لا وارث میت کے مال کا حکم:

3 min readFatwa Vol 6 #26Urdu
Vol. 6احکامِ لقطہ کا بیان

Question

ایک شخص کا انتقال ہوا اور جس کے ہاں انتقال ہوا اس کو میت کے ورثہ کا کوئی علم نہیں، تو اس کے مال کے ساتھ کیا کرے؟ اور اس نے کوئی وصیت بھی نہیں کی۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اس کا حکم لقطہ کی طرح ہے اگر خود فقیر ہے تو وہ خود استعمال کر لے ورنہ فقراء میں تقسیم کرے۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

وفي الحاوي: غريب مات في بيت إنسان ولم يعرف وارثه فتركته كلقطة، ما لم يكن كثيراً فلبيت المال بعد الفحص عن ورثته سنين، فإن لم يجدهم فله لو مصرفاً وفي رد المحتار: قوله ما لم يكن كثيراً،

والظاهر أن المراد بالكثير ما زاد خمسة دراهم لما في البحر عن الخلاصة والولوالجية: مات غريب في دار رجل ومعه قدر خمسة دراهم فله أن يتصدق على نفسه إن كان فقيراً كاللقطة وفي الخانية: ليس له ذلك لأنه ليس كاللقطة قال في البحر: والأول أثبت وصرح به في المحيط (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/ ۲۸٤، سعيد
الاختيار
میں ہے:

غريب مات في دار رجل ليس له وارث معروف وخلف مالاً وصاحب المنزل فقير فله الانتفاع به بمنزلة اللقطة. (الاختيار لتعليل المختار: ۳/ ۳۷، كتاب اللقطة، ط: بيروت).

فتاوی سراجیہ میں ہے:

غريب مات في بيت رجل وليس له وارث معروف وخلف مالاً وصاحب الدار فقير، فله أن يتصدق بها نفسه كذا ذكره في فتاوى أئمة سمرقند (الفتاوى السراجية على هامش الخانية: ۲/ ٤۹، كوئته

خلاصہ یہ ہے کہ بعض کتبِ فقہ مثلاً: الاختیار، فتاوی سراجیہ وغیرہ سے پتا چلتا ہے کہ صاحبِ خانہ فقیر ہو تو استعمال کرنے کی اجازت ہے، چاہے مال زیادہ ہو یا کم، لیکن بعض دیگر کتبِ فقہ مثلاً: در مختار، شامی، بحر، جوہرہ، محیط وغیرہ سے پتا چلتا ہے کہ اگر قلیل ہو تو استعمال کی اجازت ہے مثلاً پانچ دراہم کے بقدر، البتہ مالِ کثیر ہو تو بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا، فی زماننا چونکہ بیت المال کا نظام نہیں ہے اس وجہ سے کل مال کے استعمال کی گنجائش ہونی چاہیے۔ لیکن قاضيخان رحمہ اللہ نے مطلقاً استعمال کی اجازت نہیں دی ہے مگر علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ نے پہلے قول کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.