شارک مچھلی کھانے کا شرعی حکم:

4 min readFatwa Vol 6 #86Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۲): ماکول اللحم اور غیر ماکول اللحم جانوروں کے احکام

Question

شارک مچھلی جو کہ انسانوں اور دیگر سمندری جانوروں کو کھاتی ہے اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ وہ آدم خور ہے ۔

Answer

مذہب احناف میں سمندری جانوروں میں سے صرف مچھلی کا کھانا حلال ہے، مچھلی کے علاوہ کسی اور سمندری جانور کا کھانا جائز اور درست نہیں ہے، پھر مچھلی اپنی تمام اقسام کے ساتھ حلال ہے، اب تحقیق اس بات کی درکار ہے کہ کیا شارک مچھلی کے اقسام میں شمار کی جاتی ہے یا نہیں؟
چنانچہ ولڈ بُک انسائیکلوپیڈیا میں اس کو مچھلی بتایا ہے عبارت انگریزی میں ہے اس کا خلاصہ بزبان اردو ملاحظہ ہو:
شارک گوشت کھانے والی مچھلی ہے اور پورے سمندر میں سب سے زیادہ خوف ناک جانور ہے، سائنسدانوں نے بتلایا کہ شارک کی تقریباً ۲۵۰ اقسام ہیں، اور یہ عامۃ ً گرم پانی میں رہتی ہے، شارک کی تمام اقسام گوشت خور ہیں، ان میں سے اکثر مچھلیوں کو کھاتی ہیں، شارک مچھلی آدم خوری میں مشہور ہے لیکن ایسے واقعات بہت کم رونما ہوئے ہیں، پوری دنیا میں ان ۲۵۰ اقسام میں سے فقط ۲۵ اقسام انسانوں پر حملہ آور ہوئیں، شارک مچھلی دیگر مچھلیوں سے مختلف ہے ۔ (ملخص از ولڈبُک انسائیکلوپیڈیا:
۱۷
/
۳۰۰
) ۔
مزید دیکھیے: (انسائیکلوپیڈیابرطانیکا:
۹
/
۱۱٦
) ۔
احسن الفتاوی میں مذکور ہے:
سوال: ایک سمندری مچھلی جس کو عربی میں قرش کہتے ہیں اور المنجد میں اس کے متعلق یہ لکھا ہے:

نوع من السمك يعرف بكلب البحر يقطع الحيوان بأسنانه كما يقطع السيف تخافه جميع دوات البحر.

اس کے علاوہ سمندری حالات سے واقف لوگوں کا قول ہے کہ اس مچھلی کو حیض آتا ہے اور دوسرا یہ کہ یہ عام مچھلیوں کے برعکس انڈے دینے کے بجائے بچے دیتی ہے، یہ مچھلی حلال ہے یا حرام؟
حضرت مولانا عبد الحی رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی میں اس کی حرمت کا قول نقل فرمایا ہے امید ہے کہ رہنمائی فرمائیں گے، بینوا توجروا ۔
الجواب: اس قسم کی تحقیقات میں شرعاً و عقلاً ماہرین فن کا قول فیصل ہونا چاہیے ہونا چاہیے، دورِ جدید کے ماہرین حیوانات مچھلی کی چار علامات بیان کرتے ہیں:
(۱) ریڑھ کی ہڈی ۔
(۲) سانس لینے کے گلپھڑے ۔
(۳) تیرنے کے پنکھے ۔
(٤) ماحول کے مطابق جسم کے درجہ حرارت کا کم و بیش ہونا ۔
یہ علامات قرش میں موجود ہیں، اس کی صورت سے بھی یہی واضح ہوتا ہے اس لیے یہ حلال ہے، مع ہذا بنا بر اختلاف احتیاط اولی ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۷
/
۳۹۱
) ۔
المورد (قاموس انکلیزی، عربی) میں مذکور ہے:
(shark)
القرش: سمك مفترس. (
المورد، ص:
۱۰٦۵
) ۔
فقہاء نے سمک کو اپنی جمیع اقسام کے حلال قرار دیا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی قاضيخان میں ہے:

ولا بأس بسائر أنواع السمك نحو الجريث والمارماهي ولا يؤكل ما في البحر سوى السمك وطير الماء عندنا. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۳/۳۵۷).

بدائع الصنائع میں ہے:

ويستوي في حل الأكل جميع أنواع السمك من الجريث والمارماهي وغيرهما لأن ما ذكرنا من الدلائل في إباحة السمك لا يفصل بين سمك وسمك إلا ما خص بدليل وقد روي عن سيدنا على رضي الله عنه وابن عباس رضي الله عنه إباحة الجريث والسمك الذكر ولم ينقل عن غيرهما خلاف ذلك فيكون إجماعاً. (بدائع الصنائع: ۵/۳٦، سعيد).
النتف في الفتاوى
میں ہے:

وأما دواب البحر فإنها محرمة سوى السمك بأجناسها في قول الفقهاء. (النتف في الفتاوى، ص ۱۵۰، حكم دواب البحر، ط: بيروت).
وفي "الفقه الحنفي في ثوبه الجديد" (۵/۲٦۱): قال ابن حجر رحمه الله: ولا خلاف بين العلماء في حل السمك على اختلاف أنواعه.

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.