بلا تعیین اپنی اور موکل کی طرف سے قربانی کا حکم:

1 min readFatwa Vol 6 #120Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

زید کے تین بیٹے باہر ممالک میں رہتے ہیں، تینوں صاحبِ حیثیت اور متمول ہیں، عید الاضحی سے پہلے تینوں نے مجھے قربانی کے لیے کہا، میں نے چار دنبے خریدے، ایک دنبہ اپنے لیے اور تین دنبے ان کے لیے، لیکن متعین نہیں کیے کہ یہ میرا ہے اور یہ تین متعین ہر ایک کے لیے ہیں، کیا یہ قربانیاں ہوئیں یا نہیں؟
بينوا توجروا.

Answer

شرعاً سب کی طرف سے قربانیاں صحیح ہو گئیں ۔
ملاحظہ ہو المحیط البرہانی میں ہے:

روي بشر بن الوليد عن أبي يوسف رحمه الله: في رجل له تسعة من العيال، وهو العاشر، فضحي بعشر من الغنم عن نفسه، وعن عياله، ولا ينوي شاة بعينها، لكن ينوي العشرة عنهم وعنه، جاز في الاستحسان، وهو قول أبي حنيفة رحمه الله. (المحيط البرهاني: ٦/٤۸۰، الفصل الخامس في بيان ما يجوز في الضحايا

، مكتبه رشيديه). (وكذا في الفتاوى الهندية ناقلاً عن المحيط: ۵/۳۰۰).

مزید حوالہ جات ما قبل میں گزر چکے ہیں وہاں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.