حائضہ کے لیے عبادات کا حکم:
Question
حائضہ کون سی عبادت کر سکتی ہے اور کون سی نہیں کر سکتی؟ کیا مصحف کو دیکھ کر زبانی قرآن پڑھ سکتی ہے؟ کیا درود شریف پڑھ سکتی ہے؟ کیا دعا کر سکتی ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
حائضہ عورت کے لیے نماز، روزہ، طواف کرنا، تلاوتِ قرآنِ کریم، قرآنِ مجید کو چھونا اور مسجد میں داخل ہونا، یہ سب عبادات ناجائز ہیں، ہاں ذکر و اذکار، قرآن و حدیث کی دعائیں، دعا کی نیت سے پڑھنا یا دعا مانگنا، یہ سب جائز ہیں، نیز حائضہ معلمہ آیتِ کریمہ کو قطع کر کے پڑھا سکتی ہے ۔ نیز قرآنِ مجید کی بعض آیات مثلاً:
﴿لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين﴾
بہ نیت ذکر و دعا پڑھ سکتی ہے ہاں بہ نیت تلاوت جائز نہیں ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
ثم ذكر أحكامه بقوله يمنع صلاة مطلقاً ولو سجدة شكر وصوماً وجماعاً وتقضيه لزوماً دونها للحرج
ويمنع حل دخول مسجد وحل الطواف
وقراءة القرآن بقصده ومسه. (الدر المختار: ۱/۲۹۰، سعيد).
امداد الفتاح میں ہے:
ويحرم بالحيض والنفاس ثمانية أشياء: الصلاة والصوم، ولا يصحان لفوات شرط الطهارة منها، ويحرم قراءة آية من القرآن إلا بقصد الذكر، إن كانت مشتملة عليه، لا على حكم أو خبر
لقول النبي ﷺ: لا تقرأ الحائض، لا الجنب شيئاً من القرآن، والنفساء كالحائض ويحرم مسها أي: الآية، لقوله تعالى: لا يمسه إلا المطهرون، ولقوله ﷺ: لا تمس القرآن إلا وأنت طاهر، وسواء كان مكتوباً علي قرطاس أو درهم أو حائط، إلا بغلاف متجاف عن القرآن وعن الحامل
ويحرم دخول مسجد لقوله ﷺ: لا أحل المسجد لجنب ولا حائط
ويحرم الطواف بالكعبة، لقول النبي ﷺ لعائشة رضي الله عنها حين حاضت: فافعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري، متفق عليه،
(إمداد الفتاح، ص ۱٤٦).
فتاوی شامی میں ہے:
قوله قراءة قرآن أي ولو دون آية من المركبات لا المفردات لأنه جوز للحائض المعلمة تعليم كلمة كلمة
قوله بقصده فلو قرأ الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئاً من الآيات التي فيها معني الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به. (فتاوى الشامي: ۱/۲۹۳، سعيد).
(وكذا في البحر الرائق: ۱/۱۹۹، دار المعرفة).
ذکر و اذکار اور درود شریف وغیرہ پڑھنا جائز ہے ۔
قال في الدر المختار: ولا باس لحائض وجنب بقراءة أدعية ومسها وحملها وذكر الله تعالى، وتسبيح. (الدر المختار: ۱/۲۹۳، سعيد).
کفایت المفتی میں ہے:
سوال: جس عورت کو حیض آتا ہو، وہ درود شریف دلائل الخیرات پڑھ سکتی ہے یا نہیں؟
الجواب: ہاں ! سوائے قرانِ مجید کے تمام اذکار کا پڑھنا مباح ہے ۔ (کفایت المفتی: ۳/٤۱۲، جامعہ فاروقیہ) ۔
کتاب المسائل میں ہے:
اگر تلاوت کی نیت نہ ہو؛ بلکہ حمدِ خداوندی، دعا اور ذکر کے مقصد سے قرآنِ کریم کی آیات حالتِ حیض میں پڑھی جائیں، تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ دعا اور حمد کے مضامین پر مشتمل آیات میں تو ان کا پڑھنا مطلقاً جائز ہے خواہ آیات طویل ہوں یا مختصر
حالتِ حیض میں ہر طرح کی دعائیں پڑھنا جائز ہے حتی کہ وہ دعائیں بھی پڑھی جا سکتی ہیں جن کے الفاظ قرآنِ کریم اور احادیثِ طیبہ میں وارد ہیں، اس حال میں دعائے قنوت پڑھنا بھی درست ہے ۔
ناپاکی کے ایام میں دینی کتابوں کا پڑھنا، مطالعہ کرنا اور درس دینا جائز ہے، لیکن ان میں جہاں قرآنِ کریم کی آیت لکھی ہو اس جگہ ہاتھ لگانا اور وہ آیت زبان سے پڑھنا جائز نہیں ہے ۔ (کتاب المسائل: ۱/۲۲۲، ۲۲۳) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۱/۷۵٦، ط: بمبئی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.