شئی مرہون کے ہبہ میں قبضہ کا حکم:
Question
حامد نے محمود کے پاس سے قرض لے کر اس کے عوض زیور رہن رکھا تھا، پھر حامد نے قرض ادا کیا، اور محمود کو وہ زیور ہبہ کر دیا، محمود چونکہ فقہ کی کتابیں پڑھ چکا ہے ان میں لکھا ہے کہ قبض ضمان قبض امان کا قائم مقام نہیں ہوتا تو تجدیدِ قبض کی ضرورت ہے جب کہ حامد دور کسی اور ملک میں رہتا ہے تو اب کیا کرنا چاہیے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
یہ مسئلہ ہمارے فتاوی میں مفصل گزر چکا ہے یہاں اتنا لکھنا کافی ہے کہ علامہ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ نے
"التصحيح والترجيح"
میں لکھا ہے کہ تجدیدِ قبض کے لیے یہ کافی ہے کہ محمود اس چیز کے پاس اتنی دیر رہے جتنی دیر میں اس چیز پر قبضہ ہو سکتا ہے ۔ ملاحظہ ہو تحریر فرماتے ہیں:
أما لو كانت في يده "أي الموهوب له" رهناً يحتاج إلى تجديد القبض قال الاسبيجابي رحمه الله: بأن يرجع إلى موضع فيه العين ويمضي وقت يتمكن عن قبضها. (التصحيح والترجيح على مختصر القدوري، ص ۲۸٦).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.