کرے فیش (Cray fish) کھانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #97Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۲): ماکول اللحم اور غیر ماکول اللحم جانوروں کے احکام

Question

کرے فیش (Cray fish) کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ کرے فیش (Cray fish) کے مچھلی نہ ہونے کی وجہ سے اس کا کھانا مذہبِ احناف کے مطابق جائز اور درست نہیں ۔ اس جانور سے متعلق کچھ وضاحت ملاحظہ کیجیے:
اس جانور کو عربی میں جراد البحر و جراد النہر کہتے ہیں ۔ (المورد:
۲۸۸
) ۔
ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا میں مرقومہ عبارت کا خلاصہ درجِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
یہ سرطان کیکڑے (lobster) کی طرح ہوتا ہے اس کو (spiny lobster) بھی کہتے ہیں ۔ اردو میں اس کو دریائی ٹڈی کہتے ہیں ۔ یہ تازہ پانی میں رہنے والا ایک خول دار جانور ہے ۔ افریقہ اور انٹارٹیکا کے علاوہ ہر براعظم میں دستیاب ہے ۔ اس کے بدن کا اگلا حصہ بے حس و حرکت ہوتا ہے اور پچھلا حصہ متحرک ہوتا ہے ۔ اس کے چھ پیر ہوتے ہیں، آگے کے دو پیر سے پکڑنے کا کام کرتا ہے اور باقی چار پیر کو چلنے کے لیے استعمال کرتا ہے، رات کے شروع میں یہ جانور جب اپنے سوراخ سے سمندر کے ساحل پر نکلتا ہے تو اس وقت بہت چست ہوتا ہے، اس جانور کو سوراخ کرنے کی عادت ہوتی ہے جس کی وجہ سے کبھی کبھی دریائی باندی میں سیلاب روک پشتہ ختم ہوتا ہے ۔ یورپ میں اس کو اچھے کھانوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ (ملخص از ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا: ٤/
۹۰۱
) ۔
مذہبِ احناف میں بحری جانوروں میں سے فقط مچھلی حلال ہے ۔ قرآنِ کریم کی آیت:
﴿وأحل لك صيد البحر وطعامه﴾
کے تحت امام ابو بکر جصاص زاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
: أنه أراد السمك خاصة دون ما سو اهـ. (أحكام القرآن: ٤/۱٤۷، إحياء التراث).

تحفۃ الملوک میں مذکور ہے:

ولا يحل من حيوان الماء، إلا أنواع السمك كلها. (تحفة الملوك، ص ۲۱٤، فصل ما يحرم أكله من الحيوانات، ط: دار البشائر الإسلامية).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.