وضو میں بعض اعضاء پر مسح کر نے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 1 #233Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب ١: وضو اور غسل کا بیان

Question

اگر کسی کے پاؤں کے بعض حصہ پر زخم ہے اور بعض پر نہیں تو پاؤں کو دھونا چاہیے یا مسح کرنا چاہیے یا کچھ حصہ پر مسح کرے اور کچھ حصہ کو دھوئے؟

Answer

پاؤں کے جس حصہ پر زخم ہے اور پانی نقصان دہ ہے اس حصہ پر مسح کر لیا جائے یعنی تر ہاتھ پھیر لیا جائے اور بقیہ کو دھو لیا جائے اس طرح کہ زخم پر پانی نہ پہونچے ۔
امداد الفتاح میں ہے:

(ومسح الجريح) مسحاً على الجسد إن استطاع وإلا على خرقة ونحوها وإن ضره تركه. (إمداد الفتاح شرح نور الإيضاح، ص: ۱۲۹).

طحطاوی میں ہے:

وقيل يغسل الصحيح ويمسح الجريح وصححه في المحيط والخانية. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح ص ۱۲٦، قديمي).

شامی میں ہے:

لكن إذا كانت زائدة على قدر الجراحة فإن ضره الحل والغسل مسح الكل تبعاً وإلا فلا، بل يغسل ما حول الجراحة ويمسح عليها لا على

الخرقة، ما لم يضره مسحها فيمسح على الخرقة التي عليها. (رد المحتار: ۱/۲۸۰، سعيد).

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.