ہدہد کھانے کا شرعی حکم:
Question
کیا ہدہد کھانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں بہت بڑا کارنامہ انجام دیا تھا جس کا ذکر اللہ تعالی نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
فقہاء میں سے بعض حضرات مثلاً علامہ شامی رحمہ اللہ وغیرہ نے مکروہ قرار دیا ہے لیکن علامہ طحطاوی رحمہ اللہ نے حلال لکھا ہے نیز لسان الحکام، عالمگیری، فتاوی ولوالجیہ وغیرہ میں بھی لا باس بہ مرقوم ہے، لہذا حلت اصل ہے اور کراہت کو تنزیہی پر محمول کر سکتے ہیں اس کی شرافت اور عزت کی وجہ سے ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قال في غرر الأفكار: عندنا يؤكل الخطاف والبوم ويكره الصرد والهدهد. (رد المحتار: ٦/۳۰٦، سعيد).
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار میں ہے:
ويؤكل القمري والسوادين والزرزور والصلصل والهدهد والبوم والطاووس. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱۵۷، كوئته).
لسان الحکام میں ہے:
وفي فتاوى الولوالجي: أكل الهدهد لا بأس به لأنه ليس بذي مخلب من الطيور. (لسان الحكام، ص ۳۸۱، دار الفكر).
عالمگیری میں ہے:
أكل الخطاف والصلصل والهدهد لا بأس به لانها ليست من الطيور التي هي ذوات مخلب كذا في الظهيرية. (الفتاوى الهندية: ۵/۲۹۰).
ملا علی قاری رحمہ اللہ نے درجِ ذیل حدیث سے استدلال کرتے ہوے حرام قرار دیا ہے ۔
نهي عن قتل أربع من الدواب النملة والنحلة والهدهد والصرد. (المرقاة: ۸/).
احسن الفتاوی میں ہے:
حاشیۃ الطحطاوی اور عالمگیری کی عبارات حلت ہدہد میں صریح ہیں اس لیے اسی کو ترجیح ہو گی، ملا علی قاری رحمہ اللہ کا حدیث سے استدلال محل نظر ہے، اس لیے کہ قتل ہدہد سے نہی کی علت احترام بھی ہو سکتی ہے، اور نصوص فقہیہ کی موجود گی میں یہی قرین قیاس بھی ہے، اس کے احترام کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس کو حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت کے لیے منتخب فرمایا اور یہ ایک قوم کے ایمان لانے کا سبب بنا، اس لیے تمام پرندوں میں اس کو ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے ۔
نیز ملا علی قاری رحمہ اللہ نے قول حلت بھی ذکر کیا ہے،
ونصه: وقيل يحل أكله لأنه يحكي عن الشافعي وجوب الفدية فيه وعنده لا يفتدي إلا المأكول. (المرقاة: ۸/۱۵۱).
علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ نے غرر الافکار سے جو کراہت نقل کی ہے اس کو بھی اسی احترام کی وجہ سے کراہتِ تنزیہیہ پر محمول کیا جا سکتا ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۷
/٤
۰۰
) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہدہد کا کھانا مکروہ ہے البتہ کھانے والے پر نکیر نہ کی جائے اور نہ کھانا احترام کی وجہ سے ہو اس لیے کہ حدیث میں قتل کا لفظ استعمال کرنا اور غیر ماکولات میں ذکر کرنا اس کے مکروہ ہونے کی دلیل ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.