قربانی زائد قیمت پر فروخت کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 6 #114Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

ایک آدمی نے سات ہزار رینڈ میں قربانی خریدی اور یہ نیت کر لی کہ اس بڑے جانور میں دوسرے ساتھی مل جائیں تو شریک کر لوں گا اور ساتواں حصہ اپنے لیے رکھوں گا، اتفاق سے چھ آدمی مل گئے، اب اگر یہ آدمی بقیہ چھ حصے بجائے چھ ہزار کے ساتھیوں کو اس کی خرید قیمت سے زائد رقم میں فروخت کرے تو کیا یہ جائز ہوگا یا نہیں؟ مثلاً چھ حصے سات یا آٹھ ہزار میں فروخت کرے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

مسئلہ مذکورہ بالا سے متعلق کوئی صریح جزئیہ نظر سے نہیں گزرا تاہم ایک فقہی نظیر سے اس کا حکم مستفاد ہوتا ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے اور اگر کسی نے کر لیا تو زائد رقم صدقہ کر دے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی قاضيخان میں ہے:

ولو اشترى شاة للأضحية ثم باعها واشترى أخري في أيام النحر فهذه على وجوه ثلاثة؛ الأول: إذا اشترى شاة ينوى بها الأضحية

ففي الوجه الأول في ظاهر الرواية لا تصير أضحية ما لم يوجبها بلسانه وعن أبي يوسف رحمه الله عن أبي حنيفة رحمه الله أنها تصير أضحية بمجرد النية كما لو أوجبها بلسانه وبه أخذ أبو يوسف رحمه الله وبعض المتأخرين. (فتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۳/۳٤٦).
وفيه أيضاً: وإن اشترى شاة أخري بعد ما باع الأولي إن اشترى الثانية بجميع ثمن الأولي جاز ولا شيء عليه وإن اشترى الأخرى بأقل مما تباع الأولي يتصدق بما بقي عنده من ثمن الأولي. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۳/۳٤۷).

حضرت عروہ بارقی رضي الله عنه اور حضرت حکیم بن حزام
رضي الله عنه
کی روایت سے بھی پتا چلتا ہے کہ زائد رقم صدقہ کر دینی چاہیے ۔
ملاحظہ ہو سنن دار قطنی میں ہے:

عن حكيم بن حزام رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ أعطاه ديناراً يشتري به أضحية فاشترى أضحية بدينار فباعها بدينارين ثم اشترى أضحية بدينار وجاء ه بدينار وأضحية فتصدق النبي ﷺ بالدينار ودعا له بالبركة. (سنن الدارقطني، رقم: ۲۸).
وعن عروة البارقي رضي الله عنه أن النبي ﷺ أعطاه ديناراً يشتري به أضحية، أو شاة فاشترى شاتين، فباع إحداهما بدينار، فأتاه بشاة ودينار، فدعا له بالبركة في بيعه، فكان لو اشترى تراباً لربح فيه. رواه الخمسة إلا النسائي. (بلوغ المرام، رقم: ۸۱۹).

دونوں احادیث سے یہ بات مستفاد ہوتی ہے کہ قربانی کی نیت کے بعد نفع حاصل کیا اس وجہ سے آپ ﷺ نے صدقہ فرما دیا ۔ اگر چہ حضرت عروہ بارقی رضي اللہ عنہ کی روایت میں صدقہ کرنے کی تصریح نہیں ہے لیکن حضرت حکیم بن حزام رضي اللہ عنہ کی روایت میں صراحۃً مذکور ہے ۔
کفایت المفتی میں ہے:
قربانی کے جانور کو فروخت نہ کرنا چاہیے تھا اگر فروخت کر کے دوسرا کم قیمت کا خریدا تو جو نفع حاصل ہوا ہے اسے بھی خیرات کر دے ۔ (کفایت المفتی:
۸
/
۱۹۹
، دار الاشاعت) ۔
خلاصہ یہ ہوا کہ صورتِ مسئولہ میں خریدتے وقت چونکہ چھ کو شریک کرنے کی نیت تھی اس وجہ سے قربت کی نیت سے شریک تو کر سکتا ہے لیکن ان چھ حصوں کو کمائی کا ذریعہ نہیں بنا سکتا ۔ جب نفع کما لیا تو صدقہ کر دے ۔
فتاوی شامی میں ہے:

وإن نوى أن يشرك فيها ستة أجزأته لأنه ما أوجب الكل على نفسه بالشراء

(فتاوى الشامي: ٦/۳۱۷، و۲/٦۱۵، ط: سعيد).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

والبقرة والبعير يجزئ عن سبعة إذا كانوا يريدون به وجه الله تعالى

كذا في الخلاصة لا يشارك المضحي فيما يحتمل الشركة من لا يريد القربة رأساً فإن شارك لم يجز عن الأضحية وكذا هذا في سائر القرب إذا شارك المتقرب من لا يريد القربة لم تجز عن القربة ولو أرادوا القربة الأضحية أو غيرها من القرب أجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعاً

(الفتاوى الهندية: ۵/۳۰٤).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.