کھانے میں انڈے کے چھلکے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 6 #224Urdu
Vol. 6كتاب الحظر والإباحةباب (۱): أحكام الأكل والشرب

Question

پکاتے وقت انڈے کا چھلکا برتن میں گر گیا اور چھلکے کو فوراً نکال دیا اور انڈے کو کھا لیا، کیا ایسے انڈے کا کھانا صحیح ہے؟ یاد رہے کہ چھلکا بالکل صاف تھا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ انڈے کا کھانا درست ہے، کیوں کہ انڈے کا چھلکا پاک ہے، ہاں اگر اس پر کوئی ظاہری نجاست ہو تو تھوڑے پانی میں گرنے سے پانی ناپاک ہو جائے گا۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

البيضة الرطبة أو السخلة إذا وقعت من الدجاجة أو الشاة في الماء لا تفسده. (فتاوى الشامي: ۱/۲۱۲، فصل في البئر، سعيد).

فتاوی قاضيخان میں ہے:

بيضة سقطت من الدجاجة في مرقة أو ماء لا يفسد ذلك الماء. (فتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۱/۱۲، فصل فيما يقع في البئر).

نفع المفتی و السائل میں ہے:

الاستفسار: البيضة إذا وقعت من الدجاجة وهي رطبة فوقعت في المرقة، هل تنجس؟ الاستبشار: لا تنجس،

الخ. (نفع المفتي والسائل، ص ۹٤). (وكذا في الفتاوى البزازية على هامش الفتاوى الهندية: ٤/۲۲).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.