قربانی میں مکانِ وکیل و اضحیہ کا اعتبار ہے
Question
اگر کسی نے دوسرے شخص کو قربانی کے لیے وکیل بنایا موکل پاکستان میں رہتا ہے اور وکیل مدینہ منورہ میں، موکل نے وکیل کو قربانی کے لیے کہا، عام طور پر سعودی عرب میں ایک یا دو دن پہلے اور پاکستان میں ایک یا دو دن بعد میں عید ہوتی ہے، اگر وکیل نے عید کے دن جانور ذبح کیا تو موکل کی قربانی ہوئی یا نہیں؟ جب کہ ابھی تک موکل کے ہاں عید الاضحی کا دن ہی نہیں آیا ۔ بالفاظِ دیگر قربانی کے وقت میں موکل کا اعتبار ہے یا قربانی کے وکیل کا؟
Answer
اس مسئلہ میں اہل علم و علماء کے دو گروہ ہیں، بعض حضرات فرماتے ہیں کہ موکل کے ایام النحر کا اعتبار ہے، بنا بریں بصورتِ مسئولہ موکل کی طرف سے کی گئی قربانی ادا نہیں ہو گی، اسی کے مطابق دار الافتاء جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن، دار الافتاء دار العلوم کراچی، دار الافتاء جامعہ اسلامیہ ڈابھیل اور شاہی مراد آباد وغیرہ سے فتوی شائع ہوا ہے ۔
دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ وکیل اور اضحیہ کی جگہ اور وہاں کے ایام النحر کا اعتبار ہے، لہذا بصورتِ مسئولہ موکل کی طرف سے قربانی ادا ہو گئی، اسی کے مطابق حضرت مفتی سید عبد الرحیم لاجپوری ثم راندیری رحمہ اللہ نے کافی عرصہ پہلے فتوی دیا تھا، اور ماضی قریب میں مدرسہ مفتاح العلوم تراج، سورت، گجرات کے مفتی حضرت مولانا مفتی رشید فریدی صاحب نے ٦، تحقیقی مقالات تحریر فرما کر مسئلہ مذکورہ بالا پر مفصل روشنی ڈالی ہے، مقالات کے اسماء حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
(
۱
) تحقيق الكلام في بيان السبب لوجوب الأحكام.
(
۲
) رفع الارتياب من سببية الوقت للموقتات.
(
۳
) تمييز الطرقات لتحقق الشرائط للقربات.
(
٤
) نور السَّني لمن يجب عليه الأضحية بالغني.
(
۵
) تعقب الفريد على تخصيص الوجوب بصبح العيد.
(
٦
) كشف الغطاء عن اعتبار الوقت لمحل الأداء.
یہ مجموعہ رسائل ماہنامہ "دار العلوم" میں دو قسطوں میں شائع ہوے ہیں ۔ ان رسائل کی روشنی میں چند معروضات حسبِ ذیل درج ہیں:
(۱) قربانی کا اصل وجوب فی الذمہ غنا سے آ جاتا ہے ۔ اور یہی وجوب فی الذمہ من جانب اللہ ہے جو وقت پر موقوف نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو ملتقی الابحر میں ہے:
هي واجبة، وإنما تجب على حر مسلم مقيم موسر. (ملتقى الأبحر: ٤/۱٦٦).
في مجمع الأنهر: قوله موسر" لأن العبادة لا تجب إلا على القادر وهو الغني دون الفقير. (مجمع الأنهر: ٤/۱٦٦).
وفي بدائع الصنائع: أما شرائط الوجوب
منها: الإسلام
ومنها الحرية
ومنها الإقامة
ومنها الغناء والغناء شرط الوجوب في هذا النوع، لأنه حق مالي متعلق بملك المال. (بدائع الصنائع: ۵/٦۳، سعيد).
لأن الموسر تجب الأضحية في ذمته. (البدائع: ۵/۷٦، سعيد).
وجوب فی الذمہ کا حکم موسر پر لگانا یہ دلیل ہے کہ یسار حکم کی علت ہے ۔
لأن ترتيب الحكم على المشتق نص على علِّية مبدأ الاشتقاق. (فتح الغفار، ص ٦۰).
فقہاء نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ: قربانی کا وجوب غنا سے ہے اور اس میں کسی کا اختلاف بھی نہیں ۔ ملاحظہ ہو البنایہ شرح الہدایۃ میں ہے:
وشرط اليسار لقوله ﷺ: "من وجد سعة ولم يضح فلا يقربن مصلانا"، يدل على أن الوجوب بالسعة ولا سعة للفقير. (البناية: ۱۱/٤).
تكمله فتح القدير
میں ہے:
إذ لا نزاع لاحد أن علة وجوب الأضحية على الموسر هي القدرة على النصاب. (تكملة فتح القدير: 9/۵۰۷).
وجوب فی الذمہ قبل یوم النحر کی عقلی دلیل ملاحظہ ہو:
وقت (ایام النحر) شرطِ ادا ہے اور ادا کا وجوب ادا سے بالکل متصل رہتا ہے پس اگر کسی غنی مقیم نے دیہات میں یوم النحر کی صبح طلوع ہوتے ہی بلا تاخیر قربانی کر لی تو یہ قربانی بالاتفاق صحیح ہے، تو لامحالہ یہ بات بھی تسلیم کرنی ہو گی کہ یوم النحر سے پہلے قربانی اس کے ذمہ واجب تھی، کیوں کہ وجوبِ ادا (جو وقت میں خطابِ باری تعالی سے ہوتا ہے) سے پہلے نفس وجوب کا ہونا لازم ہے، اور اصل وجوب، وجوبِ ادا سے مقدم ہوتا ہے ۔ "
فثبت أن أصل الوجوب قد وجد بالغنا قبل صبح يوم النحر" فافهم وتدبر.
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ قربانی کا وجوب فی الذمہ غنا سے ہے وقت پر ہرگز موقوف نہیں ہے ۔ ہاں وقت صرف شرطِ ادا ہے ۔
پھر امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک اصل وقت جمیع مکلفین کے حق میں یوم النحر کی صبح طلوع ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے، البتہ ذبح فی المصر کے لیے فراغ من صلاۃ العید مزید شرط ہے ۔
انظر: (المبسوط: ۱۲/۱۰، وبدائع الصنائع: ۵/۷۳، سعيد، وشرح الوقاية: ٤/۳۹).
نیز نماز، روزہ کے وقت کی طرح، قربانی کے وقت کو بعینہٖ شرطِ ادا کے ساتھ وجوبِ ادا کا سبب بھی قرار دیا گیا ہے ۔ لہذا وقت دونوں حیثیتوں کا جامع ہوا ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:
لا تجوز قبل دخول الوقت لأن الوقت كما هو شرط الوجوب فهو شرط جواز إقامة الواجب. (بدائع الصنائع: ۵/۷۳، سعيد، وكذا في البناية: ۱۱/۳، والعناية على هامش فتح القدير: ۱/۲۱٦).
اور جس طرح عباداتِ موقتہ کی ادائیگی قبل از وقت صحیح نہیں ہے اسی طرح بعد از وقت بھی درست نہیں ہے بلکہ قضا لازم ہوتی ہے ۔ تو اب غنی ایام النحر سے قبل قربانی اس وجہ سے نہیں کر سکتا ہے کہ وقت شرطِ ادا ہے اور "
تقدم المشروط على شرط الصحة لا يجوز"
۔ عدمِ جواز کی یہ وجہ نہیں ہے کہ غنی کا ذمہ ابھی مشغول بالواجب ہی نہیں ہوا ۔
فافهم
۔
ہاں غنا (وجوب فی الذمہ) کے بعد اگر جانور کی جگہ میں عید ہے تو قربانی جائز ہو گی، کیوں کہ سبب یعنی مالک کے بارے میں غنا موجود ہے، اور قربانی کے جانور کی جگہ میں یا وکیل کی جگہ میں عید (شرطِ ادا) موجود ہے، لہذا بصورتِ مسئولہ قربانی صحیح اور درست ہے ۔ کیوں کہ قربانی مالی عبادت ہے اور اس کے نفس وجوب کی علت بالاتفاق غنا ہے جس کا تعلق مکلف کے ساتھ ہے، اور قربانی کے وجوبِ ادا کا تعلق اضحیہ (جانور) کے ساتھ ہے نہ کہ مکلف سے ۔ پس ثابت ہوا کہ وقت (ایام النحر) کا اعتبار محل ادا کے لحاظ سے ہے ۔ نہ کہ مکلف کے لحاظ سے ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
ولأنها (الأضحية) تشبه الزكاة فيعتبر في الأداء مكان المحل وهو المال لا مكان الفاعل. (البحر الرائق: ۸/۱۷۵، كوئته).
(۲) جدید موقف کے ساتھ مناقشہ:
دورِ حاضر کے بعض مفتیانِ کرام مثلاً مفتی محمد تقی عثمانی صاحب، مفتی شبیر احمد مراد آبادی صاحب، مفتی احمد خانپوری صاحب، مفتی عمر فاروق دیسائی صاحب لندن مد ظلہم العالیہ اور بعض دیگر حضرات کا موقف یہ ہے کہ "جس شخص پر قربانی واجب ہے، اس کا وجوب ادا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے ہاں یوم النحر کی صبح طلوع ہو چکی ہو، ورنہ قربانی درست نہیں ہو گی ۔
دلیل: وہ حضرات فرماتے ہیں کہ غنا فقط شرطِ وجوب ہے اور اصل نفس وجوب کا سبب وقت ہے جو کہ یوم النحر کی صبح طلوع ہونے سے شروع ہو کر بارہویں کے غروب تک رہتا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یوم النحر کی صبح طلوع ہونے سے قبل قربانی کا وجوب ہی نہیں آیا، لہذا غنی شخص جس طرح اپنے مقام پر قبل طلوعِ یوم النحر قربانی نہیں کر سکتا اسی طرح بذریعہ وکیل کسی دوسرے مقام پر (جہاں یوم النحر کی صبح طلوع ہو چکی ہو) بھی قربانی نہیں کرا سکتا ۔
الجواب: (۱) غنا کو شرطِ وجوب کہا گیا ہے کما فی کتب الفقہ و ہو الصحیح ۔ مگر حضراتِ مفتیانِ کرام اسے اہلیت وجوب یعنی اصل وجوب کی شرط کے بجائے فقط شرطِ وجوبِ ادا سمجھ رہے ہیں، اور وقت کو وجوبِ اضحیہ کی علت قرار دے رہے ہیں، حالانکہ جمیع فقہاء کے نزدیک وجوبِ اضحیہ کی علت قدرت علی النصاب ہے ۔
(۳) جدید موقف کا مفسدۂ عظیم ۔ اس جدید موقف پر عمل درآمد ہونے میں امت کے حرج و تنگی اور پریشانی میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہے ۔ کیوں کہ یہ مسئلہ فقط مغربی ممالک کی قربانیاں مشرقی ممالک میں انجام دینے کا نہیں ہے بلکہ دنیا کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں ایک جگہ کی قربانی دوسری جگہ کرنے سے متعلق ہے، اور دوسری طرف شمسی اوقات کے اعتبار سے ملک کے مختلف صوبوں اور صوبہ کے مختلف ضلعوں میں صبح صادق اور غروبِ آفتاب وغیرہ کے اوقات میں تفاوت ہونا بالکل مسلم اور قطعی ہے ۔
اب جب من علیہ الاضحیہ کے یہاں صبح صادق سے پہلے اس کی طرف سے دوسری جگہ میں کی گئی قربانی بھی کالعدم قرار دی جائے اور یہ کہا جائے کہ شہری آدمی کی قربانی دیہات میں تب ہی ہو سکتی ہے جب کہ شہر میں فجر طلوع ہو چکی ہو تو اس کا مفسدہ اور حرج کسی پر مخفی نہیں رہے گا ۔
نیز افریقہ، امریکہ، برطانیہ وغیرہ اور ممالکِ عربیہ کے مالداروں کی قربانیوں کا سلسلہ ہند و پاک اور بنگال وغیرہ ایشیائی و غیر ایشیائی ملکوں میں زمانہ قدیم سے جاری اور لوگوں میں رائج ہے پس اہل مغرب کی طرف سے مشرقی ملک کے کسی شہری یا دیہات میں رہنے والا مالدار یا غریب جو قربانی کا وکیل ہوتا ہے اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ موکل کون ہے؟ کہاں رہتا ہے؟ اگر اجمالاً معلوم ہو تو اسے اپنے موکل کے ملک میں اوقات کا تفاوت معلوم نہیں ہوتا، اگر ملکی پیمانہ پر اوقات کا فرق معلوم بھی ہو تب بھی صبح صادق وغیرہ اوقات کا واقعی علم نہیں ہوتا، اور ان اوقات کا معلوم کرنا ہر ایک کے لیے یقیناً دشوار اور مشکل ہے ۔
(٤) جدید موقف میں متواتر عمل کا بطلان: ۔ اس جدید موقف کا دوسرا مفسدہ یہ ہے کہ اطرافِ عالم سے ہدی یا رقم بھیج کر حرم میں کی جانے والی قربانیوں کا ایک سلسلہ جو خیر القرون سے عملاً چلا آ رہا ہے جب ان کے اور حرم میں ذبح کے وقت میں کثیر تفاوت پایا جاتا ہے، بلکہ عموماً تاریخ کا بھی فرق ہوتا ہے تو اس سے امت کے اس قدرِ مشترک متواتر عمل کا باطل ہونا لازم آئے گا، حالانکہ اصولِ شرعی کی روشنی میں امت کا یہ عمل بالکل بر حق ہے ۔
ہمارے دار الافتاء کا موقف:
ہمارے دار الافتاء سے یہ مسئلہ چند بار لکھا گیا، آخری مرتبہ میں جو لکھا گیا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وکالت میں وکیل کے زمان و مکان کا اعتبار ہوتا ہے، موکل کے زمان و مکان سے قطع نظر کرتے ہوے جب وکیل کے ہاں وقت ہو جائے تو وہ موکل کی طرف سے قربانی کر سکتا ہے، جس طرح کسی معذور یا مریض کی طرف سے حج بدل میں وکیل سعودیہ کی تاریخ کے مطابق عرفہ، مزدلفہ اور دیگر افعالِ حج انجام دیگا اگر چہ ہندوستان یا پاکستان میں یہ ایام ایک یا دو دن بعد میں آ جائیں، اس کے باوجود یہ تمام افعال درست ہوں گے ۔
اسی طرح اگر کسی دوسرے کو نکاح کا وکیل بنایا اور اس نے نکاح منعقد کر لیا تو نکاح کے منعقد ہونے کے لیے ایجاب و قبول کی مجلس کا اتحاد ضروری ہے، لیکن وکیل کی مجلس کا اعتبار ہے موکل کی مجلس کا اعتبار نہیں ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:
وكل وكيلاً بأن يذبح شاة له وخرج إلى السواد فأخرج الوكيل الأضحية إلى موضع لا يجد من المصر وذبحها هناك فإن كان الموكل في السواد جازت الأضحية وإن كان عاد إلى المصر وعلم الوكيل بقدومه لم تجز الأضحية عن الموكل بلا خلاف وإن لم يعلم بعود الموكل إلى المصر فكذا عن محمد وعند أبي يوسف يجوز وهو المختار. (البحر الرائق: ۸/۱۷٦، كوئته). (وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۲۹۷، والفتاوى التاتارخانية: ۱۷/٤۲۳، وخلاصة الفتاوى: ٤/۳۱۳).
اس مسئلہ سے متعلق فقہاء کی عبارت سے واضح اور بے غبار استدلال: ۔
فقہاء رحمہ اللہ نے تحریر فرمایا ہے کہ اگر شہری جلدی قربانی کرنا چاہتا ہو تو کسی گاؤں میں بھیج دے، دیہاتی شخص صبح ہوتے ہی فوراً جانور ذبح کر لے تو قربانی درست ہے، اس میں یہ مذکور نہیں کہ شہری آدمی کی قربانی دیہات میں تب ہو سکتی ہے جب شہر میں فجر طلوع ہو چکی ہو ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں مذکور ہے:
وحيلة المصري إذا أراد التعجيل أن يبعث بها إلى خارج المصر، فيضحي بها كما طلع الفجر. (الهداية: ٤/٤٦٦).
مثلاً اگر کوئی شخص جوہانسبرغ سے ۲، ٤ گھنٹہ کے فاصلہ پر جانبِ مشرق میں واقع کسی دیہات میں اپنی قربانی بھیج دے تو وہاں تقریباً ۱۰، ۱۵ منٹ پہلے ہی صبح صادق ہوتی ہے اور دیہات والا صبح ہوتے ہی جانور ذبح کر دے تو فقہاء کے کلام کی روشنی میں یہ قربانی درست ہے، جب کہ جدید موقف کی روشنی میں ابھی جوھانسبرغ میں مقیم شخص پر قربانی کا وجوب ہی نہیں آیا تو اس کی طرف سے قربانی کیسے درست ہو گی؟
آنحضرت ﷺ کی تاریخِ وفات سے استشہادِ لطیف:
حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے "الطرائف و الظرائف" (ص
۱۲۸
) میں تحریر فرمایا ہے کہ حضور ﷺ کی وفات والے سال مکہ مکرمہ کی تاریخ مدینہ منورہ سے ایک دن آگے تھی ۔ ملاحظہ ہو:
فائدة تاريخية تتعلق بتاريخ وفاة النبي ﷺ. [عن جمع الوسائل في شرح الشمائل للقاري الحنفي رحمه الله] باب ما جاء في وفاة رسول الله ﷺ
إلى قوله: وحله أن يقال يحتمل اختلاف أهل مكة والمدينة في رؤية هلال ذي الحجة، عند أهل مكة يوم الخميس وعند أهل مدينة يوم الجمعة وكان وقوف عرفة واقعاً برؤية أهل مكة ولما رجع إلى المدينة اعتبروا التاريخ برؤية أهل المدينة وكان الشهور الثلاثة كوامل فيكون أول ربيع الأول يوم الخميس ويوم الاثنين الثاني عشر منه، هذا، انتهي.
مذکورہ بالا اختلافِ تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ۹ ھ میں حضرت ابو بکر صدیق رضي اللہ عنہ کے ساتھ آپ ﷺ نے قربانیاں بھیجی تھیں، اس وقت بھی اہل مکہ کے ایک دن آگے ہونے کا امکان ہو سکتا تھا، اس کے باوجود آپ ﷺ کا ایک دن تاخیر سے قربانی کرنے کی ہدایت دینا کہیں ثابت نہیں ہے ۔ اس سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے وکیل اور اضحیہ کی جگہ کا اعتبار فرمایا ہو گا ۔
الغرض اس پوری تحقیق کا خلاصہ اور ماحصل یہ ہے کہ ذبح اضحیہ کے سلسلہ میں متواتر عمل عین شرع کے مطابق ہے ۔ "
وهو أن المعتبر في الأضحية مكان الأضحية، لا من عليه الأضحية".
پس افریقہ، برطانیہ، امریکہ وغیرہ ممالک مغربیہ کے باشندوں کی قربانی مشرقی ملکوں میں یہاں کے وقت کے اعتبار سے بالکل صحیح اور تصریحاتِ فقہیہ کے بالکل مطابق ہے ۔
حضرت مفتی سید عبد الرحیم صاحب کا فتوی ملاحظہ فرمائیں:
سوال: بھائی عبد الرشید نے مدراس سے یہاں (حیدر آباد میں ) قربانی کرنے کو لکھا ہے وہاں عید پیر کو ہے اور یہاں اتوار کو، ان کی قربانی ہم یہاں اتوار کو کر سکتے ہیں یا نہیں؟ یا پیر کو کرنا ہو گی؟
بينوا توجروا.
الجواب: قربانی کا جانور جس جگہ ہو اس جگہ کا اعتبار ہوتا ہے، قربانی کرنے والے کی جگہ کا اعتبار نہیں ہوتا، چنانچہ اگر قربانی والا شہر میں ہو اور وہ اپنا قربانی کا جانور ایسے گاؤں میں بھیج دے جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی اور وہاں صبح صادق کے بعد اس کی قربانی کا جانور ذبح کر دیا جائے تو اس شہر والے کی قربانی صحیح ہو جائے گی ۔
ہدایہ آخرین میں ہے:
والمعتبر في ذلك مكان الأضحية حتى لو كانت في السواد والمضحي في المصر يجوز كما انشق الفجر، ولو كان على العكس لا يجوز إلا بعد الصلاة وحيلة المصري إذا أراد التعجيل أن يبعث بها إلى خارج المصر فيضحي بها كما طلع الفجر. (الهداية: ٤/٤۳۰).
در مختار میں ہے:
والمعتبر مكان الأضحية لا مكان من عليه فحيلة مصري
(الدر المختار مع الشامي: ٦/۳۱۸، كتاب الأضحية، سعيد).
صورتِ مسئولہ میں عبد الرشید بھائی نے مدراس سے آپ کو حیدر آباد میں اپنی قربانی کرنے کے لیے لکھا ہے اور مدراس میں پیر کو عید الاضحی ہے اور آپ کے یہاں اتوار کو تو آپ بلا تکلف ان کی قربانی اتوار کو کر سکتے ہیں، ان کی قربانی صحیح ہو جائے گی ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۵
/٤
۱۸
) ۔
(نوٹ: فتاوی رحیمیہ مطبعہ مکتبۃ الاحسان دیوبند سے مفتی سعید پالن پوری صاحب کی تعلیق کے ساتھ شائع ہوئی ہے، اس میں حضرت مفتی سعید صاحب نے مسئلہ مذکورہ بالا ذکر کرنے کے بعد متن ہی میں بنامِ اضافہ دار العلوم دیوبند کا تفصیلی فتوی جدید موقف کی تائید میں حضرت مفتی صاحب کے فتوے کے خلاف مزید چند مفتیان کرام کے دستخط کے ساتھ شائع کر دیا ہے، جب کہ تعلیق حاشیہ میں ہوتی ہے متن میں حضرت مفتی عبد الرحیم صاحب کے فتوے کے ساتھ دیوبند کا تفصیلی فتوی ذکر کرنے کے کیا معنی؟ )
مفتی ظفیر الدین مفتی دار العلوم دیوبند کا فتوی ملاحظہ ہو:
الجواب: ہوالموفق ۔ قربانی جہاں کی جاتی ہے اس کا اعتبار ہوتا ہے لہذا ہندوستان میں قربانی ہو گی تو اسی ملک کی تاریخ ۱۰/۱۱/۱۲/ذی الحجہ کا اعتبار ہوگا اور انہی تاریخوں میں قربانی کی جائے گی ۔ افریقہ، لندن وغیرہ ملکوں کا اعتبار نہ ہوگا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ وکیل کا اپنے مقام کے اعتبار سے قربانی کرنا جائز اور درست ہے، اگر چہ عبادات میں احتیاط پر عمل کرتے ہوئے موکل کے ہاں ایام النحر شروع ہونے کا انتظار افضل اور اولی ہے، تاکہ موکل کی طرف سے قربانی کا وجوب باتفاقِ علماء ادا ہو جائے، کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے، نیز فقہاء کے ہاں قاعدہ ہے: "
الخروج من الخلاف مستحب"
۔ بنا بریں آئندہ احتیاط کی باگ تھامنا چاہیے، ہاں گزشتہ کی ہوئی قربانیوں کا اعادہ لازم نہیں ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.