعات وغیرہ کو بسببِ طوالت حذف کر دیا گیا ہے) ۔
یہ استفتاء جنوبی افریقہ کے ایک خاندان کی طرف سے مختلف دار الافتاؤں میں بھیجا گیا، ہمارے پاس بھی یہ سولات آئے تھے، یہی سوالات دار العلوم کراچی میں ارسال کیے گئے تھے، وہاں سے بھی جوابات آئے تھے اور پھر یہ جوابات فتاوی عثمانی میں بھی چھپ گئے، یہ سوالات ہمارے پاس بھی آئے تھے، دار العلوم کراچی کے جوابات چونکہ جامع اور مختصر تھے، ہمارے دار الافتاء نے انہی جوابات کو مینارۂ نور سمجھا ۔

Answer

(۱): صورتِ مسئولہ میں شرکت درست ہو گئی، اگر چہ حنفی مسلک میں شرکت بالعروض درست نہیں ہوتی، لیکن چونکہ صورتِ مسئولہ میں شخص مذکور کے صاحبزادوں نے تمام جائیدادیں اپنے والد سے مشترک طور پر خرید لیں، اس لیے ان کے درمیان شرکۃ الملک متحقق ہو گئی اور شرکۃ الملک کے تحقق کے بعد شرکۃ العقد عروض میں بھی درست ہے ۔

لما في الهندية: والحيلة في جواز الشركة في العروض وكل ما يتعين بالتعيين أن يبيع كل واحد منهما نصف ماله بنصف مال صاحبه حتى يصير مال كل واحد منهما نصفين، وتحصل شركة ملك بينهما، ثم يعقدان بعد ذلك عقد الشركة فيجوز بلا خلاف كذا في البدائع. (الفتاوى الهندية: ۲/۳۰۷، باب اول، فصل ۳).

لہذا صحتِ شرکت میں عروض کی وجہ سے اشکال نہ رہا ۔
جہاں تک اس معاہدۂ شرکت کا تعلق ہے جو ضمیمہ کی دستاویز میں قلم بند ہے سو اس کی اکثر شرائط درست ہیں، لیکن اس میں بعض شرطیں فاسد بھی ہیں، مثلاً وہ شرط جو معاہدہ نامہ میں مذکور ہے، کہ کوئی شریک بالواسطہ یا بلا واسطہ اپنی کوئی الگ تجارت نہیں کر سکے گا، یہ شرکت عنان کے مقتضا کے خلاف ہے، اور شرکتِ مفاوضہ کی شرائط یہاں موجود نہیں، لہذا یہ شرط فاسد ہے، لیکن شرکت میں اگر کوئی شرط فاسد لگا دی جائے تو اس سے شرکت باطل نہیں ہوتی، بلکہ صرف وہ شرط فاسد ہو جاتی ہے اور اس پر عمل ضروری نہیں ہوتا ۔

لما في رد المحتار: لأن الشركة لا تفسد بالشروط الفاسدة. (فتاوى الشامي: ٤/۳۱٦، ط: سعيد).

ایک اور شرطِ فاسد معاہدے میں مذکور ہے کہ کسی ایک شریک کی وفات کی صورت میں ۳۰ جون سے وفات تک جتنے ماہ گزرے ہیں، ہر ماہ کے مقابلہ میں ان کی اولاد کو پچیس پونڈ ماہانہ مع ان کے تجارتی حصے کی قیمت ادا کیا جائے گا، انگریزی معاہدہ نامہ میں یہ صراحت ہے کہ یہ پچیس پونڈ ماہانہ کی رقم اس نفع کے قائم مقام سمجھی جائے گی جو ۳۰ جون کے بعد وفات کی تاریخ تک مرحوم کے حصے میں آئی ہو ۔
اسی قسم کی ایک اور شرطِ فاسد یہ ہے کہ اگر کوئی شریک ۳۱ دسمبر کو شرکت ختم کر دے تو وہ اتنی رقم کا حقدار ہو گا جو ۳۰ جون کو اس کے حصے میں تھی مع ایک سو پچاس پونڈ کے جو ۳۰ جون سے ۳۱ دسمبر تک اس کے حصے کا نفع سمجھا جائے گا، یہ شرط بھی مذکورہ بالا وجہ کی بنا پر فاسد ہے، اگر اس طرح کسی ایک شریک کے لیے کوئی متعین رقم بطورِ نفع اصل شرکت ہی میں مقرر کر لی جاتی تو اس سے شرکت ہی فاسد ہو جاتی ۔

لما في الدر المختار: وتفسد باشتراط دراهم مسماة من الربح لا حدهما لقطع الشركة لا لأنه شرط، لعدم فسادها بالشروط. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ٤/۳۱٦، سعيد).

لیکن چونکہ اسی معاہدہ نامہ کی دفعہ ۵ میں شرکاء کے درمیان نفع کی تقسیم کا عام طریقہ شریعت کے مطابق ہے اور اس میں کسی بھی فریق کے لیے کوئی معین رقم مقرر کرنے کے بجائے نفع و نقصان میں برابر کی شرکت طے کی گئی ہے، اور اصل شرکت کا معاہدہ اسی دفعہ پر مبنی ہے، اور دفعہ ۱۱ و ۱۲ میں جو طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے وہ دفعہ ۵ سے متعارض ہے، اور صرف فسخ شرکت کے وقت حساب کا ایک طریقہ طے کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے، بلکہ انگریزی متن میں معین رقم کو نفع کا قائم مقام قرار دیا گیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ نفع تو وہی ہو گا جو دفعہ ۵ کے تحت مقرر ہو گا لیکن یہ معین رقم اس کے قائم مقام سمجھی جائے گی اس لیے اس شرط فاسد کی وجہ سے اصل عقد شرکت باطل نہ ہو گا، البتہ یہ شرط باطل ہو جائے گی ۔
خلاصہ یہ ہے کہ معاہدۂ شرکت کی وہ دستاویز جو استفتاء کے ساتھ منسلک ہے اس حد تک تو شرعاً معتبر ہے کہ اس کی بنیاد پر شرکت درست ہو گئی، لیکن اس میں جو شرائط فاسدہ مذکور ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا، وہ شرائط شرعاً واجب العمل نہیں ہیں ۔
الجواب (۲): معاہدہ کی وہ شرائط جو شرعاً معتبر ہیں ان کی مخالفت کسی بھی شریک کے لیے جائز نہیں ۔

لأن المسلمين على شروطهم إلا شرطاً حرم حلالاً أو أحل حراماً. (صحيح البخاري).

الجواب (۳): اگر یہ بات متعین طور پر معلوم ہو یا کسی جگہ لکھی ہوئی محفوظ تھی کہ چاروں بھائیوں نے اپنے والد سے جو جائیدادیں خریدی ہیں، وہ کیا کیا ہیں؟ اور کہاں کہاں ہیں؟ تو پھر معاہدہ نامہ شرکت میں ان کی جزوی تفصیلات اور مقدار بیان کرنا شرکت کی صحت کے لیے ضروری نہیں تھا، اس کے دو سبب ہیں: ۔
(الف) پہلا سبب یہ ہے کہ سرمایہ شرکت کی مقدار کا تعین عقد کے وقت عقد کی صحت کے لیے ضروری نہیں ہوتا ۔

لما في البدائع: وأما العلم بمقدار رأس المال وقت العقد فليس بشرط لجواز الشركة بالأموال عندنا وعند الشافعي رحمه الله شرط

ولنا أن الجهالة لا تمنع جواز العقد لعينها، بل لا فضائها إلى المنازعة وجهالة رأس المال وقت العقد لا تفضي إلى المنازعة، لأنه يعلم مقداره ظاهراً وغالباً لأن الدراهم والدنانير توزنان وقت الشراء فيعلم مقدارها فلا يؤدي إلى جهالة مقدار الربح وقت القسمة. (بدائع الصنائع: ٦/٦۳، سعيد).

(ب) دوسری وجہ یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں چاروں بھائیوں کے درمیان عقد شرکتِ عنان سے پہلے شرکتِ ملک قائم ہو چکی تھی جیسا کہ سوال (۱) کے جواب میں لکھا گیا ہے، اور سب کے حصے بھی برابر تھے، اور نفع بھی، اس لیے مقدار معلوم نہ ہونے سے جہالت مفضی الی المنازعہ کا کوئی اندیشہ نہیں تھا شرکت فی العروض کا جو حیلہ سوال (۱) کے جواب میں ذکر کیا گیا ہے اس کے سلسلے میں علامہ ابن ہمام تحریر فرماتے ہیں: ۔

وهذا لأن المانع من كون رأس مال الشركة عروضاً كل من أمرين: لزوم ربح مالم يضمن، وجهالة رأس مال كل منهما عند القسمة، وكل منهما منتف، فيكون كل ما ربحه أحدهما ما هو مضمون عليه، ولا تحصل جهالة في رأس مال كل منهما، لأنه لا يحتاج إلى تعرف رأس مال كل منهما عند القسمة حتى يكون ذلك بالحذر فتقع الجهالة لا نهما مستويان في المال شريكان فيه فبالضرورة يكون كل ما يحصل من الثمن بينهما نصفان. (فتح القدير: ۵/۳۹٦).

الجواب (٤): محض کام چھوڑ دینے اور غائب ہو جانے سے شرکت ختم نہیں ہوتی ۔

لما في الهندية: وإن عمل أحدهما ولم يعمل الآخر بعذر أو بغير عذر صار كعملهما معاً، كذا في المضمرات. (الفتاوى الهندية: ۲/۳۲۰، كتاب الشركة، باب ۳، فصل ۲).

اگر دوسرے شرکاء اس کے کام چھوڑ دینے کی صورت میں اس کے ساتھ شرکت پسند نہیں کرتے تھے تو ان کو اس کے ساتھ صراحۃً شرکت فسخ کر دینی چاہیے تھی ۔
الجواب (۵): یک طرفہ طور پر شرکت فسخ کرنے کے لیے شرعاً ضروری نہیں کہ فریق ثانی فسخ کو قبول کرے ۔

لما في الدر المختار: وتبطل أيضاً بإنكارها وبقوله لا أعمل معك وبفسخ أحدهما. (فتاوى الشامي: ٤/۳۲۷، سعيد).

اور جو معاہدہ شرکت صورت مسئولہ میں لکھا گیا ہے اس میں بھی استعفاء کے مؤثر ہونے کو دوسرے شرکاء کی قبولیت پر موقوف نہیں رکھا گیا، لہذا جب کسی شریک نے معاہدہ کے مطابق استعفاء دیا تو اس کی شرکت معاہدہ میں مذکورہ مدت سے ختم سمجھی جائے گی، خواہ دوسرے شرکاء نے استعفاء قبول کیا ہو یا نہ کیا ہو ۔
الجواب (٦): شرکت ختم ہو جائے گی ۔ دلیل (۵) میں گزر چکی ۔
الجواب (۷): اوپر گزر چکا کہ معاہدہ کے مطابق استعفاء دے دینے سے مستعفی شریک کی شرکت ختم ہو گئی، اب اس کو دوبارہ شریک قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ساتھ از سر نو عقد شرکت کیا جائے، لہذا اگر اس کے بعد دوسرے شرکاء نے اس شخص کے ساتھ واضح طور پر دوبارہ تحریری یا زبانی عقد شرکت قائم کر لیا ہو اور اس کی بنا پر وہ اسے چوتھا حصہ دیتے رہے ہوں تب تو وہ دوبارہ شریک سمجھا جائے گا ورنہ نہیں، اس کے برعکس اگر کوئی نیا عقد شرکت نہیں ہوا اور اسے دوسرے شرکاء محض چوتھا حصہ دیتے رہے تو اس میں کئی احتمالات ہیں، ایک یہ ہے کہ شرکاء اسے تبرعاً یہ رقم دیتے رہے ہوں دوسرے یہ کہ شرکت کے فسخ کی بنا پر مستعفی شریک کے جس حصے کی ادائیگی دوسرے شرکاء پر واجب تھی یہ رقم اس کے حصے کے طور پر دیتے رہے ہوں، لہذا جب تک فریقین کے درمیان نئے عقد شرکت کا صریح معاہدہ نہ ہوا ہو ان احتمالات کی موجود گی میں محض چوتھے حصے کی ادائیگی کو عقد شرکت نہیں کہا جا سکتا،
لأن الشركة لا تثبت بالاحتمال
۔
الجواب (۸): شرعاً بھی شرکت کے فسخ کے لیے یہ ضروری ہے کہ فسخ کرنے والا دوسرے شرکاء کو اپنے فسخ کی اطلاع دے، اس کے اطلاع دیے بغیر شرکت فسخ نہیں ہوتی ۔

لما في الدر المختار: وتبطل أيضاً بإنكارها

وبفسخ أحدهما

ويتوقف على علم الآخر لأنه عزل قصدي، وفي رد المحتار: قوله لأنه عزل قصدي لأنه نوع حجر فيشترط علمه دفعاً للضرر عنه، فتح. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۳۲۷، سعيد).

اور منسلک معاہدے میں بھی استعفاء کے لیے دوسرے شرکاء پر پیش کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے، لہذا اگر کسی شریک نے استعفاء لکھ کر اپنے پاس رکھ لیا اور کسی دوسرے شریک کو پیش نہیں کیا تو اس سے شرکت فسخ نہیں سمجھی جائے گی، ہاں جب کبھی وہ شریک از خود وہ استعفاء نکال کر دوسرے شرکاء کو پیش کر دے تو پیش کرنے کی تاریخ سے چھ ماہ بعد حسب معاہدہ شرکت فسخ ہو گی ۔
الجواب (۹): یہ سوال واضح نہیں، معاہدہ نامے کی مخصوص دفعہ کے خلاف استعفاء پیش کرنے کی کیا شکل ہے؟ وضاحت سے لکھآ جائے تو جواب ممکن ہو گا ۔
الجواب (۱۰): یہ جزئیہ صراحۃً نظر سے نہیں گزرا، لیکن متعدد دوسرے جزئیات پر قیاس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صورتِ مسئولہ میں مرحوم شریک کی اولاد کو شریک کاروبار تصور کیا جائے گا، اصل یہ ہے کہ مرحوم کی وفات پر ان کے ساتھ شرکت ختم ہو گئی اب ان کے دوسرے شرکاء پر لازم ہو گیا کہ مرحوم کا حصہ ان کے ورثاء کو ادا کر دیں، اور اگر انہیں شریکِ کاروبار رکھنا چاہیں تو تمام شرکاء کی رضامندی لازمی ہو گی ۔

لما في الدر المختار: لا يملك الشريك الشركة إلا بإذن شريكه، جوهرة. (الدر المختار: ٤/۳۱۷، سعيد).

اب یہ رضامندی عام حالات میں صریح الفاظ کے ساتھ ہونی چاہیے،
لأن الساكت لا ينسب إليه قول
۔
(فتاوى الشامي: ۳/٦۲، سعيد. والأشباه: ۲/۳۸۲، القاعدة الثانية عشر، إدارة القرآن).

لیکن جب دو شریکوں نے اسی غرض کے لیے مجلس منعقد کیا وراس میں مرحوم کی اولاد کو شریک بنانے کا فیصلہ کیا تو یہ فیصلہ تمام شرکاء کی طرف سے کیا گیا، اس وقت ایک شریک موجود ہونے کے باوجود خاموش رہا، اور اس پر اس نے اعتراض نہیں کیا اس کے بعد مرحوم کی اولاد شریک کاروبار کی حیثیت سے مدت تک تصرف کرتی رہی پھر بھی اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا تو یہ مجموعی طرز عمل رضامندی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے ۔لیکن جب دو شریکوں نے اسی غرض کے لیے مجلس منعقد کیا وراس میں مرحوم کی اولاد کو شریک بنانے کا فیصلہ کیا تو یہ فیصلہ تمام شرکاء کی طرف سے کیا گیا، اس وقت ایک شریک موجود ہونے کے باوجود خاموش رہا، اور اس پر اس نے اعتراض نہیں کیا اس کے بعد مرحوم کی اولاد شریک کاروبار کی حیثیت سے مدت تک تصرف کرتی رہی پھر بھی اس نے کوئی اعتراض نہیں کیا تو یہ مجموعی طرز عمل رضامندی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے ۔

نظيره ما في الأشباه: سكوته عند بيع زوجته أو قريبه عقاراً إقرار بأنه ليس له، على ما أفتي به مشايخ سمرقند

وفيه بعد ذلك رآه يبيع أرضاً أو داراً فتصرف فيه المشتري زماناً وهو ساكت يسقط دعواه.

اس کے تحت علامہ حموی رحمه الله لکھتے ہیں:

فيه عما قبله زيادة تصرف المشتري بعد الشراء زماناً وهو ساكت فهو قيد في الأجنبي لا في الزوجة والقريب كما يفهمه إطلاقه. (شرح الأشباه والنظائر: ۱/۳۸۷، القاعدة الثانية عشر، إدارة القرآن).

مسائل مذکورہ بالا مع معاہدۂ شرکت و دفعات، فتاوی عثمانی، جلد سوم، از ص ۵۷ تا ص ۷۱ پر تفصیل کے ساتھ مرقوم ہیں، وہاں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ۔ ان سوالات کے جوابات ہمیں چند دار الافتاءوں سے موصول ہوئے، مثلاً دار الافتاء دار العلوم کراچی دار الافتاء دار العلوم دیوبند، اور راندیر سے حضرت مفتی سید عبد الرحیم صاحب رحمه الله کے جوابات، ہم نے ان سب کے ساتھ اتفاق ظاہر کیا، البتہ صرف دار الافتاء دار العلوم کراچی کے جوابات ہدیۂ ناظرین کیے گئے، بقیہ کو بسببِ طوالت چھوڑ دیا گیا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.