فقیر کا قربانی کے جانور کو تبدیل کرنے کا حکم:

5 min readFatwa Vol 6 #113Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

کسی فقیر نے یکم ذی الحجہ کو قربانی کا جانور خریدا، اس کے بعد کسی ضرورت سے اس کو فروخت کرنا چاہتا ہے، کیا اس جانور کو فروخت کر سکتا ہے یا نہیں؟ اور خریدنے کی وجہ سے اس پر قربانی لازم ہے یا نہیں؟

Answer

فقیر نے قربانی کا جانور اگر ایامِ نحر سے قبل خریدا تو اس کے تبدیل کرنے کی اجازت ہے، لیکن اگر ایامِ نحر میں خریدا تو اب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ کسی دوسرے کام میں استعمال کرنے کی اجازت ہے، ہاں واقعی کوئی شدید ضرورت پیش آ جائے تو ایامِ نحر میں خریدی ہوئی قربانی تبدیل کر سکتا ہے ۔
ملاحظہ ہو شرحِ عنایہ میں ہے:

قوله حتى وجب عليه أن يضحي بها بعينها في أيام النحر، أي فيما إذا كان المضحي فقيراً. (شرح العناية على هامش فتح القدير: ۸/٤۳۸، مكتبه رشيديه).
وفي الكفاية في شرح الهداية: قوله حتى وجب عليه أن يضحي بها بعينها في أيام النحر، هذا في نذر الغني وشراء الفقير. (الكفاية على هامش فتح القدير: ۸/٤۳۸، مكتبه رشيديه).

الدر المختار میں ہے:

وفقير شراها لها لوجوبها عليه بذلك حتى يمتنع عليه بيعها. وفي رد المحتار: قوله لوجوبها عليه بذلك، أي بالشراء وهذا ظاهر الرواية لأن شراء ه لها يجري مجري الإيجاب وهو النذر بالتضحية عرفاً كما في البدائع. ووقع في التاتارخانية التعبير بقوله شراها لها أيام النحر، وظاهره أنه لو شراها لها قبلها لا تجب ولم أره صريحاً فليراجع. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۲۱، سعيد).
وفي تقريرات الرافعي: قوله وهذا ظاهر الرواية، وفي خزانة الأكمل: أنه المختار، وعند الجمهور لا بد مع النية أن يقول بلسانه وأضحي بها. (التحرير المختار على رد المحتار: ٦/۳۰٤، سعيد).

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

وفي العتابية: المختار أن الفقير لو اشتراها بنية التضحية في أيام النحر تصير التضحية واجبة في حقه وإن لم يقل بلسانه شيئاً في جواب ظاهر الرواية هذا اختيار الصدر الشهيد وعليه الفتوى. (الفتاوى التاتارخانية: ۱۷/٤۱۱).
(وكذا في المحيط البرهاني: ٦/٤۷۲، مكتبه رشيديه).

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
اور اگر فقیر ایام نحر میں قربانی کی نیت سے کوئی جانور خریدے تو وہ متعین ہو جاتا ہے قربانی کے لیے لیکن اگر ایامِ نحر میں نہ خریدا تو بدلنا جائز ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند "عزیز الفتاوی":
۱
/
٦۸۵
، دار الاشاعت، کراچی) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
البتہ غریب (کہ جس پر قربانی واجب نہیں) بہ نیتِ قربانی ایامِ نحر میں قربانی کا جانور خریدے تو اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہو جاتی ہے، اس کو نہ بیچ سکتا ہے نہ بدل سکتا ہے ۔ شامی کی عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ ایامِ نحر سے قبل جانور قربانی کی نیت سے خریدا ہو تو اس جانور کی قربانی لازم نہ ہو گی، بدل سکتا ہے اور فروخت بھی کر سکتا ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۵
/
۳۹۹
، دیوبند) ۔ مزید ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی:
۷
/
۵۳۰
) ۔
البتہ شمس الائمہ حلوانی رحمہ اللہ اور شمس الائمہ سرخسی رحمہ اللہ کے نزدیک فقیر پر شراء سے قربانی واجب نہیں ہوتی، نیز اگر فقیر کے گھر کا بکرا ہے یعنی پالتو ہے یا خریدتے وقت قربانی کی نیت سے نہیں خریدا تو اس صورت میں بھی فقیر پر قربانی واجب نہیں ۔

قال العلامة الطوري رحمه الله في تكملة البحر الرائق: فلو قال كلاماً نفسياً لله على أن أضحي بهذه الشاة ولم يذكر بلسانه شيئاً فاشترى شاة بنية الأضحية إن كان المشتري

فقيراً ذكر شيخ الإسلام خواهر زاده في ظاهر الرواية تصير واجبة بنفس الشراء وروي الزعفراني عن أصحابنا لا تصير واجبة وأشار إليه شمس الأئمة السرخسي في شرحه وإليه مال شمس الأئمة الحلواني في شرحه وقال: إنه ظاهر الرواية ولو صرح بلسانه والمسألة بحالها تصير واجبة بشراء نية الأضحية إن كان المشتري فقيراً. (البحر الرائق: ۸/۱۷۵، ط: كوئته).
(وكذا في خلاصة الفتاوى: ٤/۳۱۸، وبدائع الصنائع: ۵/٦٦، سعيد، والفتاوى الهندية: ۵/۲۹۱).

فتاوی الشامی میں ہے:

فلو كانت في ملكه فنوى أن يضحي بها أو اشتراها ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك لا يجب لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر. (فتاوى الشامي: ٦/۳۲۱، سعيد).
(وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۲۹۱، والبحر الرائق: ۸/۱۷۵، كوئته).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.