بلا تعینِ شرکاء تین گایوں کی قربانی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #109Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

اکیس آدمیوں نے مل کر تین گایوں کی قربانی کر دی، لیکن یہ متعین نہیں کیا کہ کون سی گائے میں کون سے سات افراد شریک ہیں، تو قربانیاں ادا ہوئیں یا نہیں؟

Answer

قربانی کرنے کی نیت کافی ہے ہر ایک کے لیے حصے متعین کرنا ضروری نہیں، بنا بریں بصورتِ مسئولہ تمام کی طرف سے قربانیاں ادا ہو گئیں، البتہ افضل اور بہتر یہ ہے آئندہ ہر بڑے جانور میں جو سات افراد شریک ہیں ان کی تعیین کر لی جائے ۔
ملاحظہ ہو امداد الاحکام میں ہے:
سوال: اگر چودہ آدمی دو گایوں میں شریک ہو کر قربانی کریں کہ ہر ایک کا حصہ کسی خاص گائے میں متعین نہ کیا جائے اور یہ نہ کہا جائے کہ یہ گائے سات شخصوں کی ہے اور دوسری گائے دوسرے سات شخصوں کی ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ یہ دونوں گائیں مشترک طور پر چودہ شخصوں کی طرف سے ہیں تو اس طرح قربانی درست ہو گی یا نہیں؟
أمر حضرة الشيخ دام مجده وعلاه بتحقيقه.

الجواب: یہ صورت قیاساً تو جائز نہیں ہے، ہاں استحساناً جائز ہے ۔
ولو اشترك سبعة في سبع شياه لا يجزيهم قياساً لأن كل شاة بينهم على سبعة أسهم وفي الاستحسان يجزيهم وكذا اثنان في شاتين. (رد المحتار: ۵/۳۰۸). (
امداد الاحکام: ٤/
۲۷۳
) ۔
مزید دلائل اوپر والے مسئلہ کے تحت مذکور ہوئے ۔ ان کو بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.