تقسیم سے پہلے کسی وارث کا اپنا حصہ ساقط کرنے کا حکم:

13 min readFatwa Vol 8 #315Urdu
Vol. 8كتاب الفرائضبابِ دوم: میراث سے متعلق احکام کا بیان

Question

ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کے چار بیٹے ہیں، ان میں سے ایک نے اپنا حق معاف کر دیا تو اس کا حق ساقط ہوا یا نہیں ؟ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ حق میراث معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتا؟ اسی طرح ایک شخص کے لیے وصیت کی گئی، موصی لہ نے تقسیمِ ترکہ سے پہلے اپنا حق ساقط کر دیا تو اب دوبارہ مانگ سکتا ہے یا نہیں ؟ اس مسئلہ میں اکابر رحمہ اللہ کے فتاوی میں بظاہر تعارض ہے۔ بینوا توجروا۔

Answer

عام طور پر فقہاء نے قاعدہ لکھا ہے کہ
"الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط"
کہ میراث جبری ہے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتی، یعنی اگر کوئی وارث یہ کہے کہ میں نے اپنا حصہ چھوڑ دیا یا مجھے نہیں چاہیے تو اس کا حق ساقط نہیں ہوگا۔ ہاں بعض فقہاء نے یہ لکھا ہے کہ تقسیم سے پہلے حق میراث محتمل السقوط ہے ساقط کرنے سے ساقط ہو جاتا ہے، یعنی وارث یہ کہے کہ میں نے اپنا حق ساقط کر دیا یا یہ کہ دے کہ میں نے اپنا حق معاف کر دیا، یا یہ کہے کہ میں نے آپ حضرات کو مطالبہ سے بری کر دیا تو اب مطالبہ کا حق نہیں رہے گا۔ ملاحظہ ہو فقہاء نے لکھا ہے:

ولو قال: تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه. (فتاوى الشامي: ۸/۸۹، سعيد).
(وكذا في لسان الحكام، ص ۲۳٦، ط: القاهرة، وتنقيح الفتاوى الحامدية: ۲/٤۳، كتاب الدعوي).

بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ حق میراث ساقط کرنے سے ساقط ہو جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو الاشباہ میں ہے:

وذكر الشيخ الإمام المعروف بـ خواهر زاده، أن حق الموصي له وحق الوارث قبل القسمة غير متأكد يحتمل السقوط بالإسقاط، انتهى

فقد علم أن حق الغانم قبل القسمة

وحق الوارث قبل القسمة على قول خواهر زاده يسقط بالإسقاط. (الأشباه والنظائر: ۳/ ۵٤، ۵۵، الفن الثالث: الجمع والفرق، ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبل). (وكذا في فتاوى الشامي: ۵/٦٤٤، سعيد، وفتاوى قاضيخان بهامش الهندية: ۳/۲۱٤، والبحر الرائق: ۵/۲٤۳، دار المعرفة).
وفي حاشية الهداية: والإبراء عن الدعوي صحيح فإن من قال لغيره: أبرأتك من دعوي هذا العين صح ولو ادعي بعد ذلك لم يسمع. (حاشية الهداية: ۳/۲٤۷، كتاب الصلح).
وفي الهداية: وله أن القسمة قضاء على الميت إذ التركة مبقاة على ملكه قبل القسمة حتى لو حدثت الزيادة تنفذ وصاياه فيها وتقضي ديونه عنها بخلاف ما بعد القسمة. (الهداية: ٤/٤۱۲، كتاب القسمة).
وينظر: (فتح القدير: ۹/٤۳۰، والبناية: ۸/٦۱۸، والكفاية على هامش فتح القدير: ۷/۳۸۳، رشيديه).
جامع الفصولين
میں مرقوم ہے:

قال أحد ورثته: برئت من تركة أبي، يبرأ الغرماء عن الدين بقدر حصته

لو قال وارث: تركت حقي، لا يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك، والحق يبطل به، حتى أن أحد الغانمين لو قال قبل القسمة: تركت حقي، بطل حقه. (جامع الفصولين: ۲/۳۹).

جامع الفصولین کی عبارت سے معلوم ہوا کہ جو چیز آدمی کی ملکیت میں ہو اس کو چھوڑنے سے ملکیت ختم نہیں ہوتی، اور جس چیز پر آدمی کا حق ہے، اگر اپنے حق کو ساقط کر دے تو ساقط ہو جاتا ہے۔
اس کی مزید وضاحت فتاوی قاضی خان کی آنے والی عبارت سے ہوتی ہے کہ اگر کسی کی ملک میں پانی کی نالی ہے لیکن دوسرے کی زمین میں ہے، زمین والے نے زمین بیچ دی اور یہ نہر والا راضی ہو گیا، تب بھی اس کی ملکیت ختم نہیں ہوئی، مشتری سے اس کی قیمت لے سکتا ہے، اور اگر یہ نہر اس کی ملکیت میں نہ ہو فقط پانی گزارنے کا حق ہو، تو ایک مرتبہ حق ختم کرنے سے وہ حق ختم ہو جائے گا پھر دوبارہ مطالبہ نہیں کر سکتا، دونوں میں فرق یہی ہے کہ پہلے مسئلہ میں اس کی ملکیت ہے اور دوسرے میں فقط حق ہے۔

قال: رجل له مسيل ماء في دار غيره فباع

وإن كان له حق إجراء الماء دون رقبة النهر، لا شيء له من الثمن، ولا سبيل له على المسيل بعد ذلك، كرجل أوصي لرجل بسكني داره فمات الموصي، فباع الوارث الدار ورضي به الموصي له جاز البيع وبطل سكناه

وذكر في الكتاب: إذا أوصي لرجل بثلث ماله ومات الموصي، فصالح الوارث الموصي له من الثلث على السدس جاز الصلح. (فتاوى قاضيخان بهامش الفتاوى الهندية: ۳/۲۱٤).

اکابر کے متعارض فتاوی ملاحظہ کیجیے:
درجِ ذیل فتاوی کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ حق میراث ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتا: (۱) عزیز الفتاوی میں مرقوم ہے:
سوال: ایک شخص نے اپنے والد کی جائداد سے حق لینے سے انکار کر دیا تھا اب اس کی اولاد اپنے جد کی جائداد سے حصہ شرعی پانے کی مستحق ہے یا نہیں ؟ الجواب: تارک حق کی اولاد اپنے جد کی جائداد سے حصہ لے سکتی ہیں،
كما في الشباه والنظائر (۳/۵۳) لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه الخ وفي الشرع ضابطة؛ أنه إن كان ملكاً لأنه مالم يبطل بذلك كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لا زم لا يترك بالترك. (
عزیز الفتاوی، جلدِ اول، ص
۷٤۰
)۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
زید کی ملک حصہ شرعی یعنی سدس پر باقی ہے حق اس کا فوت نہیں ہوا، پس وہ حصہ اس کے وارثوں کو ملے گا اور دست برداری معتبر نہ ہو گی۔ (عزیز الفتاوی:
۱
/
۷۳۹
، ط: دار الاشاعت)۔
(۲) احسن الفتاوی میں ہے:
ترکِ حصہ کے بارے میں تحقیق یہ ہے کہ اگر حق دین میں ہے جس میں مہر بھی داخل ہے تو ابراء صراحۃً یا دلالۃً سے حق ساقط ہو جاتا ہے۔ اور اگر حق عین میں ہے تو ابراء صحیح نہیں بلکہ ہبہ ضروری ہے۔ (احسن الفتاوی:
۹
/
۲۷۷
)۔ دوسری جگہ مرقوم ہے: عفو و ابراء دین سے ہوتا ہے عین سے عفو و ابراء صحیح نہیں ہے۔ (احسن الفتاوی:
۹
/
۲۷۹
)۔
(۳) فتاوی حقانیہ میں مذکور ہے:
وراثت ایک اضطراری حق ہے کوئی شخص اپنی طرف سے اس کو زائل یا ختم نہیں کر سکتا ہے۔ (فتاوی حقانیہ:
٦
/
۵٦۱
)، بحوالہ تکملہ رد المحتار:
الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط. (تكملة رد المحتار: ۷/۵۰۳، مطلب في واقعة الفتوى، سعيد).

(٤) اشرف الاحکام تتمہ امداد الفتاوی میں ہے:
عورتوں کا حق میراث معاف کر دینا شرعاً معتبر نہیں ؛ فرمایا: باپ کے مرتے ہی جو لڑکیاں آمدنی اور زمین لینے سے انکار کر دیتی ہیں وہ انکار معتبر نہیں۔ اول تو اس وقت صدمہ تازہ ہوتا ہے صدمہ میں اس کو اپنے نفع نقصان کا خیال نہیں ہوتا۔ دوسرے جب رواج یہی پڑا ہوا ہے کہ بہنوں کو میراث سے محروم سمجھا جاتا ہے۔ تو وہ اپنا حق لیتے ہوے بدنامی سے ڈرتی ہیں۔ تیسرے ان کو اپنے حق کی خبر بھی نہیں ہوتی کہ کتنا ہے اور کس قدر ہے۔ جب صدمہ کا وقت گزر جائے اور تم ان سے کہہ دوکہ تمہارا حق شرعی ہے تم کو لینا پڑے گا۔ پھر وہ اپنی آمدنی کی مقدار بھی دیکھ لیں اس کا لطف بھی اٹھا لیں اس کے بعد اگر کوئی دے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ مگر ہم دکھا دیں گے کہ اس کے بعد سو میں سے ایک یا دو ایسی نکلیں گی کہ وہ اپنا حق معاف کر دیں گی۔ پس جس طرح آج کل بہنیں اپنا حق بھائیوں کو معاف کرتی ہیں۔ وہ شرعاً معتبر نہیں اور حدیث میں صاف موجود ہے کہ "خبر دار کسی مومن کا مال بغیر اس کے طیبِ خاطر کے لینا حلال نہیں ہے"۔ بحوالہ رجاء اللقاء، ص ۲٤۔ (اشرف الاحکام، ص:
۲٤۲
)۔
درجِ ذیل فتاوی کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ حق میراث ساقط کرنے سے ساقط ہو جاتا ہے: (۱) کفایت المفتی میں ہے:
بہن کے معاف کردہ حصہ کو اس کے شوہر کا دوبارہ طلب کرنا: جب بہن نے اپنے حصہ کو آپ کے حق میں معاف کر دیا تو اب ان کے کسی وارث کو اس کے مطالبہ کا حق نہیں رہا۔ (کفایت المفتی:
۱۳
/
٤۳۹
، جامعہ فاروقیہ)۔
(۲) آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مرقوم ہے:
اگر کسی بہن نے اپنا حصہ واقعۃً خوشی سے چھوڑ دیا ہو تو اس کی اولاد کو مطالبہ کا کوئی حق نہیں کیوں کہ اولاد کا حق ماں کی وفات کے بعد ثابت ہوتا ہے۔ ماں کی زندگی میں ان کا ماں کی جائیداد پر کوئی حق نہیں ، اس لیے اگر وہ کسی کے حق میں دست بردار ہو جائے تو اولاد اس کو نہیں روک سکتی۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۷
/
٤۰۰
)۔
(۳) امداد المفتین میں مفصل فتوی مذکور ہے، اس میں سے ایک فارسی عبارت کا ترجمہ حسبِ ذیل ہے:
یہ مطلب نہیں ہے کہ ہندوستان میں بھائیوں نے اپنی بہنوں کا حصہ ہندوؤں کی تقلید میں نہیں دیا بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ جب مسلمان بہنوں نے ہندوؤں کے رسم و رواج کو دیکھا اور سنا تو محبت کے جوش میں جو بہنوں کو اپنے بھائیوں سے ہوتی ہے، میراث میں سے اپنا حصہ ترک کر دیا، اور اپنی رضامندی سے حصہ نہیں لیا، اور دعوی سے دستبرداری اور اپنا حق ساقط کر دینے کے الفاظ اپنی زنانوں پر ابتدا سے آج تک موجود ہیں۔ اور بالاتفاق کہتی ہیں کہ اس ہمشیرہ کی زبان کٹی ہوئی بہتر ہے کہ وہ اپنے حصہ کا دعوی زبان پر لائے۔ یہ بات ہندی زبان میں اس ملک کے تمام شرفاء کی بہنوں میں مشہور و معروف ہے۔ اور یہ بات حد تواتر تک پہنچ چکی ہے، پس یہ معاف کرنا عرفِ عام اور ہمیشہ کا معمول بن گیا ہے جو خلافِ منصوص نہیں ہے۔
في الأشباه والنظائر: وذكر الشيخ الإمام المعروف بخواهر زاده: أن حق الموصي له وحق الوارث قبل القسمة غير متأكد يحتمل السقوط بالإسقاط. (
فتاوی دار العلوم دیوبند، جلدِ دوم، ص
٤۸۰
)۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (جواہر الفقہ: ٤/٤۰٤،
إقامة العرف مقام الثبوت في سقوط بعض الحق بالسكوت،
و فتاوی عزیزی، ص ٦۲۰)۔
ہاں غیر اقوام کی تقلید میں بعض مسلمانوں نے اپنی بہنوں کے حقوق لے لیے اور ان سے جبراً معاف کرا لیا تو یہ جبری معاف کرنا ہے اس سے حق ساقط نہیں ہوگا۔ جیسا کہ ہندوستان میں بعض جگہوں پر رائج ہے۔
ملاحظہ ہو فتاوی رحیمیہ میں مرقوم ہے:
کسی سے کوئی چیز لینے یا اس کو استعمال کرنے کے لیے اس کا خوشی سے راضی ہونا ضروری ہے، لہذا اگر کسی وقت حالات سے یہ معلوم ہو جائے کہ کسی شخص نے اپنی ملکیت استعمال کرنے کی اجازت کسی دباؤ کے تحت یا شرما شرمی میں دے دی ہے اور وہ دل سے اس پر راضی نہیں ہے تو ایسی اجازت کو اجازت نہیں سمجھا جائے گا، بلکہ اس کا استعمال بھی دوسرے شخص کے لیے جائز نہیں ہوگا۔
نیز یہ بھی ذہن میں رہے کہ لڑکیوں کو میراث سے محروم کرنا اور ان کو میراث سے جو حصہ ملتا ہے وہ لڑکوں کا آپس میں تقسیم کر لینا یہ بھی اسی حکم کے اندر داخل ہے اور سخت حرام ہے، اور بہنوں پر ظلم ہے، لڑکیوں (بہنوں) کا جو شرعی حق ہو (اور ان کے علاوہ جو بھی وارث ہوں) ان کا حق ادا کرنا انتہائی ادا کرنا انتہائی ضروری اور لازم ہے، میراث کی تقسیم قانونِ الہی ہے، اس کے مطابق عمل کرنا بہت فضیلت اور اجر و ثواب کا باعث ہے، اور اس کی خلاف ورزی پر دوزخ کی سخت وعید ہے الخ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۵
/
۵۰۷
، مکتبۃ الاحسان، دیوبند)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.