حائضہ و جنبی کے لیے تلاوت و کتابتِ قرآن کا حکم:
Question
جنبی اور حائضہ کے لیے قرآن کریم کی ایک دو آیتیں لکھنا پڑھنا یا مس کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر ناجائز ہے تو مراد بڑی آیت ہے یا چھوٹی بڑی آیت کی مقدار کیا ہے؟
Answer
اس مسئلہ میں حائضہ و جنبی برابر ہیں، ان کے لیے قراءت قرآن جائز ہو نے نہ ہو نے میں یہ تفصیل ہے، اگر قراءت کی نیت سے پڑھیں تو جائز نہیں ہے، خواہ ایک آیت ہو یا اس سے کم مقدار، یہ اس وقت ہے جبکہ مرکب آیت پڑھے اور مفرد طور پر ایک لفظ کو قطع کر کے پڑھیں تو جائز ہے جیسے حائضہ یا جنبی بچوں کو اس طور پر پڑھائیں ۔
رد المحتار میں ہے:
قوله قراءة القرآن أي وكره ولو دون آية من المركبات لا المفردات لا نه جوز للحائض المعلمة تعليمة كلمة كلمة كما قدمناه. (رد المحتار: ۱/۲۹۳).
البحر الرائق میں ہے:
(قراءة القرآن) أي يمنع الحيض قراءة القرآن وكذا الجنابة لقوله لا تقرأ الحائض ولا الجنب شيئا من القرآن. رواه الترمذي وابن ماجة وحسنه المنذري وصححه النووي. وعن علي رضي الله عنه قال كان رسول الله ﷺ يقرئنا القرآن على كل حال ما لم يكن جنباً. رواه أبو داود والترمذي وقال انه حسن صحيح.
وبقولنا قال أكثر أهل العلم من الصحابة والتابعين كما حكاه الترمذي في جامعه وشمل إطلاقه الآية وما دونها
"وعن علي رضي الله عنه قال: اقرؤوا القرآن ما لم يصب أحدكم جنابة فإن أصابه فلا ولا حرفاً واحداً رواه الدارقطني". (البحر الرائق ۱/۱۹۹).
ان عبارات سے معلوم ہو گیا کہ ان حالتوں میں قراءت کی نیت سے پڑھنا ناجائز ہے چاہیے ایک آیت ہویا اس سے کم، البتہ اگر قراءت کی نیت سے نہ پڑھے بلکہ ثناء یا افتتاحِ امر یا دعاء کی نیت سے پڑھے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
رد المحتار میں ہے:
(قوله بقصده) فلو قرأت الفاتحة على وجه الدعاء أو شيئاً من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم ترد القراءة لا بأس به كما قدمناه عن العيون لا بي الليث وان مفهومه أن ما ليس فيه معنى الدعاء كسورة أبي لهب لا يؤثر فيه قصد غير القرآنية. (رد المحتار ۱/۲۹۳)
بحر میں ہے:
أما إذا قرأه على قصد الثناء أو افتتاح امر لا يمنع في أصح الروايات وفي التسمية اتفاق أنه لا يمنع إذا كان على قصد الثناء أو افتتاح أمر كذا في الخلاصة وفي العيون لا بي الليث ولو أنه قرأ الفاتحة على سبيل الدعاء أو شيئاً من الآيات التي فيها معنى الدعاء ولم يرد به القراءة فلا بأس به. (البحر الرائق ۱/۱۹۹).
معلوم ہوا کہ اگر قراءت کی نیت سے نہ پڑھا جائے، بلکہ دعاء ثناء یا افتتاح کی نیت سے پڑھے تو جائز ہے بشرطیکہ آیت میں دعاء یا ثناء کا معنی موجود ہو ۔
البتہ یہ مسئلہ باقی ہے کہ بنیت قراءت کتنا پڑھنا ناجائز ہے اس سے چھوٹی آیت مراد ہے یا بڑی اور اس کی مقدار کیا ہے، بعض فقہاء کے نزدیک ایک آیت سے کم مقدار قراءت جائز ہے ۔
بحر میں ہے:
وفي رواية الطحاوي يباح لهما ما دون الآية وصححه صاحب الخلاصة ومشي عليه فخر الإسلام في شرح الجامع الصغير. (البحر الرائق ۱/۱۹۹)
لیکن صحیح اور راجح قول کے مطابق ایک آیت سے کم مقدار بھی بنیت قراءت ناجائز ہے ۔ ملاحظہ ہو:
فحاصله أن التصحيح قد اختلف فيما دون الآية والذي ينبغي ترجيح القول بالمنع لما علمت من أن الأحاديث لم تفصل والتعليل في مقابلة النص مردود لأن شيئاً كما في الكافي نكرة في سياق النفي فتعم وما دون الآية قرآن فيمنع كالآية ويؤيده ما رواه الدارقطني عن علي رضي الله عنه قال: اقرؤوا القرآن ما لم يصب أحدكم جنابة فإن أصابه فلا ولا حرفاً واحداً. (البحر الرائق: ۱/۱۹۹).
رد المحتار میں بھی عدم جواز کو ترجیح دی گئی ہے ۔
(قوله وقراءة القرآن) ولو دون آية. (رد المحتار ۱/۲۹۳)
البتہ وہ چھوٹی آیت جو کلام الناس کے مشابہ ہو اور کلام کی نیت سے پڑھی جائے نہ کہ قراءت کی نیت سے تو جائز ہے ۔
وقد انكشفت بهذا ما في الخلاصة من عدم حرمة ما يجري على اللسان عند الكلام من آية قصيرة من نحو ﴿ثم نظر﴾ أو ﴿ولم يولد﴾ (البحر الرائق: ۱/۱۹۹).
اسی طرح حائضہ معلّمہ یا جنبی معلّم ہو تو ان کے لیے جائز ہے کہ وہ بچوں کو قرآن پڑھائیں لیکن شرط یہ ہے کہ کلمات کو الگ الگ کا ٹ کر پڑھائیں، ہاں امام طحاوی رحمہ اللہ کے نزدیک بیک وقت نصف آیت بھی پڑھا سکتے ہیں ۔
البحر الرائق
میں ہے:
وإذا حاضت المعلّمة فينبغي لها أن تعلم الصبيان كلمة كلمة وتقطع بين الكلمتين على قول الكرخي وعلى قول الطحاوي تعلم نصف آية واختلف المتأخرون في تعليم الحائض والجنب والأصح أنه لا بأس به إن كان يلقن كلمة كلمة ولم يكن من قصده أن يقرأ آية تامة. (البحر الرائق ۱/۲۰۰).
اسی طرح ان کے لیے قرآن کو مس کر نا بھی ناجائز ہے، اگر قرآن مصحف کی شکل میں ہے تو راجح قول یہ ہے کہ الفاظ، موضعِ بیاض اور وہ جلد جو متصل ہے اس کو مس کر نا جائز نہیں ہے، اور اگر قرآن کریم کا کچھ حصہ لوح یا درہم یا دیوار پر لکھا ہو تو صرف لکھے ہوے الفاظ کو مس کرنا ممنوع ہے باقی جگہ کو مس کرنا جائز ہے ۔
رد المحتار میں ہے:
(قوله ومسه) أي القرآن ولو في لوح أو درهم أو حائط، لكن لا يمنع الا من مس المكتوب، بخلاف المصحف فلا يجوز مس الجلد وموضع البياض منه وقال بعضهم يجوز، وهذا أقرب إلى القياس والمنع أقرب إلى التعظيم كما في البحر والصحيح المنع. (رد المحتار ۱/۲۹۳).
نوٹ:
چھوٹی آیت وہ ہے جو چھ حروف سے کم پر مشتمل ہو مثلاً
﴿ثم نظر﴾.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.