تراویح کے ہر شفعہ پر نیت کرنے کا حکم:
Question
تراویح کے ہر شفعہ پر علیحدہ نیت کرنا ضروری ہے یا ایک ہی مرتبہ بیس کی نیت کافی ہو جائے گی؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں ایک ہی مرتبہ بیس کی نیت کافی ہے ہر شفعہ پر علیحدہ نیت کرنا ضروری نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی قاضيخان میں ہے:
وهل يحتاج لكل شفع من التراويح أن ينوي التراويح، قال بعضهم: يحتاج لأن كل شفع منها صلاة على حدة والأصح أنه لا يحتاج لأن الكل بمنزلة صلاة واحدة. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۱/۲۳۷، فصل في نية التراويح)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولوصلي التراويح كلها بتسليمة واحدة إن قعد في كل ركعتين يجوز عند الكل وإن لم يقعد في كل ركعتين وقعد في آخرها ففي الاستحسان على القول الصحيح يجزيه عن تسليمة واحدة كذا في السراج الوهاج وهكذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۱/۱۱۹ فصل في التراويح. وكذا في شرح منية المصلي: ٤۰٥، سهيل)
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
تراویح کے لیے شروع میں بیس رکعت کی نیت کافی ہے ہر دو رکعت پر نیت کرنا شرط نہیں مگر بہتر ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۱/۳٥
٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.