آیات قرآنی والے تعویذ کے ساتھ بیت الخلا جانے کا حکم:
Question
اگر کسی شخص کے گلے میں تعویذ بندھا ہوا ہے جس میں آیاتِ قرآنیہ ہیں، یا سیل فون میں قرآنِ کریم بھرا ہوا ہے، اسی طرح انگوٹھی میں حروفِ مقطعات مرقوم ہیں تو ان اشیاء کے ساتھ بیت الخلا میں داخل ہونا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
اگر تعویذ میں قرآنی آیات سی ہوئی ہے اور نظر نہیں آتیں، اسی طرح موبائل فون میں قرآنِ کریم اسکرین پر ظاہر نہیں ہے بلکہ اندر کی طرف چھپا ہوا ہے تو ان کے ساتھ بیت الخلا میں داخل ہونا جائز اور درست ہے البتہ تعویذ اتارنا بہتر ہے لیکن اگر آیاتِ قرآنیہ نظر آتی ہوں مثلاً تعویذ کھلا ہوا ہے اور آیات نظر آتی ہیں اسی طرح آیاتِ قرآنیہ موبائل کی اسکرین پر ظاہر ہوں تو پھر بیت الخلا میں لے جانا ناجائز ہے، اور انگوٹھی کا بھی یہی حکم ہے ۔ ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:
ولو كانت رقية في غلاف متجاف عنه لم يكره دخول الخلاء به والاحتراز عن مثله أفضل. (فتح القدير: ۱/۱٦۹، دار الفكر).
وكذا في تبيين الحقائق: ۱/۵۸، إمداديه، والدر المختار: ۱/۱۷۸، سعيد، والبحر الرائق: ۱/۲۱۳، وزاد بقوله: وفي الخلاصة: لوكان على خاتمه اسم الله تعالى يجعل الفص إلى باطن الكف.
وقال في الطحطاوي: ولوكان ما فيه شيء من القرآن أو من أسمائه تعالى في غلاف منفصل عنه، أو في جيبه فلا بأس به، والاحتراز عن مثله أفضل إن أمكن. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۱۰۱).
کفایت المفتی میں ہے:
تعویذ کے ساتھ جب کہ وہ غلاف میں چھپا ہوا ہو، بیت الخلا میں جانا جائز توہے، مگر بہتر یہ ہے کہ تعویذ باہر رکھ کر جائیں۔ (کفایت المفتی:
۹
/
۷۷
، دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.