مالکان کی طرف سے بلا تعیین قربانی کا حکم:

3 min readFatwa Vol 6 #108Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

اگر کوئی ادارہ یا بینک سو آدمیوں کی طرف سے سو جانوروں کی قربانی کرتا ہے، لیکن یہ تعیین نہیں کرتا کہ یہ جانور زید کا ہے اور یہ عمرو کا، تو قربانیاں ہو جائیں گی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ ادارہ یا بینک وکیل کی حیثیت سے جانوروں کو خریدتے ہیں اور پھر مالکان کی طرف سے قربانی کرتے ہیں، اور وکیل کا خریدتے وقت موکل کی طرف سے تعیین کرنا ضروری نہیں، نیز قربانی کرتے وقت بھی ہر شخص کا علیحدہ نام پکارنا یا ہر ایک کے لیے جانور متعین کرنا ضروری نہیں ہے، سب کی طرف سے قربانیاں ادا ہو جائیں گی ۔
وکیل کا موکل کی طرف سے خریدتے وقت تعیین کرنا ضروری نہیں ۔ اس مسئلہ کے دلائل ملاحظہ ہو:

قال في الهداية: العقد الذي يعقده الوكلاء على ضربين كل عقد يضيفه الوكيل إلى نفسه كالبيع والإجارة

(الهداية: ۳/۱۷۹).
قال العلامة العيني في "البناية": لأن الوكيل يستغني عن إضافة العقد إلى الموكل. (البناية شرح الهداية: ۷/۲۷۷، ط: رشيدية).
وفي المجلة: لا يشترط إضافة العقد إلى الموكل في البيع والشراء والإجارة. (المجلة، المادة: ۱٤٦۱).

امر ثانی کے دلائل ملاحظہ ہو:

رجل ضحى عن نفسه وعن أربعة من عياله خمس شياه ولم يعين كل واحد عن صاحبها عن أبي يوسف رحمه الله أنه يجوز عن الكل استحساناً. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۳/۳۵۱).

عالمگیری میں ہے:

وفي الأضاحي للزعفراني اشترى سبعة نفر سبع شياه بينهم ولم يسم لكل واحد منهم شاة بعينها فضحوا بها كذلك فالقياس أن لا يجوز وفي الاستحسان يجوز.
فقوله اشترى سبعة نفر سبع شياه بينهم؛ يحتمل شراء كل شاة بينهم، ويحتمل شراء شياه على أن يكون لكل واحد شاة، ولكن لا بِعَينِها، فإن كان المراد هو الثاني، فما ذكر من الجواب باتفاق الروايات؛ لأن كل واحد منهم يصير مضحياً شاة كاملة، وإن كان المراد هو الأول فما ذكر من الجواب على إحدى الروايتين. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۰٦، والمحيط البرهاني: ٦/٤۸۷، ط: مكتبه رشيديه).

امداد الفتاوی میں حضرت تھانوی رحمہ اللہ عالمگیری کی عبارت ذکر کرنے کے بعد رقم طراز ہے:
اس سے معلوم ہوا کہ حصہ مقرر نہیں کرتے اس صورت میں قربانی درست ہو جائے گی باقی بہتر یہ ہے کہ ہر جانور پر خاص شخص کا نام لگا دیا جاوے کہ یہ فلانے کی طرف سے ہے اور وہ فلانے کی طرف سے ہے ۔ (امداد الفتاوی:
۳
/
۵٦۲
) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
شرکاء کے نام قربانی کو ذبح کرتے وقت پکارنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہاں ذبح کرنے والا نیت میں ان سب کی جانب سے ذبح کرنے کا خیال رکھے ۔ (کفایت المفتی:
۸
/
۱۸۷
، دار الاشاعت) ۔
فتاوی خلیلیہ میں ہے:
جو شخص اپنی اموات کی طرف سے قربانی کرتا ہوا اور اپنی ذات کی طرف سے بھی اور وہ شخص ایک گائے اور دو مینڈھوں کی قربانی بلا تعین کر دے تو قربانی درست ہو گی ۔ (فتاوی خلیلیہ، ص
۲۹٦
، مکتبۃ الشیخ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.