اٹیچڈ باتھ روم میں ادعیہ و بسم اللہ پڑھنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 1 #238Urdu
Vol. 1كتاب الطهارةباب ١: وضو اور غسل کا بیان

Question

اگر کسی غسل خانہ میں (HIGH PAN TOILET) ڈھکن دار بیت الخلا موجود ہے تو اس میں بوقت وضو ادعیہ وغیرہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

شامی میں ہے:

وسننه كسنن الوضوء سوى الترتيب وآدابه كآدابه (قوله) كسنن الوضوء أي من البدائة بالنية والتسمية والسواك والتخليل والدلك والولاء واخذ ذلك في البحر من قوله ثم يتوضأ قوله سوي الترتيب أي المعهود في الوضوء والا فالغسل له ترتيب آخر بنية المصنف بقوله باديا عن أبي السعود وأقوال ويسثتني الدعاء أيضاً فإنه مكروه كما في نورا الإيضاح قوله آدابه كآدابه نص عليه في البدائع قال الشرنبلالي ويستحب ألا يتكلم بكلام مطلقا أما كلام الناس فالكراهة حال الكشف وأما الدعاء فلانه في مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال أقول قد عد التسمية من سنن الغسل فييشكل على ما ذكره تأمل. (رد المحتار۱/۱۵٦)

احسن الفتاوی میں ہے:
غسل خانہ میں بالعموم صفائی نہیں ہوتی اس لیے بیت الخلا کی طرح غسل خانہ میں بھی داخل ہوتے وقت پہلے بایاں پاؤں اندر رکھے اور نکلتے وقت پہلے دایاں پاؤں نکالے، غسل سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مسنون ہے، مگر غسل خانہ میں داخل ہونے سے پہلے پڑھے اور فارغ ہونے کے بعد غسل خانہ سے باہر نکل کر وضوء کے بعد والی دعاء پڑھے، اگر غسل خانہ نہایت صاف ستھرا ہو اور اس کے اندر بیت الخلا نہ ہو تو اس میں داخل ہوتے وقت اور نکلتے وقت جو پاؤں چاہیے پہلے رکھے اور بسم اللہ بھی غسل خانہ کے اندر کپڑے اتارنے سے پہلے پڑھے، اگر کوئی لنگی وغیرہ باندھ کر غسل کر رہا ہو تو کپڑے اتارنے کے بعد پڑھے، اور حالتِ غسل میں وضوء کی دعائیں بھی پڑھ سکتا ہے۔ بحوالہ شامی۔ (احسن الفتاوی:
۲
/
۳۷
)۔
مذکورہ عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ غسل خانہ میں بیت الخلا کا ڈھکن بند ہے اور صفائی وغیرہ کا اہتمام بھی ہے تو بوقتِ وضو ادعیہ اور بسم اللہ وغیرہ پڑھ سکتے ہیں۔
بخاری شریف کی روایت سے بھی اس مسئلہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها أنها قالت: كان رسول الله ﷺ يتكي في حجري وأنا حائض فيقرأ القرآن. (صحيح البخاري: ۱/٤٤، وصحيح مسلم: ۱/۱٤۳).
قال النووي رحمه الله: فيه جواز قراءة القرآن مضطجعاً ومتكئاً على الحائض وبقرب النجاسة.
وقال العيني رحمه الله: غرض البخاري الدلالة على جواز القراءة بقرب موضع النجاسة. (عمدة القاري: ۳/۱۰٤).

فیض الباری میں ہے:

أنه يكره قراءة القرآن عند الجنازة قبل الغسل وحوالي النجاسة وليس هكذا في الحائض، فإن نجاستها مستورة تحت الثياب. (فيض الباري: ۱/۳۷٦).

مذکورہ بالا روایت اور تشریح سے معلوم ہوتا ہے کہ جب نجاست چھپی ہوئی ہو اور ظاہری محل صاف ہو تو بسم اللہ، ادعیہ وغیرہ پڑھ سکتے ہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں بیت الخلا کا ڈھکن بند ہے اور جگہ بھی صاف ہے تو بسم اللہ، ادعیہ ماثورہ وغیرہ پڑھنا چاہیے۔

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.