ریمبو چکن کا حکم:
Question
ریمبو چکن کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس کا کھانا حلال ہے یا نہیں؟ اگر آپ نے اس مذبح کا مشاہدہ کیا ہوا اور ان کا طریقہ کار دیکھا ہو تو اس مسئلہ پر تفصیلی روشنی ڈالیں کیوں کہ آج کل عوام و خواص سب اس کے مذبوحات کے کھانے میں ملوث ہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بندہ اپنے رفقاء کے ساتھ ریمبو چکن مذبح میں بتاریخ ۵ دسمبر ۲۰۰۸ء بروزِ جمعہ حاضر ہوا، اور وہاں جانے کا مقصد ان کے طریقہ کار کو دیکھنا تھا کہ شریعت کے موافق ہے یا نہیں؟
ہم نے اس مذبح کے اس حصے کو دیکھا جس میں مرغیوں کو لوہے کے ساتھ لٹکایا جاتا ہے، پھر چلتے چلتے ذابحین ان کو ذبح کرتے ہیں، ہمیں یہ بتایا گیا اور خود ہم نے بھی یہ دیکھا کہ آخر تک احتیاط برتی جاتی ہے کہ کہیں ذبح سے پہلے مرغی مر نہ جائے، مرغی لٹکانے والا سب سے پہلے اس کی حیات کا یقین کر لیتا ہے، پھر ذابح ذبح کرتے وقت ملاحظہ کرتا ہے، پھر ذبح کرنے کے بعد کچھ فاصلہ پر ایک اور صاحب مقرر ہوتا ہے اور جس مرغی کا رنگ بدلا ہوا ہو اس کو علیحدہ کر لیتا ہے اگر چہ ذبح کے وقت خون بہا ہو ۔
مذبح میں ذابح چار تھے اور ہر شخص چوتھی مرغی کو ذبح کرتا تھا جس میں بآسانی تسمیہ پڑھ سکتا ہے، ذابح کے ذبح کرنے کے ساتھ ساتھ ہم بھی بسم اللہ پڑھتے رہے، اور آرام و اطمینان سے پڑھ سکتے تھے، ہاں مشینوں کے شور کی وجہ سے بسم اللہ سنائی نہیں دیتی تھی، لیکن ذابح مسلمان تھے ان پر حسن ظن کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ پڑھتے ہوں گے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے:
عن عائشة رضي الله تعالى عنها أن قوماً قالوا: يا رسول الله إن قوماً يأتونا باللحم لا ندري أذكر اسم الله عليه أم لا؟ فقال: "سموا عليه أنتم وكلوه، قالت: وكانوا حدثي عهد بكفر". (رواه البخاري: ۲/۸۲۹).
حضرت عائشہ رضي اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ ایک قوم نے کہا یا رسول اللہ! کچھ لوگ (نو مسلم) ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں، ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے (بوقتِ ذبح) بسم اللہ پڑھی تھی یا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم بسم اللہ پڑھ کر کھایا کرو ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ذابحین مسلمان ہوں اور وہ بسم اللہ پڑھنے کا اقرار کرتے ہوں تو ان کا ذبیحہ کھا سکتے ہیں اور ان پر بد گمانی نہیں کرنی چاہیے کہ انہوں نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہو گی ۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر ایک ذابح کو چالیس منٹ کے بعد بیس منٹ کے لیے، یا ایک گھنٹے کے بعد آدھے گھنٹے کے لیے آرام کا وقت دیا جاتا ہے، تاکہ وہ کچھ آرام کر لے، نیز ایک مسلمان نگران کمپنی کی طرف سے اور دوسرا نگران سنہا (SANHA) کی طرف سے مقرر ہے وہ دونوں حضرات ذبیحہ کی نگرانی کرتے رہتے ہیں ۔
اس لیے ہمارے خیال میں ہمارے مشاہدہ کے مطابق ذبح شدہ مرغیاں حلال ہیں، مسلمان ان کو کھا سکتے ہیں ۔ ہاں اگر اس کے بعد کوئی تغیر اور تبدل ہوا ہو یا احتیاط نہ برتتے ہوں تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں، ہم نے اپنے مشاہدہ کے موافق لکھا ہے ۔
اشکالات اور ان کے جوابات:
بعض علماء کی طرف سے اس ذبیحہ پر کچھ اشکالات کیے جاتے ہیں، ان کا ذکر کرنا اور اشکالات کا دفع کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ چنانچہ اشکالات اور ان کے جوابات حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
(۱) پہلا اشکال یہ ہے کہ مرغیوں کو ذبح کرنے سے قبل لوہے کے ساتھ الٹا لٹکایا جاتا ہے، جو مرغیوں کے لیے باعثِ کلفت و عقوبت ہے؟
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ میرے خیال میں پرندوں اور مرغیوں کے لیے سر نیچے اور پاؤں اوپر کرنا باعثِ کلفت و عقوبت نہیں ہے ۔
دیہاتوں میں ہم مرغیوں اور پرندوں کو رات دن دیکھتے رہتے ہیں کہ دیواروں پر چڑھتے ہیں، جن میں ان کا سر اوپر اور پاؤں نیچے ہوتے ہیں، پھر دیوار اور چھت سے نیچے اترتے وقت سر نیچے اور پاؤں اوپر ہوتے ہیں ۔ معلوم ہوا کہ اس معاملہ میں مرغیاں انسانوں کی طرح نہیں ہیں، انسان کا سر نیچے اور پاؤں اوپر کی طرف ہو تو اس کے لیے باعثِ کلفت اور سببِ مشقت ہے، نیز دیہاتوں میں یہ بھی مشاہدہ ہے کہ جب دیہاتی لوگ بازار سے مرغیاں خریدتے ہیں تو ان کے پاؤں کو پکڑ کر ان کے سروں کو نیچے کرتے ہیں اور مرغیوں کو کوئی خاص تکلیف نہیں ہوتی، کیوں کہ زیادہ پھڑکتی نہیں ہیں، مزید براں مذابح میں الٹا باندھنا اس مصلحت کی وجہ سے ہے کہ ان کی چونچ نیچے پانی میں لگ کر ان پر بے خودی اور بے حسی یا کم شعوری طاری ہو جائے ۔ الغرض اس طرح باندھنا مصلحت کی وجہ سے ہے ۔
(۲) دوسرا اشکال: بعض حضرات سے یہ سنا کہ ان کی چونچ کو پانی میں ڈبونے سے ان کو بجلی کی کرنٹ لگ جاتی ہے، یہ تعذیب اور عقوبت ہے جو خلافِ شریعت ہے ۔ شریعت نے احسان کرنے کا حکم دیا ہے ۔ حدیث میں ہے:
عن شداد بن أوس رضي الله عنه قال: ثنتان حفظتهما عن رسول الله ﷺ، قال: إن الله تعالى كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح، وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته. (رواه مسلم: ۲/۱۵۲، باب الامر بإحسان الذبح والقتل).
حضرت شداد بن اوس رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں دو باتیں میں نے آنحضرت ﷺ سے یاد کر لی ہیں، حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے احسان کو ہر چیز پر لازم کر دیا ہے پس جب تم (کسی کافر کو) قتل کرو تو اچھے انداز میں قتل کرو، اور جب تم (کسی جانور کو) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اور اپنی چھری تیز کر لو اور اپنے جانور کو راحت پہنچاؤ ۔
حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ ذبیحہ کو راحت پہنچانا چاہیے، جب کہ کرنٹ لگانا اس کے خلاف ہے ۔
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ ہر زمانہ میں راحت پہنچانے کے آلات بدلتے رہتے ہیں، مثلاً موجود ہ زمانہ میں اگر کسی کا آپریشن کیا جاتا ہے تو اس کو نشہ کا انجکشن لگایا جاتا ہے، جس سے مریض پر بے حسی، بے خودی یا بے ہوشی طاری ہوتی ہے اور آپریشن کرتے وقت اس پر جراحی کا عمل آسان ہو جاتا ہے ۔ اگر کسی کی ڈاڑھ نکالی جاتی ہے اور بغیر آپریشن کے نکالے تو اس کو کتنی تکلیف ہو گی، بلکہ ڈاکٹر آپریشن ہی نہیں کر سکے گا، مریض تڑپتا رہے گا، لیکن انجکشن کی وجہ سے مسوڑھوں کا حصہ بے حس ہو جاتا ہے اور آسانی سے آپریشن کا عمل جاری رہتا ہے جو مریض کے لیے ایک بڑی نعمت سے کم نہیں ۔
اسی طرح مرغیوں کے لیے بھی یہ عمل انجکشن کی طرح ہے جس سے ان پر ایک گنا بے خودی سی طاری ہو جاتی ہے اور ذبح کا عمل آسان ہو جاتا ہے، جیسے انجکشن کی تکلیف اس تکلیف کے مقابلہ میں ہلکی ہے جو تکلیف آپریشن کے وقت بغیر انجکشن کے ہے، اسی طرح کرنٹ والے پانی کی تکلیف ہے ۔
پھر عام طور پر اس پانی میں سولہ (۱٦) سے تیس (۳۰) وولٹیج تک کا کرنٹ ہوتا ہے ۔ جن اکابر نے اس بے ہوشی کے عمل کے خلاف لکھا ہے، معلوم نہیں ان کے زمانہ میں اس کی کیا نوعیت تھی، بلکہ بعض اکابر کا زمانہ سائنس کی ترقی کا ابتدائی زمانہ تھا ۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے اس عمل کو دیکھا تھا یا نہیں؟ اگر اس طریقہ کار کو اکابر ملاحظہ فرماتے تو غالباً اس کی تائید فرماتے، بہرحال اس عمل میں بظاہر کوئی خرابی نہیں ہے، ہم نے گائے بیلوں کے مذابح میں دیکھا کہ ان کو پیشانی پر بے خودی کی گولی مارتے ہیں اس کے بعد ان کو آرام سے ذبح کرتے ہیں، جب کہ دوسری طرف دیہات میں کئی آدمی اس کو پکڑتے ہیں، اس کے پاؤں میں رسیاں ڈالتے ہیں، کبھی ڈر کی وجہ سے وہ اتنے زور سے بھاگتے ہیں کہ مجمع میں کئی آدمیوں کو زخمی کرتے ہیں، ڈر کی وجہ سے جانور کو دست لگ جاتے ہیں، اس کاروائی کے مقابلہ میں گولی لگانے کا معاملہ آسان معلوم ہوتا ہے، جب کہ گولی سے صرف بے خودی طاری ہوتی ہو، اور گولی قاتل یا انتہائی اذیت پہنچانے والی نہ ہو، ہاں عام جگہوں پر چونکہ مشینی آلات میسر نہیں تو ان کے لیے پر انا طریقہ صحیح ہے ۔
(۳) تیسرا اشکال یہ سامنے آیا کہ کرنٹ والے پانی کے لگنے سے موت کا خطرہ موجود ہ ہے، اس لیے یہ مرغیاں مشکوک ہوئیں، اور مشکوک چیز سے بچنا چاہیے، مشہور حدیث: "
الحلال بين والحرام بين، وبينهما مشتبهات، فمن اتقي الشبهات فقد استبرأ لدينه وعرضه". أو كما قال
۔
یعنی حلال و حرام دونوں کھلے ہوے ہیں ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، جو شخص مشتبہ چیزوں سے بچتا ہے وہ اس نے اپنے دین و عزت کو پاک و صاف رکھا ۔ پس مشکوک اشیاء سے احتیاط کرنا چاہیے ۔
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ مرغی کی چونچ میں کرنٹ آلودہ پانی لگنے کے بعد جب مشاہدہ یہ ہے کہ مرغی زندہ ہے، پھر ذابح کے دیکھنے اور ذبح کرنے اور خون بہنے سے بھی مرغی کی زندگی کا یقین ہوا تو اس کا مشتبہ ماننا قابل تسلیم نہیں، اگر پانی لگنے کے بعد مرغی پر نیند طاری ہوتی تو پھر بھی موت کا شبہ ہوتا، لیکن اس پر نیند بھی طاری نہیں ہوتی بلکہ اس کے بال و پر بھی اچھی طرح متحرک ہوتے ہیں ۔ بلکہ مزید بات یہ معلوم ہوئی کہ نشہ کے بعد اگر مرغیوں کو چھوڑ آ جائے تو مرغیاں دو تین منٹ کے بعد چلنے لگتی ہیں ۔ جس سے پتا چلا کہ نشہ کے بعد مرغیاں اچھی طرح زندہ ہیں ۔
بوقتِ ذبح جب حیات یقینی ہو تو شبہ غیر معتبر ہے، ملاحظہ ہو فتاوی بینات میں ہے:
جس صورت میں بے ہوشی کے بعد جانور کی حیات یقینی ہو تو اس صورت میں ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے لہذا ۷۰ سے ۹۰ وولٹیج کے کرنٹ سے گزر کر بے ہوش ہونے والی مرغیاں جن میں حیات یقینی ہو تو اس حالت میں ذبح کی ہوئی مرغی حلال ہو گی اس کے علاوہ ۱۰۰ سے ۱۲۰ وولٹیج کے کرنٹ سے گزری ہوئی مرغی اس وقت تک حلال نہ ہو گی جب تک یہ یقین نہ ہو جائے کہ ذبح سے قبل اس میں حیات باقی تھی، اگر ذبح کرنے سے قبل حیات یقینی ہو تو اس صورت میں ذبح کے بعد اس کا کھانا جائز ہے ورنہ نہیں ۔ (فتاوی بینات: ٤/
۵۵۰
، کتاب الذبائح) ۔
(٤) چوتھا اشکال: ایک اشکال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ مرغی کو بال و پر نکالنے کی غر ض سے گرم پانی میں ڈالا جاتا ہے جب کہ مرغی کے پیٹ میں آلائش اور گندگی ہوتی ہے اور اس گندگی کے گوشت کے ساتھ ملنے اور سرایت کرنے کا خطرہ ہے ۔
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ پانی سے مرغی صرف گزرتی ہے، جب مرغیوں کی قطار باہر آتی ہے تو آدمی کو مرغیوں کا اندر رہنا اور ٹھہرنا محسوس بھی نہیں ہوتا اتنے قلیل وقت میں نجاست گوشت کے ساتھ سرایت نہیں کرتی ہے ۔ مراقی الفلاح، طحطاوی، شامی اور بحر وغیرہ میں یہ مسئلہ تحریر شدہ ہے ۔
ملاحظہ ہو حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
لو ألقيت الدجاجة حال غليان الماء قبل أن يشق بطنها لنتف، أو كرش قبل أن يغسل إن وصل الماء إلى حد الغليان ومكث فيه بعد ذلك زماناً يقع في مثله التشرب والدخول في باطن اللحم لا تطهر أبداً إلا عند أبي يوسف رحمه الله كما مر في اللحم، وإن لم يصل الماء إلى حد الغليان أو لم تترك فيه إلا مقدار ما تصل الحرارة إلى سطح الجلد لانحلال مسام السطح عن الريش والصوف تطهر بالغسل ثلاثاً. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۱٦۰).
فتاوی شامی میں ہے:
لكن العلة المذكورة لا تثبت ما لم يمكث اللحم بعد الغليان زماناً يقع في مثله التشرب والدخول في باطن اللحم، وكل واحد منهما غير محقق في السميط. (فتاوى الشامي: ۱/۳۳٤، سعيد).
وللمزيد من البحث راجع: (فتح القدير: ۱/۲۱۱، دار الفكر، والبحر الرائق: ۱/۲۳۹، كوئته).
ان عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر پانی ابلتا ہوا نہ ہو، یا ابلا ہوا ہے لیکن مرغیاں بہت کم وقت اس میں رکتی ہیں، تو دونوں صورتوں میں مرغیاں پاک ہیں، ہاں اس پانی سے نکالنے کے بعد ان کو تین مرتبہ دھو یآ جائے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی بینات میں ہے:
اگر مرغیاں شرعی طریقے کے مطابق ذبح ہوتی ہیں کہ مسلمان بسم اللہ پڑھ کر اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے ہیں اور ذبح کرنے کے بعد ان مرغیوں کو گرم پانی میں ڈال کر فوراً ہی نکال لیا جاتا ہے کہ مرغیوں کے اندر جو آلائش اور نجاست ہے وہ مرغیوں کے اندر بذریعہ مسامات سرایت نہیں کرتی تو اس صورت میں ان مرغیوں کا کھانا حلال ہوگا تاہم پکانے سے قبل گوشت کو اچھی طرح دھو کر پاک کر لیا جائے تاکہ غیر شرعی طور پر ذبح کردہ مرغیوں کی نجاست والا پانی دور ہو جائے ۔
اور اگر گرم پانی میں اتنی دیر رکھی جائے کہ گرمی کی وجہ سے اندر کی آلائش و نجاست کے اثرات گوشت کے مسامات میں سرایت کر جاتے ہیں تو اس صورت میں وہ گوشت بھی حرام ہوگا اور اس کا کھانا جائز نہیں ہوگا ۔ (فتاوی بینات: ٤/
۵۹۱
، کتاب الذبائح) ۔
تنبیہ: بلکہ بعد میں معلوم ہوا کہ پانی ابلا ہوا نہیں ہوتا، کیوں کہ پانی ابالنے کے لیے ۸۰ ڈگری سے لے کر ۸۵ ڈگری تک کی حرارت چاہیے، جب کہ اس پانی کی حرارت ۵۲ ڈگری ہوتی ہے، جس سے پانی ابلتا نہیں، ہاں گرم ضرور ہوتا ہے ۔ پھر مذبح والے مرغیوں کی کلیجی کو دیکھتے ہیں اگر اس کے رنگ میں تبدیلی آئی ہو تو اس کو الگ کر دیتے ہیں، جب کہ کلیجی بہت جلدی پکنے والی چیز ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ اس پانی سے گزرنے والی مرغی میں پانی کے اثرات ظاہر نہیں ہوتے، سوائے اس کے کہ بال و پر نکلتے ہیں ۔
(۵) پانچواں اشکال یہ ہے کہ ان مرغیوں کے بال و پر نکالنے میں ان کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار نہیں کیا جاتا، بلکہ تڑپتی ہوئی مرغیوں کو گرم پانی میں ڈال کر صاف کیا جاتا ہے ۔
جواب: اس کے بارے میں عرض یہ ہے کہ بعض فقہائے کرام نے مرغی ٹھنڈی ہونے اور مکمل روح نکلنے سے پہلے ان کے بال و پر نکالنے کو مکروہ لکھا ہے ۔ محمد بن عبد اللطیف بن عبد العزیز بن ملک نے شرح تحفۃ الملوک میں تحریر فرمایا ہے:
وكل زيادة لا يحتاج إليها في الذكاة، مكروهة، كجر المذبوح برجله إلى المذبح وسلخه قبل أن يتم موته، وكذا لو مات ولم يبرد أي لم يسكن من الاضطراب يكره سلخه أيضاً عند البعض لما فيه من زيادة الألم. (شرح تحفة الملوك، ص ۱۷۷۲).
یعنی ہر وہ زائد کام جس کی ضرورت ذبح میں نہیں مکروہ ہے، جیسے مذبوح کو محل ذبح تک پاؤں کے ساتھ گھسیٹنا اور موت مکمل ہونے سے پہلے کھال اتارنا، اسی طرح اگر جانور مر گیا اور ٹھنڈا نہیں ہوا اور اس کی حرکت بند نہیں ہوئی تو یہ بھی بعض فقہاء کے نزدیک مکروہ ہے، کیوں کہ اس میں زیادہ تکلیف دینا ہے ۔
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حرکت بند ہونے سے پہلے کھال اتارنا بعض علماء کے نزدیک مکروہ ہے، اگر تڑپنے کی حالت میں بال و پر یا کھال اتاری جا رہی ہو تو گرم پانی کے فاصلے کو ذرا دور کر دیں تاہم مذبوح حلال ہے ۔ جیسے صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
إلا أن الكراهة لمعني زائد وهو زيادة الألم قبل الذبح أو بعده فلا يوجب التحريم فلهذا قال (الإمام القدوري) توكل ذبيحته. (الهداية: ٤/٤۳۹، كتاب الذبائح).
خلاصہ یہ ہے کہ کراہت لغیرہ ہے اس لیے ذبیحہ حرام نہیں ہوگا بلکہ امام قدوری کے کہنے کے موافق ذبیحہ کھایا جائے گا ۔ ہاں مسلمان کی شان یہ ہے کہ حتی الامکان مکروہ اشیاء سے بھی پرہیز کریں یہ تقوی ہے فتوی نہیں ہے ۔
(٦) چھٹا اشکال: ایک اشکال یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ مرغیوں کو قبلہ رو ذبح نہیں کیا جاتا ۔ جب کہ در مختار میں ہے:
وكره ترك التوجه إلى القبلة لمخالفة السنة. وقال الشامي: قوله لمخالفة السنة أي الموكدة لأنه توارثه الناس فيكره تركه بلا عذر. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۲۹٦، كتاب الذبائح، سعيد).
جواب: اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ ذابحین رو بہ قبلہ ہوتے ہیں، ہاں ان کو یہ تلقین و ہدایت کی جائے کہ مرغی کے منہ کو رو بہ قبلہ کر لیا کریں، نیز اگر مرغی کو بالفرض رو بہ قبلہ ذبح نہ کریں تو بھی مرغی حلال ہے۔
ملاحظہ ہو طحطاوی علی الدر میں ہے:
وتوجيه القبلة سنة مؤكدة وترك السنة لا يوجب الحرمة. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱۵۲، كوئته).
عالمگیری میں مذکور ہے:
إذا ذبحها بغير توجه القبلة حلت ولكن يكره كذا في جواهر الأخلاطي. (الفتاوى الهندية: ۵/۲۸۸).
محیط برہانی میں ہے:
وإذا ذبحها متوجهة إلى غير القبلة حلت، ولكن يكره. (المحيط البرهاني: ٦/٤٦۲، كتاب الذبائح، الفصل الثاني في صفة الذكاة).
بدائع الصنائع میں ہے:
ويستحب أن يكون الذابح حال الذبح متوجهاً إلى القبلة. (بدائع الصنائع: ۵/۷۹، سعيد).
مستحب کے بالمقابل خلافِ اولی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے، ذبیحہ حلال ہے۔
(۷) ساتواں اشکال: بعض علماء نے یہ اشکال فرمایا کہ مرغیوں کو مذکورہ بالا طریقہ پر ذبح کرنا سلفِ صالحین سے مروی نہیں ہے؟
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ سلفِ صالحین سے ذبح کرتے وقت وہ طریقہ بھی ہماری نظر سے نہیں گزرا جس پر عام لوگ عمل کرتے ہیں، کیا کسی حدیث میں یہ وارد ہے کہ مرغی کو ذبح کرتے وقت اس کے پروں پر ایک پاؤں رکھو اور اس کے پیروں پر دوسرا پاؤں رکھو اور سر پکڑ کر ذبح کر لو؟
ہاں یہ طریقہ چونکہ عام لوگوں کے ہاں آسان تھا اس لیے اس کو اختیار کیا گیا، مقصود جانور کو شرعی طریقہ پر ذبح کرنا ہے، اس کے مقدمات ہر زمانہ میں بدلتے رہتے ہیں، اور ہر جگہ آسان سے آسان طریقہ کو اختیار کیا جاتا ہے۔ جیسے مقصود علمِ دین کا حصول ہے، لیکن اس کا نصاب بدلتا رہتا ہے، یا مقصود اللہ کا ذکر ہے لیکن اس کے طریقے نقشبندیہ، چشتیہ وغیرہ بدلتے رہتے ہیں یا مقصود قتال فی سبیل اللہ ہے اور اس کے آلات ہر زمانہ میں بدلتے رہتے ہیں، یا جیسے مقصود بیت اللہ کا حج لیکن اس کے لیے پرانے زمانہ میں اونٹوں پر سفر ہوتا تھا اب سفر کے ذرائع بدل گئے اور کار و ہوائی جہاز سے سفر ہوتا ہے، نیز پرانے قلم و قرطاس کی جگہ بول پین، کیلکولیٹر اور ٹائپ رائٹر کا استعمال، پرانے چراغوں کی جگہ بجلی کے بلب اور لائٹ کا استعمال، دھوپ گھڑی کی جگہ ہاتھ کی گھڑی کا استعمال نہ بدعت ہے اور نہ خلافِ شریعت ہے، پھر آدمیوں کے مل کر گائے کو گرانے کی جگہ جدید طریقے پر اس کو بے حس کرنا کیسے بدعت اور خلافِ شریعت ہوگا، اور مرغیوں کے پروں اور پاؤں پر پاؤں رکھنے کی جگہ جدید طریقے پر اس کو قابو کرنا اور ذبح کرنا کیسے بدعت اور خلافِ شریعت ہوگا۔
ہاں بے احتیاطی کی وجہ سے کچھ مکروہات شامل ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے ذبیحہ حرام نہیں ہوتا، البتہ مکروہات کی فہرست بنا کر ذبیحہ کو حرام کہنا یہ حکمِ شریعت پر جرأت کرنا ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.