ایک مکان کے دو پڑوسی ہو تو شفعہ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 5 #422Urdu
Vol. 5كتاب الشفعةحق شفعہ کے احکام کا بیان

Question

اگر ایک مکان کے دو پڑوسی ہیں، اور مالکِ مکان نے ایک پڑوسی کو مکان فروخت کیا تو دوسرا پڑوسی شفعہ کا دعوی کر سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

اگر دو پڑوسی شفعہ کا دعوی کریں تو مکان کو مشتری اور دو شفیعوں کے درمیان تین حصے کر دیا جائے گا، اور اگر ایک پڑوسی ہو تو مکان کے دو حصے کر دیے جائیں گے ۔
ملاحظہ ہو ہندیہ میں ہے:

ولو أن رجلاً اشتري داراً وهو شفيعها ثم جاء ه شفيع مثله قضى القاضي بنصفها. (الفتاوى الهندية: ۵/۱۷۸).

فتاوی شامی میں ہے:

قوله ثم لجار ملاصق، ولو متعدداً، والملاصق من جانب واحد ولو بشبر كالملاصق من ثلاثة جوانب فهما سواء. (فتاوى الشامي: ٦/۲۲۱، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.