ڈھکن دار بیت الخلا میں دعا پڑھنے کی قرآن و حدیث سے دلیل:

6 min readFatwa Vol 9 #17Urdu
Vol. 9باب… )۱( طہارت سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک عالمِ دین نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ اگر کرسی والے بیت الخلا کا ڈھکن بند ہو تو اس میں وضو کے اذکار پڑھ سکتے ہیں، اس پر ایک طالبِ علم نے ان سے سوال کیا کہ قرآن و حدیث میں اس کی دلیل ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں تلاش کر کے بتاؤں گا، اگر قرآن و حدیث اور فقہ میں اس کی کوئی دلیل ہو تو تحریر کریں؟

Answer

قرآن سے دلیل ملاحظہ ہو : جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تھے تو انہوں نے اپنی نجات کے لیے دعا کی تھی ۔ یہ دعا قرآن میں مذکور ہے:
﴿

وذا النون إذ ذهب مغاضباً فظن أن لن نقدر عليه فنادى في الظلمات أن لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين﴾ [الأنبياء: ۸۷]،
اور مچھلی کے پیٹ میں غلاظت ہوتی ہے اس کے قریب ذکر کو جاری رکھا، اس سے معلوم ہوا کہ یونس علیہ السلام نے گندگی کے قریب دعا کی لیکن چونکہ گندگی چھپی ہوئی تھی اس لیے دعا کرنا صحیح تھا ۔
حدیث شریف سے دلیل ملاحظہ کیجیے:

(۱) عن عائشة رضي الله تعالى عنها أنها حدثت: أن النبي ﷺ كان يتكئ في حجري وأنا حائض ثم يقرأ القرآن. (صحيح البخاري: ۱/ ٤٤، فيصل، ومسلم: ۱/۱٤۳، باب قراءة الرجل في حجر امرأته وهي حائض، فيصل).
وفي عمدة القاري: وغرض البخاري الدلالة على جواز القراءة بقرب موضع النجاسة. (عمدة القاري: ۵/۳۷٤، باب قراءة الرجل في حجر امرأته وهي حائض).
فيض الباري
میں ہے:

إنه يكره قراءة القرآن عند الجنازة قبل الغسل وحوالي النجاسة، وليس هكذا في الحائض، فإن نجاستها مستور تحت الثياب. (فيض الباري: ۱/۳۷٦، ط: القاهرة).
(۲) عن عائشة رضي الله تعالى عنها، قالت: اعتكف مع رسول الله ﷺ امرأة من أزواجه فكانت ترى الدم والصفرة والطست تحتها وهي تصلي. (صحيح البخاري: ۱/۲۷۳، باب اعتكاف المستحاضة، ط: قديمي كتب خانه).

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کے زمانہ مبارک میں مستحاضہ عورت کا مسجد میں اعتکاف کرنا ثابت ہے، یہاں مستحاضہ کی نجاست تھی لیکن چھپی ہوئی تھی، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے نکیر نہیں فرمائی ۔ اور اعتکاف کی حالت میں ذکر و اذکار مقصود ہوتے ہیں ۔
کتبِ فقہ سے دلائل ملاحظہ ہو :

(۱) والبداءة بالتسمية قولاً، وتحصل بكل ذكر، لكن الوارد عنه عليه الصلاة والسلام، باسم الله العظيم، والحمد لله على دين الإسلام قبل الاستنجاء وبعده، إلا حال انكشاف وفي محل نجاسة فيسمي بقلبه. (الدر المختار: ۱/۱۰۸، كتاب الطهارة، سعيد).
(۲) مطلب سنن الغسل قوله وسننه

كسنن الوضوء أي من البداءة بالنية والتسمية والسواك والتخليل والدلك والولاء

قال الشرنبلالي: ويستحب أن لا يتكلم بكلام مطلقاً أما كلام الناس فلكراهته حال الكشف وأما الدعاء فلأنه في مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال، أقول: قد عد التسمية من سنن الغسل فيشكل على ما ذكره، تأمل

أقول: أو المراد الكراهة حال الكشف فقط كما أفاده التعليل السابق والظاهر من حاله عليه الصلاة والسلام أنه لا يغتسل بلا ساتر، قوله مع كشف عورة، فلو كان متزراً فلا بأس به كما في شرح المنية والإمداد. (فتاوى الشامي: ۱/۱۵٦، سعيد).

مذکورہ عبارات سے معلوم ہوا کہ ستر کھولنے سے پہلے تسمیہ پڑھنا چاہیے ستر کھولنے کے بعد مکروہ ہے اسی طرح محل نجاست ظاہر ہو تو تسمیہ مکروہ ہے لیکن نجاست اور گندگی چھپی ہوئی ہو تو کراہت نہیں ہے ۔
تحفۃ الالمعی میں مفتی سعید پالن پوری رحمه الله صاحب لکھتے ہیں:
اگر کوئی شخص باہر دعا پڑھنا بھول جائے اور اندر جانے کے بعد یاد آئے تو اگر بیت الخلا صاف ستھرا ہے جیسے فلش، جہاں بالفعل گندگی نہیں ہوتی تو وہ جنگل کے حکم میں ہے ستر کھولنے سے پہلے دعا پڑھ سکتا ہے اور بعد کی دعا باہر نکل کر پڑھنی چاہیے، کیوں کہ استنجاء کے بعد بیت الخلا میں گندگی ہو یا صاف نہ ہونے کی وجہ سے بدبو ہو تو دعا دل میں پڑھے، زبان سے نہ پڑھے کیوں کہ گندگی کے قریب اللہ کا ذکر کرنا مکروہ ہے ۔ (تحفۃ الالمعی: ۱/۲۰۲، دیوبند) ۔
لیکن علامہ شامی رحمه الله کی عبارت سے معلوم ہوا کہ یہ مصب الماء المستعمل اور محل الاقذار ہے، بنا بریں جب بیت الخلا کھلا ہوا ہو تو ذکر و دعا اندر نہیں پڑھنا چاہیے ۔
(۳) فقہا نے لکھا ہے کہ اگر کسی جگہ کے اوپر کا حصہ پاک ہو اور نیچے کا حصہ ناپاک ہو تو اس پر نماز پڑھنا یا دعا کرنا درست ہے ۔

قال في البحر: ولو صلى على ماله بطانة متنجسة وهو قائم على ما يلي موضع النجاسة من الطهارة عن محمد يجوز وعن أبي يوسف لا يجوز وقيل: جواب محمد في غير المضرب فيكون حكمه حكم ثوبين وجواب أبي يوسف في المضرب فحكمه حكم ثوب واحد فلا خلاف بينهما

لو بسط الثوب الطاهر على الأرض النجسة وصلي عليه جاز. (البحر الرائق: ۱/۲۸۲، دار المعرفة). (وكذا في فتح القدير: ۱/۱۹۲، دار الفكر).

کتاب المسائل میں ہے:
اگر ناپاک تر یا خشک زمین پر ایسا موٹا کپڑا یا چٹائی یا پلاسٹک بچھا کر نماز پڑھیں جس سے نجاست اوپر معلوم نہ ہو تو نماز درست ہو جائے گی ۔
و لو كان رقيقاً وبسطه علي موضع نجس إن صلح ساتراً للعورة تجوز الصلاة. (شامي)،
(کتاب المسائل: ۱/۲٦۷) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (کتاب الفتاوی: ۲/٤٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.