بیعِ فاسد سے خریدی ہوئی بکری کی قربانی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #123Urdu
Vol. 6كتاب الصيد والذبائحباب (۳): أحكام الأضحية

Question

ایک شخص قربانی کا جانور خریدتا ہے بائع غیر مسلم کہتا ہے کہ ٹھیک ہے مگر قیمت اس وقت لگاؤں گا جب جانور کاٹ آ جائے اور پھر گوشت کا وزن کیا جائے، اس وزن کے اعتبار سے قیمت لوں گا، مشتری بھی تیار ہو گیا، اور جانور خرید کر قربانی کر لی تو کیا قربانی صحیح ہوئی یا نہیں؟ جب کہ یہ بیع بظاہر صحیح نہیں ہوئی ۔ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ چونکہ بیع میں ثمن متعین نہیں کیا اس وجہ سے یہ بیع فاسد ہو گئی، اور بیع فاسد کا حکم یہ ہے کہ جب تک مبیع موجود ہو اس کو واپس کیا جائے، لیکن مبیع ہلاک ہونے کی صورت میں مشتری کے قبضہ کی وجہ سے مشتری مالک بن گیا اور قربانی بھی درست ہو گئی، البتہ قیمتِ مثل واجب ہو گی ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

وأما الثالث: وهو شرائط الصحة

(منها) معلومة المبيع ومعلومة الثمن بما يرفع المنازعة فلا يصح بيع شاة من هذا القطيع وبيع الشيء بقيمته. (فتاوى الشامي: ٤/۵۰۵، سعيد).

شرحِ مجلہ میں ہے:

تسمية الثمن حين البيع لا زمة، فلو باع بدون تسمية الثمن كان البيع فاسداً وذلك لأن مطلق البيع يقتضي المعاوضة فإذا سكت عن بيان الثمن كان غرضه القيمة فكأنه باع بقيمته فيفسد. (شرح المجلة، ص ۱۲۲، لسليم رستم باز).
وفيه أيضاً: البيع الفاسد يصير نافذاً عند القبض الواقع بإذن البائع صراحة أو دلالة ولم ينهه البائع عنه. يعني أن تصرف المشتري في المبيع يصير جائز اً حينئذٍ. (شرح المجلة، ص ۲۰٤، لسليم رستم باز).
وفيه أيضاً: البيع الفاسد يفيد الحكم عند القبض يعني أن المشتري إذا قبض المبيع بإذن البائع صار مالكاً له. (شرح المجلة، ص ۲۰۷).

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

وفي الظهيرية: رجل اشترى شاة شراء فاسداً، فذبحها عن الأضحية جاز، فإن ضمنه قيمتها حية فلا شيء على المضحي. (الفتاوى التاتارخانية: ۱۷/٤٤٦، ط: ديوبند).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصل دوم
قربانی کے جانوروں سے متعلق احکام

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.