قربانی کا جانور خریدنے کے بعد شرکت کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #115Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

چھ آدمیوں نے قربانی کی نیت سے گائے خریدی پھر ایک بڑھیا نے منت سماجت کی کہ مجھے بھی شریک کر لو، کیا گائے خریدنے کے بعد اس کو شریک کر سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

اگر خریدنے کے وقت یہ نیت ہو کہ ایک اور کو شریک کریں گے تو بغیر کراہت کے جائز ہے اور پہلے سے نیت نہ ہو تو جائز ہے لیکن خلافِ اولی ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی قاضيخان میں ہے:

رجل اشترى بدنة وأوجبها أضحية بلسانه ثم اشترك فيها ستة جملة أو واحداً بعد واحد حتى صاروا سبعة في القياس لا يجوز الاشتراك ولو فعل ذلك وضحوا بها يكون لحماً وهو قول زفر رحمه الله وفي الاستحسان يجوز وهو قول علمائنا رحمهم الله تعالى وإذا جاز عندنا لا يجب التصدق بشيء من الثمن. (فتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۳/۳۵۰).

بدائع الصنائع میں ہے:

ولو اشترى رجل بقرة يريد أن يضحي بها ثم أشرك فيها بعد ذلك قال هشام: سألت أبا يوسف رحمه الله فأخبرني أن أبا حنيفة رحمه الله قال: أكره ذلك ويجزيهم أن يذبحوها عنهم قال: كذلك قول أبي يوسف رحمه الله

وقال في الأصل أرأيت في رجل اشترى بقرة يريد أن يضحي بها عن نفسه فأشرك فيها بعد ذلك ولم يشركهم حتى اشتراها فأتاه إنسان بعد ذلك فأشركه حتى استكمل يعني أنه صار سابعهم هل يجزئ عنهم قال: نعم، استحسن وإن فعل ذلك قبل أن يشتريها كان أحسن وهذا محمول على الغني. (بدائع الصنائع: ۵/۷۲، سعيد).
وللاستزادة انظر: (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۳۱۷، سعيد، والهداية: ٤، كتاب الأضحية، ومجمع الأنهر: ٤/۱٦۹).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
ایسا کرنے سے بھی قربانی ادا ہو جائے گی، لیکن بہتر یہ ہے کہ جانور خریدنے سے پہلے چھ شریک اور تلاش کر لے، جب ساتواں شریک ہو جائیں تب جانور خریدے، مجمع الانہر ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۷
/٤
۰۰
، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.